الاخوان المسلمون ابتلاءسے اقتدار تک (2)

الاخوان المسلمون ابتلاءسے اقتدار تک (2)

  

تقریر ختم ہونے کے چند منٹ بعد صدر محمد مرسی کے بیٹے عبداللہ محمد مرسی نے فیس بک پر پیغام لکھا: بابا جان! یقیناً ہم صرف اللہ کی اطاعت میں آپ کی اطاعت کریں گے، اللہ کی نافرمانی ہوئی تو آپ کی نہیں، اپنے رب کی اطاعت کریں گے“۔ جب بیٹا بھی باپ اور صدر مملکت کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت سے مشروط کردے تو پھر رب ذوالجلال کی رحمتیں اور نصرت بھی یقیناً شامل حال ہوتی ہے۔ ڈاکٹر محمد مرسی نے بحیثیت صدر اپنی تنخواہ لینے سے بھی انکار کر دیا اور فرمایا کہ میں قصر شاہی میں بھی منتقل نہیں ہوں گا، بلکہ اپنے گھر میں رہ کر ہی انتظامات سلطنت چلاﺅں گا۔ آپ نے اپنے لئے تمام قسم کے پروٹوکول ختم کر دئیے اور فرمایا کہ آمدورفت کے وقت پروٹوکول کی وجہ سے ٹریفک کا نظام متاثر ہوتا ہے جس سے عوام کو تکلیف اور مشقت اٹھانا پڑتی ہے، لہذا میں یہ کبھی گوارا نہیں کروں گا۔ بعینہ یہی اقدام سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے بھی اٹھایا تھا۔

 ڈاکٹر محمد مرسی نے اپنی کابینہ کے پہلے اجلاس میں ہی اپنی کرسی کے پیچھے سے تصویر اتروا کر اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک کو آویزاں کروا کر اس بابرکت نام کے سائے میں اجلاس کیا اور حکم دیا کہ تمام سرکاری دفاتر میں میری تصویر کی بجائے اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک آویزاں کیا جائے۔ گویا یہ تاثر قائم کیا کہ اے مالک و خالق! آپ نے مجھے اقتدار سونپا ہے تو آپ کے احکامات کے مطابق ہی انتظامات چلاﺅں گا۔ ڈاکٹر محمد مرسی کی اہلیہ نجلا محمود مرسی ایک تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ انہوں نے بھی فرما دیا کہ مجھے خاتون اول کے نام سے نہ پکارا جائے۔ مجھے نجلا باجی یا ام احمد کی کنیت خاتون اول کہلائے جانے کی نسبت زیادہ پسند ہے۔ اللہ کریں کہ ڈاکٹر محمد مرسی نے جس انداز سے آغاز کیا ہے، وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوں، کیونکہ استعماری طاقتیں ایسے مشنری انسانوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا کرتی ہیں۔ مختلف حربوں سے ایسے نظام کو ناکام بنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ اسی طرح کی کچھ رکاوٹوں کا ڈاکٹر محمد مرسی کو بھی سامنا ہے۔ ڈاکٹر محمد مرسی کے لئے یہ اقتدار کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے۔ ایک طرف نصف صدی سے جہد مسلسل کرتے نوجوان کے جذبات پر پورا اترنا اور دوسری طرف اندرونی اور بیرونی مخالفین سے نبرد آزما ہونا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے محمد مرسی کے لئے کامیابی کی دعا کرتے ہونے ان کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عزائم میں کامیابی عطا فرمائیں، انہیں ثابت قدمی اور استقامت بخشیں، انہیں ظاہری اور خفیہ دشمنوں نے محفوظ رکھیں اور وہ نصف صدی تک ظلم و ستم کی چکی میں پستے عوام کے لئے مسیحا ثابت ہوں۔ آمین

مصری انقلاب اور وطن عزیز: مصر پر نصف صدی تک مارشل لاءکے بادل چھائے رہے ۔ فوجی حکمرانوں نے جی بھر کے ملک کو لوٹا۔ عوام کے نصیب میں مسلسل محرومیاں ہی رہیں۔ وطن عزیز کے حالات بھی مصر سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ یہاں بھی اب تک یاتو فوجی اور سول ڈکٹیٹر اقتدار پر قابض رہے ہیں یا ان کے لے پالک .... پاکستان کے چند ایک خاندان ہیں جو قیام پاکستان سے لے کر اب تک حکومتیں کرتے آرہے ہیں۔اب ان کی تیسری نسل ایوانوں میں داخل ہو کر اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔ ہوا کا رخ دیکھ کر یہ لوگ اسی پارٹی کی طرف رخ موڑ لیتے ہیں۔ ہر نئی پارٹی میں شمولیت کے وقت انقلاب کا نعرہ لگاتے ہیں، حالانکہ انقلاب کے لئے علم، عمل اور کردار کی ضرورت ہوتی ہے۔ صلاحیتیں انقلاب کی سیڑھیاں چڑھاتی ہیں اور یہ صفات اس ملک میں اقتدار کے پجاریوں کے ہاں ناپید ہیں۔ آپ ڈاکٹر محمد مرسی کی پارلیمنٹ کو ذرا دیکھئے کہ اس میں 170 ارکان پارلیمنٹ پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حامل ہیں۔ 140 ارکان ایسے ہیں جو اللہ کی توفیق سے حافظ قرآن ہیں۔ 180 ارکان کو نصف قرآن مجید زبانی یاد ہے اور ہمارے انقلابی وفاقی وزارتوں کے مزے لینے والے سورئہ اخلاص تک زبانی تو کیا دیکھ کر نہیں پڑھ سکتے۔ وہ ناظرہ قرآن مجید کی تلاوت سے بھی عاجز ہیں۔ سورئہ اخلاص وہ چھوٹی سی سورئہ ہے جو مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والا چھوٹا سا بچہ بھی فر فر سنا سکتا ہے۔ انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ قرآن مجید کے سپارے کتنے ہیں۔ سوال ہو تو چالیس پاروں کا قرآن بتاتے ہیں۔

انقلاب لانے کے لئے یقیناً علمی رسوخ، نظریاتی پختگی اور عملی طاقت درکار ہوتی ہے۔ اقتدار کی خاطر پارٹیاں تبدیل کرنے اور ہمدردیاں بدل لینے والے انقلابی نہیں ہوا کرتے اور نہ ہی بار بار آزمائے ہوئے مسترد چہرے انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ یقیناً ظلم و ستم کی کوکھ سے انقلاب جنم لیا کرتے ہیں۔ اللہ کرے کہ پاکستان میں بھی کوئی ایسا معجزہ ہو جائے کہ واقعی کوئی مخلص اور سچی قیادت برسراقتدار آجائے۔ سچ بات ہے کہ عالم اسلام کو حرمین شریفین کے بعد اگر کسی خطہ ارضی سے عقیدت ہے تو وہ پاکستان ہے۔ امت مسلمہ کو پاکستان سے ٹھنڈی ہوا محسوس ہوتی ہے۔ وہ پاکستان کو اپنا مضبوط زمینی سہارا سمجھتے ہیں، کیونکہ پاکستان ہی واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے اور جس کی بنیادیں اسلامی نظریے پر استوار کی گئی ہیں ،مگر افسوس کہ ہمارے حکمرانوں کو اپنی حیثیت کا بھی احساس نہیں۔

اے اللہ! ہمارے وطن کو امن و سکون کا گہوارہ بنا دیجئے۔ الہیٰ! اسے حقیقی معنوں میں اسلام کا قلعہ بنا دیجئے۔ اے اللہ! ہمیں ایسی قیادت نصیب فرما دیجئے جو یہیں پلی بڑھی ہو اور اسے اس دھرتی اور اس کے نظریے سے پیار ہو۔ الہیٰ ! وطن عزیز کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھئے۔ الہیٰ! اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی گھناﺅنی شازشیں ہو رہی ہیں، اسے رہتی دنیا تک سلامت رکھئے۔ آمین (ختم شد)  ٭

مزید :

کالم -