کرونا وائرس پھیپھڑوں پر حملہ کرے تو وینٹی لیٹر بھی نہیں بچا پاتا،خواتین ڈاکٹر زنے موذی مرض کے سنگین خطرے سے آگاہ کر دیا

کرونا وائرس پھیپھڑوں پر حملہ کرے تو وینٹی لیٹر بھی نہیں بچا پاتا،خواتین ...
کرونا وائرس پھیپھڑوں پر حملہ کرے تو وینٹی لیٹر بھی نہیں بچا پاتا،خواتین ڈاکٹر زنے موذی مرض کے سنگین خطرے سے آگاہ کر دیا

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)شہر قائد کی خواتین ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ اس وقت ہمیں سمارٹ لاک ڈاؤن کی بجائے مکمل لاک ڈاؤن کی بات کرنی چاہئے،زندگی سے بڑھ کر کسی چیز کی اہمیت نہیں، کرونا وائرس پھیپھڑوں پر حملہ کرے تو وینٹی لیٹر بھی نہیں بچاپاتا، مریض تشویش ناک حالت میں آتے ہیں، ٹیسٹ بعد میں مثبت آتا ہے،حکومت کو نئے ایس او پیز بنانے پڑیں گے۔

نجی ٹی وی کے مطابق کرونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر کراچی کی معروف خواتین ڈاکٹرز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز مرنا شروع ہوگئے تو مریضوں کو کون دیکھے گا، ہمارے پاس اتنی ٹیسٹنگ کٹس نہیں کہ سب کے ٹیسٹ کرسکیں، لوگوں سے درخواست ہے گھروں میں رہیں اور فاصلہ رکھیں۔ڈاکٹر نصرت شاہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کورونا میں مبتلا ہوئے تو مریضوں کو بچانے والے کوئی نہیں ہوگا، کورونا کے کچھ ایسے مریض آتے ہیں جو مرنے والا ہوتا ہے ڈاکٹر نصرت شاہ نے کہا کہ خدارا ہمارا ساتھ دیں، ڈاکٹرز پر دبا بڑھتا جارہا ہے، سندھ حکومت نے سب سے پہلے لاک ڈاؤن کیا، لوگ ساتھ نہیں دے رہے ہیں، یہ وائرس جلدی ختم ہونے والا نہیں، باہر نکلنا ہے تو حفاظت سے نکلیں۔انہوں نے کہا کہ یہ وائرس اجتماعات میں پھیلتا ہے، سماجی فاصلے پر عمل کریں، ڈاکٹرز کوشش کررہے ہیں کہ ٹیلی کلینک شروع کریں، کرونا سے تبلیغی جماعت کے لوگ بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں، کسی ایک کو وائرس ہوگا لیکن تبلیغی جماعت کے بہت سے لوگ متاثر ہوگئے۔ پریس کانفرنس میں موجودڈاکٹر صفیہ کا کہنا ہے کہ کرونا کی صورتحال کنٹرول ہونے کے بعد دکانیں کھولی جائیں، سڑکوں رش بہت زیادہ ہے یہ صورتحال خطرناک ہے، اللہ نہ کرے اٹلی اور سپین جیسی صورتحال ہو، اسپین، اٹلی میں ڈاکٹرز کو مجبورا فیصلہ کرنا پڑرہا تھا کس کا علاج کریں کس کا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ڈیڑھ ماہ احتیاط کرلی تو کرونا سے نجات مل سکتی ہے، ڈاکٹرز کسی جوان کی موت کو دیکھتے ہیں تو بہت افسوس ہوتا ہے، تمام افراد کو ماسک لازمی پہننا چاہئے۔

ڈاکٹر شہلا نے کہا کہ اب تک کی رپورٹ کے مطابق 246ڈاکٹرز کرونا سے متاثر ہوئے ہیں، موجودہ صورتحال میں ریاست کی رٹ پر عملدرآمد کرانا حکومت کا کام ہے۔ڈاکٹر رضیہ کا کہنا ہے کہ ہم یہاں سیاست کرنے نہیں آئے ہیں، ہمیں تو پتا ہی نہیں اب تک کتنے لوگوں کو کرونا ہوچکا ہے، پاکستان کے عوام سے کہتی ہوں خدارا اپنے گھروں میں رہیں، عوام کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں، حکومت کی بات مان لیں، بے جا گھروں سے باہر نہ نکلیں، اپنے گھر والوں کا خیال کریں، تمام لوگ گھروں میں رہیں تاکہ کرونا پر قابو پایا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا پھیپھڑوں پر حملہ کرے تو وینٹی لیٹربھی نہیں بچا پاتا، ڈاکٹرز کوشش کررہے ہیں کہ ٹیلی کلینک شروع کریں۔

مزید :

کورونا وائرس -