نکاح نامے کی شرائط و ضوابط میں ابہام یا شک ہو تو فائدہ بیوی کو ملے گا،سپریم کورٹ

نکاح نامے کی شرائط و ضوابط میں ابہام یا شک ہو تو فائدہ بیوی کو ملے گا،سپریم ...
نکاح نامے کی شرائط و ضوابط میں ابہام یا شک ہو تو فائدہ بیوی کو ملے گا،سپریم کورٹ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نکاح نامے میں شرائط و ضوابط طے کرنے سے قبل دلہن کو رضامندی ظاہر کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے، سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کردیا ۔

جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دس صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اطہر من اللہ نے تحریر کیا ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ  اگر نکاح نامے کی شرائط و ضوابط یا کسی انٹری یا کالم میں ابہام یا شک ہو تو اس کا فائدہ بیوی کو ملے گا، اگر دلہن کی بامعنی مشاورت کے بغیر نکاح نامے کے کالمز کوئی اور پُر کرے تو اسے دلہن کے مفاد کیخلاف یا اُسکے حقوق کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا، یہ طے شدہ قانون ہے کہ معاہدے میں کوئی ابہام ہو تو اسے فریقین کے اصل ارادے سے طے کیا جاتا ہے، عدالتوں کو نکاح نامے کی شرائط و ضوابط کی تشریح کرنے سے قبل اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ کیا نکاح نامے میں شرائط و ضوابط طے کرنے سے قبل دلہن کو رضامندی ظاہر کرنے کی مکمل آزادی تھی، کسی ابہام کو اُس وقت تک اہلیہ کیخلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا جب تک امکانات کے توازن کے اس اصول پر جانچا نہ جائے۔