دانش سکول پنجاب: ایک مطالعاتی جائزہ(2)

دانش سکول پنجاب: ایک مطالعاتی جائزہ(2)

  

دورہ کے دوران کمیٹی نے سکول کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیااور انہیں ہر لحاظ سے معیاری پایاگو ابھی تک مختلف سکولوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں مگر ا±مید واثق ہے کہ جلد ہی تمام سکولوں میں ترقیاتی کام پایہ تکمیل تک پہنچ جائیں گے اور یہ پوری آب و تاب سے قومی خدمت کا فریضہ انتہائی لگن اور دلجمی سے ادا کریں گے۔ کمیٹی نے ہاسٹل کا معائنہ بھی کیا اور اس کا معیار تسلی بخش تھا، کھانے کا معیار بھی حفظان صحت کے اصولوں اور موسم کے مطابق رکھا گیاتھا۔ تعلیم کےساتھ ساتھ بچوں کو کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے جس سے بچوں کی شخصیت اور کردار سازی میں نکھار پیدا ہوتا ہے ابتدائی داخلہ جماعت ششم میں کیا گیا ہے فی الوقت ان سکولز میں بچوں کی تعدادکم ہے لیکن اس میں بتدریج اضافہ دیکھنے کو آئے گا ۔اس دورہ کے دوران کمیٹی نے کلاسوں میں بچوں سے بھی ملاقات کی اگرچہ غربت، محرومی اور طبقاتی تقسیم کا احساس ان بچوں کے چہروںسے واضح طور پر عیاں تھا مگر پھر بھی اعتماد کی قوت سے مال مالا تھے اور کمیٹی کے سوالو ں کے جواب بڑے اعتماد سے دیے۔ یہ بچے نونہالان چمن اور اقبال کے شاہین ہیں ،یہ بچے امید کی وہ کرنیںہیں جو آنے والے دنوں میں ملک وقوم کیلئے باعث فخر ہونگے۔ہمیں ان بچوں سے مل کر حقیقی معنوں میںخوشی ہوئی۔

 بارود کے بدلے ہاتھوں میں آجائے کتاب تو اچھا ہو

اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

ہر بچہ پیدا ہوتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

دنیا کے کسی بھی گوشے سے آجائے جواب تو اچھا ہو

اگرچہ دانش سکولز میں تعمیراتی کام جاری ہے لیکن اس کے باوجود کیمپیسزکی تزئین و آرائش اور لینڈسکپینگ کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔ اس منصوبہ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے مندرجہ ذیل تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔

٭ چونکہ یہ سکول ابھی اپنے ابتدائی دور سے گزر ر ہے ہیں لہذا انہیںمالی طور پر مستحکم کرنے کے لئے ان سکول میں ایسے بچوں کو بھی داخلہ دیا جانا چاہیے جن کا تعلق صاحب استطاعت یا متوسط طبقہ سے ہو اور ان کی تعداد ابتدائی طورپر50 فیصد ہو تاکہ ان بچوں سے فیس وصول کر کے دانش سکول کے سالانہ اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔

 ٭ صاحب استطاعت اور مخیرحضرات کو اس نیک کام میں شرکت کیلئے مائل کیا جائے اور ان سے سکول کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے عطیات وصول کئے جائیں۔

٭ہر دانش سکول میں داخل ہو نے والے ہر بچے کا طبی معائنہ کیا جائے اوران کی صحت کا معیار بلند رکھنے کیلئے ہر سکول میں ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر تعینات کیا جائے ۔ دانش سکولز میں ڈسپلن اور فزیکل فٹنس کو برقرار رکھنے کیلئے کیڈٹ کالجز کے معیار کو اپنا یا جائے۔

٭ دانش سکولز سے ملحق سینکڑوں ایکٹر اراضی کو قابل کاشت بنایا جائے اور اس سے پیدا ہونے والی اجناس، سبزیوں، دووھ ، گوشت سے نہ صرف دانش سکولز کی ضروریات پوری ہو نگی بلکہ فاضل پیداوار بیچنے سے جو منافع حاصل ہو گا اس سے سکولز کی آمدنی میں قابل ذکر اضافہ ہو گا۔

٭ ایک زرعی ماہر ہونے کی حیثیت سے یہ تجویز ہے کہ اس وسیع اراضی کی نگہداشت کیلئے ہر کیمپس میںکل وقتی زرعی گریجوائٹس کو تعینات کیا جائے تاکہ وہ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے جلدازجلد یہ کام سائنسی بنیادوں پر سر انجام دیں۔

٭ پنجاب کی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر کوئی قابل عمل تعلیمی ٹیکس نافذ کیا جائے( مثال کے طور پر دس مرلہ یا اس زائد پراپرٹی، پنجاب میں داخل ہو نے والی ہر گاڑی ، پنجاب میں درآمد اور برآمد کئے گئے ہر قیمتی سامان ،ہزار سی سی یا اس سے زائد گاڑی ،ہر بڑے ہوٹل اور ریسٹورنٹ کے بلوں ،جائیداد کے انتقال، شادی ہالز اور ہر قسم کی بڑی انڈسٹری پر تعلیمی ٹیکس کا نفاذہونا چاہیے)اس آمدنی سے نہ صرف دانش سکولز کی مدد کی جائے بلکہ پہلے سے موجود دوسرے سکولز اور کالجز کے نظام کو بھی بہتر بنایا جائے اور ان میں بھی معیاری سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ پنجاب بھر میں حقیقی تعلیمی انقلاب (مثال کے طور پر ملائشین ماڈل) کی بنیاد رکھی جائے۔

٭تعلیمی فنڈ جمع کرنے کیلئے فوری طور پر پنجاب میں ایجوکیشن لاٹری کا آغاز کیا جائے جس میں ہفتہ وار قرعہ اندازی ہو اور پرکشش انعامات ہو ںاور اس سے جمع ہونے والی تمام رقم تعلیمی مقاصد کیلئے استعما ل کی جائے۔

٭پرائمری سطح پر سکولوں کو بچوں کیلئے انتہائی پر کشش اور خوبصورت بنایا جائے تاکہ بچے خوشی اور رغبت سے سکول جائیں اس مقصد کیلئے میری تجویز ہے کہ پرائمری سطح پر بچوں اور بچیوں کے سکولوں کا انضما م کر کے انہیں ہر قسم کی بنیادی سہولت فراہم کر دی جائے۔ نیزپرائمری اور ہائی سکولوں کے اساتذہ کی کم ازکم تعلیمی اہلیت بھی ہیڈماسٹر اور پرنسپل کی پی ایچ ڈی کی سطح تک ہو اور وہ پوری طرح تربیت یافتہ ہوں اس سے یقینا تعلیمی معیار بلند ہو گا۔

٭بچوں کو سکول بھیجنا لازمی قرار دیے دیا جائے اور بچوں کو سکول نہ بھیجنے والے والدین قابل تعزیر ہوں اس کیلئے مناسب قانون سازی کر لی جائے۔انتہائی غریب والدین کو مناسب مالی امداد بھی دی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر سکیں۔

 ٭کسی بھی قوم میں یکجہتی اور اتفاق رائے پیدا کرنے میںسلیبس کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ لہذا تجویز ہے کہ پنجاب میں سرکاری ، پرائیوٹ، پبلک ہر قسم کے سکول کیلئے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق سلیبس ترتیب دے کر یکساں طور پر لاگو کیا جائے تاکہ اس سے قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔

٭سپیشل سکولز کے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے اور ان میں ہر قسم کی فنی تعلیمی سہولت بھی مہیا کی جائے تاکہ معذور افراد بھی معاشرے میں ایک صحت مند اور فعال کردار ادا کر سکیں۔

٭مواخات مدینہ کی طرز پر” Educate a child “ سکیم کا اجراءکیا جائے اور ہر خوشحال گھرانہ اس بات کا پابند ہو کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ ایک غریب بچے کو بھی زیور تعلیم سے آراستہ کرے۔

٭ دانش سکولز کا دائرہ کارپنجاب کے ہر ایک شہر تک وسیع کیا جائے ہر شہر میں کم از کم ایک دانش سکول کا قیام ناگزیر ہے تاکہ دیے سے دیا جلے اور اس سے جو روشنی کی کرنیں پھوٹیںوہ ملک بھر میں جہالت کے اندھیروں کو ا±جالوں میں بدل سکیں۔ بس ضرورت سچی لگن اور حب الوطنی کی ہے۔

٭ملک کے تمام صوبوںسے غریب ، نادار اوربالخصوص War on terror کے شہدا کے بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر ان سکولوں میں داخلہ دیا جائے۔ملک کے پسماندہ ترین علاقوں خصوصا ًفاٹا، جنوبی پنجاب، اندرون سندھ، گلگت، بلتستان اور بلوچستان کے بچوں کیلئے نشستیں مختص کی جائیں۔ (جاری ہے) ٭

مزید :

کالم -