سعودیہ واپسی کا بگل بج گیا، میں بھی اداس تھا اور گھر والے بھی، ماں کی قدم بوسی کیلیے قبرستان چلا گیا،دل چاہا چیخ چیخ کر کہوں دیکھو میرے پاس سب آگیا ہے

 سعودیہ واپسی کا بگل بج گیا، میں بھی اداس تھا اور گھر والے بھی، ماں کی قدم ...
 سعودیہ واپسی کا بگل بج گیا، میں بھی اداس تھا اور گھر والے بھی، ماں کی قدم بوسی کیلیے قبرستان چلا گیا،دل چاہا چیخ چیخ کر کہوں دیکھو میرے پاس سب آگیا ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:250
جب سال گزرتے پتہ نہیں لگا تو یہ تو ایک ڈیڑھ مہینہ ہی تھا، ابھی اچھی طرح مزہ آنا بھی شروع نہیں ہوا تھا کہ سعودیہ واپسی کا بگل بج گیا۔ میں بھی اداس تھا اور گھر والے بھی لیکن جانے والے کو جانا تھا،سو چلا گیا۔ہاں حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس دن بھی اپنی ماں کی بہت یاد آئی جو ایسے موقعوں پر مجھے چھوڑنے دور تک آیا کرتی تھی۔ بس سٹاپ تک پہنچنے کا راستہ بھی بدل چکا تھا اور اب گاؤں کا قبرستان راستے میں نہیں پڑتا تھا، اس لیے خاص طور ماں کی قدم بوسی کے لیے وہاں چلا گیا۔ میرا دل چاہا کہ چیخ چیخ کر کہوں کہ ماں دیکھواب میرے پاس سب کچھ آگیا ہے، میں آپ کو بڑی خوشیاں دے سکتا ہوں آپ نے جو تنگدستی جھیلی تھی اس کا مداوا اب ہے میرے پاس۔ اب آپ کو پیوند لگے کپڑے نہیں پہننے پڑیں گے، آپ کا علاج بھی اچھی طرح سے ہو جائے گا۔ لیکن تلخ حقیقت بہرحال یہی تھی کہ یہ سب کچھ ملا تو سہی مگربڑی دیر سے ملااور میں حسب تمنا اپنی ماں کی کوئی خدمت نہ کر سکا۔ جس کا قلق مجھے تا حیات رہے گا بلکہ اوپر جا کر بھی نظریں ان کے سامنے جھکی رہیں گی۔
پکّاپکّا سعودی عرب
جہاز میں دو پروازیں کر لینے کے بعد اب میں ہوائی سفر کا ”عادی“ ہو گیا تھا اس لیے بڑے اعتماد اور فخر سے جہاز میں اس طرح چوڑا ہو کر بیٹھتا تھا جیسے بچپن سے ہی گدھا گاڑی کے بجائے اپنا آنا جانا جہاز سے ہی ہوتا رہا تھا۔
اس دن ایک پٹھان نوجوان نے جو پہلی دفعہ جہاز میں بیٹھا تھا مسافروں کے لیے تفریح کا ایک موقع فراہم کیا، جیسے ہی جہاز نے اڑان بھری، پہلے تو وہ خوفزدہ ہو کر یکدم سرد اور پھر زرد ہو گیا، اس نے بے تحاشہ چیخیں ماریں، اور نشست سے اٹھ اٹھ کر بھاگنا چاہا، عملے نے اس کو پکڑ کر دوبارہ سیٹ بیلٹ سے باندھ دیا۔ آس پاس بیٹھے لوگوں نے اس کو تسلی دی اور اس کی طرف کی کھڑکیاں بند کر دیں اور وہ قدرے شانت ہو گیا۔ پھر وہ بیت الخلاء گیا تو اندر سے خودکار کنڈی لگ گئی جو اس کو کھولنا نہیں آرہی تھی، وہ ایک بار پھر گھبرا گیا اور اندر کھڑا دروازہ پیٹنے اور شور مچانے لگا، عملے کے لوگ اس کو تسلی دے رہے تھے لیکن نہ تو اس کو عربی آتی تھی نہ انگریزی۔ میں پاس بیٹھا تھا لہٰذا مجھے بطور ترجمان آگے کر دیا گیا۔ اب مجھے پشتو نہیں آتی تھی پھر بھی کسی نہ کسی طرح اس کو خاموش کیا۔ بعد میں باہر سے دروازے کے قبضے کھول کر اسے آزاد کیا گیا۔ یہاں میں اس بات کا اعتراف کرتا چلوں کہ جب میں پہلی دفعہ اسی مقام پر آیا تھا تو میرا بھی تقریباً یہی حال ہوا تھا، کنڈی مجھے بھی کھولنا نہیں آرہی تھی لیکن میں نے شور نہ مچایا، اپنے حواس قائم رکھے اور کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو اس کشمکش دہر سے آزاد کر لیا تھا۔ اگر اس دن میں نے سوٹ اور ٹائی نہ پہن رکھی ہوتی تو میں بھی اس پٹھان بچے کی طرح چیختا چلاتا کیونکہ دکھ تو سب کے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں نا۔
اب کی بار جب ریاض واپس پہنچا تو میری سوچیں قدرے مختلف تھیں، مجھے پتہ تھا کہ کہاں جانا ہے کیا کرنا ہے، ماحول سے بھی آشنائی تھی اس لیے وہاں پہنچتے ہی ٹیکسی پکڑی اور سیدھا اپنی کمپنی پہنچ گیا جنہوں نے فوراً ہی مجھے اپنے خوبصورت ہوسٹل میں رہائش مہیا کر دی اور اگلے دن سے کام شروع ہو گیا۔ ہیڈ آفس میں جانے پہچانے لوگ تھے اس لیے کوئی بے بسی یا اجنبیت کا احساس نہ ہوا اور میں فوراً ہی معمول کی دفتری سرگرمیوں میں مشغول ہو گیا۔
ہیڈ آفس میں کاروبار زندگی پہلی ذمہ داریوں سے کچھ مختلف تھا۔ مرکزی دفتر ہونے کی وجہ سے وہاں اعلیٰ آفیسر بیٹھتے تھے۔ لیکن وہاں کا ماحول بڑا ہی بے تکلف اور دوستانہ تھا۔ جلد ہی ہم سب آپس میں گھل مل گئے۔ امریکن طرززندگی میں لوگ زیادہ تر چھوٹے بڑے کام خود ہی کرتے ہیں اور کوئی اس میں شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتا۔
 (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -