چینی بحران ،مسلم لیگ ن نےایسا قدم اٹھا لیا کہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی پریشانی کی حد نہ رہے گی

چینی بحران ،مسلم لیگ ن نےایسا قدم اٹھا لیا کہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی ...
چینی بحران ،مسلم لیگ ن نےایسا قدم اٹھا لیا کہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی پریشانی کی حد نہ رہے گی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چینی کے بحران پر قائم انکوائری کمیشن کے چیئرمین وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کے چیئرمین واجد ضیا کو بحران سے متعلق شواہد فراہم کرنے کے لیے خط لکھا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما  شاہد خاقان عباسی کی جانب سے چیئرمین ایف آئی اے واجد ضیا کو لکھے جانے والے خط میں کہا ہے کہ انکوائری کمیشن کو چینی کی قیمتوں میں اضافے اور بدانتظامی کے شواہد فراہم کرنا چاہتے ہیں،پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے سیکشن 9 کے تحت کوئی بھی شہری معلومات فراہم کرنے کا مجاز ہے،قانون کے تحت کوئی بھی شہری زیر تحقیق معاملے سے متعلق شواہد ودستاویزات فراہم کرنے کا حق رکھتا ہے لہذا کمیشن شواہد کی فراہمی کے لیے جگہ اور وقت کا تعین کرے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں سابق وزیر تجارت خرم دستگیر خان کے ہمراہ کمیشن کے سامنے پیش ہوکر انصاف کے مفاد میں اس معاملے میں ہونے والی کرپشن اور مس گورننس سے متعلق معلومات فراہم کرنا چاہتا ہوں۔

یاد رہے کہ ملک میں چینی کے بحران کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ 4 اپریل کو عوام کے سامنے پیش کی گئی تھی جس کے بعد وزیر اعظم عمران نے عوام کو یقین دہانی کروائی تھی کہ اعلی سطح کے کمیشن کی جانب سے آڈٹ رپورٹ کا تفصیلی نتیجہ آنے کے بعد گندم اور چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ بھی یاد رہے کہ چینی کے بحران پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے۹کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی کی برآمد اور قیمت میں اضافے سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں کے نام بھی سامنے لائے گئے ہیں جس کے مطابق اس کا سب سے زیادہ فائدہ جے ڈی ڈبلیو (جہانگیر خان ترین) کو ہوا اور اس نے مجموعی سبسڈی کا 22 فیصد یعنی 56 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کیا۔رپورٹ کے مطابق اس کے بعد سب سے زیادہ فائدہ آر وائی کے گروپ کو ہوا جس کے مالک مخدوم خسرو بختیار کے بھائی مخدوم عمر شہریار خان ہیں اور انہوں نے 18 فیصد یعنی 45 کروڑ 20 روپے کی سبسڈی حاصل کی۔

؂اس گروپ کے مالکان میں چوہدری منیر اور مونس الہی بھی شامل ہیں جبکہ اس کے بعد تیسرے نمبر پر زیادہ فائدہ المعیز گروپ کے شمیم احمد خان کو 16 فیصد یعنی 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی صورت میں ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ شمیم احمد خان کی ملکیت میں موجود کمپنیوں نے گزشتہ برس چینی کی مجموعی پیداوار کا 29.60 فیصد حصہ برآمد کیا اور 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی سبسڈی حاصل کی۔کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق رواں سال گنے کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں درحقیقت ایک فیصد زیادہ ہوئی، پچھلے سال کے مقابلے میں کم رقبے پر گنے کی کاشت کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ برآمد کنندگان کو 2 طرح سے فائدہ ہوا، پہلا انہوں نے سبسڈی حاصل کی دوسرا یہ کہ انہوں نے مقامی مارکیٹ میں چینی مہنگی ہونے سے فائدہ اٹھایا جو دسمبر 2018 میں 55 روپے فی کلو سے جون 2019 میں 71.44 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔ملک میں چینی کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں 2018 میں چینی کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے اور اس کے نتیجے میں پنجاب کی جانب سے 3 ارب روپے کی سبسڈی دینے کو بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2018 میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو اس وقت میں ملک میں چینی ضرورت سے زیادہ تھی، اس لیے مشیر تجارت، صنعت و پیداوار کی سربراہی میں شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی) نے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی سفارش کی جس کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)نے بھی منظوری دی، حالانکہ سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی نے اگلے سال گنے کی کم پیداوار کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔تاہم چینی کی برآمد کی اجازت دے دی گئی اور بعد میں پنجاب حکومت نے اس پر سبسڈی بھی دی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری سے مئی 2019 تک پنجاب میں چینی کی برآمد پر سبسڈی دی جاتی رہی، اس عرصے میں مقامی مارکیٹ میں چینی کی فی کلو قیمت 55 روپے سے بڑھ کر 71 روپے ہوگئی، لہذا چینی برآمد کرنے والوں کو دو طریقوں سے فائدہ ہوا۔تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایک یہ کہ انہوں نے 3 ارب روپے کی سبسڈی حاصل کی جبکہ مقامی مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کا بھی انہیں فائدہ ہوا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -