عربوں کی بہار سامراجی خزاں کی زد میں

عربوں کی بہار سامراجی خزاں کی زد میں
عربوں کی بہار سامراجی خزاں کی زد میں

  

کتنی مختصر تھی عربوں کی بہار! تمام دنیا حےرت میں ڈوب گئی تھی کہ عربوں کی یہ بہار (Arab Spring) آئی کہاں سے اور کیسے آ گئی؟ اس میں حیرانی کی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ انکل سام سمیت صلیبی مغرب اس عرب بہار کی پشت پناہی کررہا تھا؟ مگر یہ بہار تیونس سے اٹھی تھی اور مصر سے ہو کر شام میں جا کر پھنس گئی ۔ اب تو مصر سے بھی جلا وطن ہو چکی ہے تیونس سے بھی اسے بے دخل ہونے کا نوٹس مل چکا ہے، آپ کو یاد ہوگا کہ عصرِ حاضر کا سب سے بڑا خطرناک صہیونی دماغ ہنری کسنجر بتا چکا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں مصر کے بغیر کوئی جنگ نہیں ہو سکتی، مگر شام کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن بھی نہیں قائم ہو سکتا۔اس لئے اب قیام امن کے ساتھ ساتھ جنگ کے دروازے بند کرنے کے لئے بھی سٹیج تیار ہو چکا ہے، ہمارے بیچارے عرب بھائیوں کی بہار کو بھی سامراجی خزاں کی آگ اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔فلسطین کی سرزمینِ منصوبہ (غصب کی ہوئی) میں واقع اسرائیل کی سرحدیں بھی محفوظ ہو چکی ہیں اور دریائے نیل سے دریائے فرات تک صہیونی ریاست اسرائیل کے پھیل جانے کا مرحلہ بھی شاید آ چکا ہے(کم سے کم انکل سام میں موجود صہیونی ریاست اسرائیل کے کار پرداز تو یہی سمجھ رہے ہیں)

شاید آپ ذہنی الجھن کا شکار ہوں کہ یہ دو اسرائیل کہاں سے آ گئے؟ یہ تو آپ کے علم میں ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سرزمین فلسطین میں قائم یہودی ریاست ”اسرائیل“ امریکہ سمیت صلیبی مغرب کا بنایا ہوا ہے، آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ یورپ کی رگِ جاں پنجہ ءیہود میں ہے“ مگر آج ہمارے زمانے میں امریکہ کی رگ جاں پر یہودیوں نے پنجے گاڑ رکھے ہیں اور یہودی بھی وہ جو صہیونی بن چکے ہیں....(جو یہودی ایمان رکھتے ہیں کہ بیت المقدس کی پہاڑی صہیون (Zion)پر یہودی دارالحکومت قائم کرنا ہے اور ہیکل سلیمانی کو مسلمانوں سے چھڑانا ہے، وہ صہیونی (Zionist)کہلاتے ہیں).... یہودی یورپ کو چھوڑ کر جب امریکہ گئے تو ان کے پاس ڈھیر سارا سرمایہ تھا اور بہت سارے دانشور اور سائنسدان بھی ساتھ تھے، جن میں ایٹم بم بنانے والا یہودی سائنسدان آئن سٹائن بھی تھا، یہ تمام یہودی صہیونی بھی ہیں اور امریکہ کو اپنی مٹھی میں بھی لے چکے ہیں، اب امریکہ وہی کرتا ہے جو یہ صہیونی یہودی کہتے ہیں، اس لئے امریکہ کے اس طاقتور یہودی گروہ یا یہودی لابی کا اصل نام اور کام ”اصل صہیونی اسرائیل“ کا قیام ہے، لوگ کہتے ہیں کہ اسرائیل کی اصل طاقت امریکہ ہے۔1973ءمیں سنائی کی جنگ ہار کر مرحوم مصری صدر انورسادات نے بھی یہی کہا تھا کہ میں اسرائیل سے تو لڑ سکتا ہوں، مگر امریکہ سے نہیں جو اسرائیل کی پشت پر ہے، مگر یہ بھولے پن کی بات ہے! کہنا یہ چاہیے کہ فلسطین کی غاصب ریاست اسرائیل سے زیادہ طاقتور وہ حقیقی صہیونی اسرائیل ہے، جو امریکہ میں قائم ہے!

اس وقت امریکہ میں ہر شعبہ پر یہودی قابض ہیں!مالیاتی کارپوریشن، بینک، تجارت، سرکاری خزانہ، سٹاک ایکسچینج، حتیٰ کہ امریکی فوج کو کھانے کا سامان مہیا کرنے کے ٹھیکے بھی یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں، تعلیم ،اخبارات، فلم اور میڈیا کے اصل مالک بھی یہودی بن چکے ہیں، سیاست کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران کسنجر اور میڈلین البرائٹ سمیت کم سے کم چار وزیرخارجہ بھی یہودی تھے اور ہر صدر الیکشن سے پہلے یا تو کسی یہودی مالیاتی ادارہ کا ملازم ہوتا ہے یا حصہ دار ، مگر انتخابی اخراجات اور میڈیا بھی یہودیوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ دفاعی اور خارجہ پالیسیاں بھی یہودیوں کے کنٹرول میں ہوتی ہیں، اس لئے عربوں کی بہار ہو یا خزاں، اسرائیل کا تحفظ ہو یا امداد سب کچھ امریکہ میں قائم اصل اور پوشیدہ ”صہیونی اسرائیل“ کا کھیل ہوتا اور اب بھی سامراجی خزاں کے جو شعلے عربوں کی بہار کو جلا رہے ہیں، انہیں بھی ہوا دینے والے یہی صہیونی ہیں! عرب بہار کے نتیجہ میں قائم ہونے والے جمہوری نظام کی فاتحہ پڑھنا ہو یا مصر میں اخوان المسلمین کا راستہ روکنے کے لئے فوجی بغاوت کروانا ہو یا عرب کے تیلی شہزادوں (وہ جو صرف تیل کی وجہ سے شہزادے بنے ہیں) کی طرف سے اخوان کا خون بہانے اور قتل عام کرنے والے باغیوں کے لئے بارہ کھرب ڈالر کی مالی امداد ہو، اس سب کی منصوبہ بندی بھی امریکی اسرائیلیوں کی ہے اور اس سب کا مقصد فلسطین کی زمین غصب کرنے والے صہیونی اسرائیل کا بول بالا کرنا ہے!

دراصل یہ عرب بہار نہیں تھی،بلکہ آنکھیں دکھانے والے ان پرانے عرب آمروں کو سبق سکھانا تھا اور نشان عبرت بنانا تھا جو تیس تیس چالیس چالیس سال سے کھا کھا کر پھول چکے تھے اور ان میں سٹراند پیدا ہو چکی تھی ، اب مصر اور شام سمیت ہر جگہ نئے ڈکٹیٹر آئیں گے جو اکیسویں صدی کے آخر تک صہیونی اشاروں پر ناچتے رہیں گے! رہے تیلی شہزادے سو وہ تو پہلے بھی وفادار تھے ، اب مزید اطاعت اور وفاداری میں پختہ ہو جائیں گے اور یوں ہر طرف امن ہوگا اور عرب بہار بھی ماضی کا قصہ عبرت بن جائے گا، مگر یہ سوچ ہے سامراجی گھوڑے عالمی صہیونیت کی ، لیکن قدرت کا نظام اپنا ہے۔ ٭

مزید :

کالم -