فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم دینے کیخلاف اپیلوں پر سماعت،سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کی نقول طلب کرلیں

فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم دینے کیخلاف اپیلوں پر سماعت،سپریم ...
فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم دینے کیخلاف اپیلوں پر سماعت،سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کی نقول طلب کرلیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہاکہ رہا ہونے والے ملزمان کی تفصیلات جمع کرا دی ہیں،سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کی نقول طلب کرلیں،اعتراز احسن اور دیگر وکلا نے فیصلے ریکارڈ پر لانے کی استدعا کردی، وکلا نے کہاکہ 20ملزمان کی حد تک جو فیصلے سنائے گئے ریکارڈ پر لائے جائیں،عدالت نے کہا کہ ہم ان سے فیصلوں کی نقول مانگ لیتے ہیں،جسٹس شاہد وحید نے کہاکہ ہمیں پتہ تو چلے ٹرائل میں کیا طریقہ کار اپنایا گیا۔

نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6رکنی بنچ نے سماعت کی،بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہاکہ ایک بچے کو ٹرائل کئے بغیر سزایافتہ کیا گیا وہ اب چھپتا پھر رہا ہے،اٹارنی جنرل کی جو پر فیکشن ہوتی ہے وہ اس کیس میں نظر نہیں آئی،جسٹس امین الدین نے استفسار کیا آپ جس کی بات کررہے ہیں وہ اٹارنی جنرل کی جمع فہرست میں ہے؟اعتزاز احسن نے کہاکہ وہ اس فہرست میں شامل ہے، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا رہا ہونے والے ملزمان کیخلاف اب کوئی کیس نہیں؟اعتزاز احسن اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے کہا ان ملزمان کو سزایافتہ کرکے گھر بھیج دیا گیا،اٹارنی جنرل نے کہاکہ عید پر 20ملزمان رہا ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں،متفرق درخواست کے ذریعے رہائی پانے والوں کی تفصیل جمع کرائی ہے،حامد خان نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ بار کی جانب سے فریق بننے کی درخواست دائر کی گئی تھی،جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ جتنی فریق بننے کی درخواستیں آئی ان کو بعد میں دیکھیں گے،پہلے اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ رہا ہونے والے ملزمان کی تفصیلات جمع کرا دی ہیں،سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کی نقول طلب کرلیں،اعتراز احسن اور دیگر وکلا نے فیصلے ریکارڈ پر لانے کی استدعا کردی،وکلا نے کہاکہ 20ملزمان کی حد تک جو فیصلے سنائے گئے ریکارڈ پر لائے جائیں،عدالت نے کہا کہ ہم ان سے فیصلوں کی نقول مانگ لیتے ہیں،جسٹس شاہد وحید نے کہاکہ ہمیں پتہ تو چلے ٹرائل میں کیا طریقہ کار اپنایا گیا۔

سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے بنچ پر اعتراض اٹھا دیا،وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ 9رکنی بنچ کی تشکیل کیلئے معاملہ دوبارہ ججز کمیٹی کو بھیجاجائے۔