افغانستان کا مستقبل اور غیر ملکی امداد

افغانستان کا مستقبل اور غیر ملکی امداد

  

 گزشتہ ماہ 70 ممالک اور غیر ملکی اداروں نے افغانستان کے لئے 16 بلین امریکی ڈالر امداد کا وعدہ کیا جو اگلے چار سال کے دوران اس کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے دی جائے گی۔ افسوس یہ رقم بھی اُسی طرح ضائع ہو جائے گی، جس طرح اس سے پہلے امریکی مداخلت کے بعد سے ، افغان حکومت کو دی جانے والی رقوم ضائع ہو گئی ہیں اور اس جنگ زدہ ملک میں معیشت کی بحالی کا کوئی نشان تک نہیں ملتا ۔ مغربی ممالک کی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان ایک انتہائی نازک صورت ِ حال سے دوچار ہوجائے گا۔ اسے طالبان سے بھی خطرہ ہو گا اور اس کی معیشت عوام کے لئے روزگار کے مواقع بھی نہیں پیدا کر سکے گی۔ اس پر قبضے کے دوران مغربی حکومتیں یہاں اتنی سرمایہ کاری کرنے میں ناکام رہیں ،جس سے مقامی افراد کو باعزت طریقے سے روزی کمانے اور زندگی گزارنے کے قابل بنایا جاسکتا۔

اب افغانستان میں حکومت کے نام پر ایک نااہل انتظامیہ برسر اقتدار ہے اور اس کے پاس عوام کو تعلیم ، صحت یا روزگار کی سہولتیں فراہم کرنے کا کوئی پروگرام نہیںہے۔ اس کی بقا کا تمام تر دارومدار غیر ملکی امداد پر ہے۔ آج افغان آبادی کا دوتہائی25 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ ان میں سے کچھ ہو سکتا ہے کہ نیٹو افواج میں ملازمت کر رہے ہوں، مگر اس کے انخلاکے بعد ان جوانوں کے پاس کوئی روزگار نہیں ہو گا۔ افغانستان میں حکومت تو نااہل ہے ، یہاں پرائیویٹ سیکٹر میں بھی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لئے روزگار کے متلاشیوںکے لئے نہ تو سرکاری محکموں اور نہ ہی نجی اداروں میںملازمت کا کوئی موقع دستیاب ہے۔ افغانستان کے معروضی حالات غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی نہیںکرتے ۔ اس کی معیشت میں کچھ جان پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ افراد کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ مقامی طور پر دستیاب وسائل سے آمدنی کے ذرائع تلاش کریں۔ اس سلسلے میں غیر ملکی ادارے ان کی مددکر سکتے ہیں، مگر جیسا کہ تمام ترقی پذیر دنیا میں وسائل پر غیر ملکی اداروں کے قبضے کے خلاف تناﺅ پایا جاتا ہے، افغان عوام اپنے وسائل سے خود استفادہ کرنا چاہتے ہیں، تاہم ان کا غیر ترقی یافتہ انفراسٹرکچر اس راہ میں حائل ہے۔ مغربی امداد کی مانیٹرنگ دشوار ہے اور اس کے قوانین بھی اس طرح کے ہیں کہ زیادہ تر افغان باشندے ان کی پیروی کرنے میںناکام رہتے ہیں۔

آج کے معروضی حالات میں، جو کہ غیر معمولی ہیں، ضرورت اس امرکی ہے کہ مغرب پرائیویٹ سیکٹر میں بھاری سرمایہ کرے اور چھوٹے چھوٹے یونٹس قائم کئے جائیں، جہاں سے سرمایہ کاروں کو منافع حاصل ہو اور افغان عوام کو روزگار ملے۔ مغربی سرمایہ کار جانتے ہیں کہ انسانوں کی بنیادی ضروریات ایک جیسی ہی ہوتی ہیں خوراک، تحفظ اور تعلیم وغیرہ ۔ اس کے علاوہ افغان باشندوں کی روایتی زندگی میں جن چیزوں کی ضرورت ہے ، وہ بھی بہت پیچیدگی کی حامل نہیں ہیں، تاہم یہاں سرمایہ کاری صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے، جب سیکیورٹی کی صورت ِ حا ل بہتر ہو اور یہ اُسی صورت میںہو گی ،جب نیٹوافواج افغانستان کے مستقبل کے لئے اپنی ترجیحات کو مشروط نہیں کریںگی۔

ہمیں یہاں ایک نئے طرز ِ عمل کی ضرورت ہے تاکہ یہاں معیشت کو سدھارا جا سکے۔ چین اور بھارت کی بڑی بڑی کمپنیوں نے افغانستان میں سرمایہ کاری شروع کر دی ہے۔ امریکہ اور مغربی کمپنیوںکو بھی دلیری سے سرمایہ کاری کرنی چاہیے ،وہ اس سلسلے میںخطرات مول لینے سے نہ ڈریں۔ اس نئے طرز ِ عمل میں ضروری ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بھی امن قائم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔ فی الحال طالبان کے ساتھ پُر امن مذاکرات کی راہ میں ان کی انتہا پسندی سے زیادہ واشنگٹن کے جنگی عزائم اور روایتی سفارت کاری بڑی رکاوٹ ہیں ۔ مغربی ادارے آج بھی انیسویں صدی کی کمپنیوں کی طرز پر کام کرتے ہوئے مقامی اقدار اور کلچر کو نظر انداز کرنے کی غلطی کر رہے ہیں۔ امریکہ کو توقع ہے کہ طالبان اُسی طرح اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیںگے، جس طرح1945ءمیں ایٹمی حملے کے بعد جاپان نے کیا تھا۔ دوسری طرف طالبان مذاکرات تو چاہتے ہیں ،مگر ان کا مطالبہ یہ ہے کہ یہ برابری کی بنیاد پر ہوں صرف اس صورت میںہی یہ جنگ بند ہو سکتی ہے۔ اس طرح افغانستان میں قیام ِ امن اور سرمایہ کاری کے لئے ضروری ہے کہ مغربی افواج اپنی مرضی مسلط کرنے کی پالیسی ترک کر دیں۔ طالبان نے متعدد مرتبہ کہا ہے کہ ایک مرتبہ جب امریکی یہاںسے چلے جائیںگے تو افغان اپنے مستقبل کا فیصلہ خود ہی کر لیںگے، تاہم آج ان کالہجہ بھی دھمکی آمیز نہیں، بلکہ مصالحت آمیز ہے۔

اقوام ِ متحدہ کے نمائندے مسٹر براہیمی نے 2001ءمیں امریکی حملے کے بعد افغان حکومت کی تشکیل ِ نو کے لئے ایک نیا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ انہوںنے مقامی دانشوروں اور صحافیوںکو، جو مقامی حالات کو سفیروںسے زیادہ جانتے تھے، اکٹھا کیا ۔ انہوں نے جنگ کے دوران جو مشاوراتی گروپ قائم کیا ،وہ طرفین طالبان اور امریکہ میںسے کسی کو بھی فاتح یا مفتوح نہیں سمجھتا تھا ۔ اس نے مشورہ دیا کہ جنگ بند کرکے مقامی افراد کی مرضی معلوم کر لی جائے۔ اس گروپ نے افغان دھڑوںکے ساتھ بات چیت کی اور ان کو سیاسی اورمعاشی فوائد سے آگاہ کیا۔ اُس وقت مسٹر براہیمی کو افسوس تھا کہ اس بات چیت میں طالبان کو شامل نہیں کیا گیا۔ آج دس سال بعد طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے امریکہ کو اُسی طرح کی ٹیم کی ضرورت ہے جو مقامی حالات کو اچھی طرح سمجھتی ہو۔ روایتی سفارت کار یہ کام نہیں کر سکتے ۔

افغانستان میں امن صرف ایک صورت میں قائم ہو سکتا ہے، جب معاشرے کے تمام دھڑوں کو قوم سازی کے عمل کی تحریک دی جائے۔ جب نجی سیکٹر کی سرمایہ کاری سے عوام کو مالی فوائد میسر آئیںگے تو استحکام اور ترقی کا دیر پا عمل شروع ہو جائے گا۔ اس کے لئے مضبوط ارادے کے ساتھ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اب افغانستان سے نیٹو کے انخلا میں صرف دو سال رہ گئے ہیں، امریکہ کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی پالیسی تبدیل کرے۔ صرف امداد کے نام پر اربوں ڈالر کی فراہمی مسئلے کو حل نہیں کرسکے گی۔

مصنف، نامور پاکستانی کالم نگار اور افغان امور کے ماہر ہیں۔ جن کے کالم متعدد بین الاقوامی اخبارات اور بی بی سی آن لائن پر شائع ہوتے ہیں۔ ان کی تحریر کردہ کتاب ”طالبان“ World Best Seller کا اعزاز حاصل کر چکی ہے۔

مزید :

کالم -