جملوں کی فائرنگ۔۔۔ !

جملوں کی فائرنگ۔۔۔ !
 جملوں کی فائرنگ۔۔۔ !
کیپشن: 1

  


زیادہ پرانی بات نہیں ہے،ہمارے عزیزوں میں ایک منگنی ہوئی اور ٹوٹ گئی ! خاندان کے بڑوں نے سوچا کہ یہ غلط بات ہے، جب بات طے ہوئی تھی تو اسے ختم نہیں ہونا چاہئے تھا،کیونکہ اس سے خاندانی رشتوں میں ایک خلیج پڑ جائے گی۔پھر آپس میں مشورے ہوئے اور طے پایا کہ خاندان کے معتبرلوگوں کو اکٹھا کیا جائے اور اس ٹوٹے ہوئے رشتے کو دوبارہ جوڑنے کے لئے بھاگ دوڑ کی جائے۔ چنانچہ خاندان کے تمام متعلقہ افراد کو جمع کیا گیا۔گلے شکوے سنے اور سنائے گئے ۔مخلص لوگوں کی کاوشیں بھر آئیں او ر دونوں خاندانوں کی رضامندی سے منگنی کو دوبارہ بحال کر دیا گیا۔اس موقع پر منہ میٹھا بھی کرایاگیا اور لڑکے کی خالہ نے لڑکی کے ماموں کو مٹھائی کھلاتے ہوئے ہلکا سا جملہ کستے ہوئے کہا کہ مُنہ تو میٹھا کرو،حالانکہ مجھے یقین ہے کہ تمہیں یہ مٹھائی کڑوی لگے گی ۔ بس اِسی جملے نے ماموں کے دل کے اندر چھپی ہوئی رنجش کو بیدار کر دیا ۔محفل ختم ہو گئی اور ماموں، جو نفرت لے کر محفل سے اُٹھے اس کا اثر یہ ہوا کہ اگلے چند دنوں میں ماموں کی سازشیں بارود ثابت ہونا شروع ہو گئیں اور پھر کچھ عرصے میں منگنی دوبارہ ٹوٹ گئی اور یوں ایک چھوٹے سے طنزیہ جملے پر۔۔۔دو دل اور دو خاندان جُدا ہو گئے ۔

ایسا ہی ایک سچا واقعہ۔۔۔ ہمارے نزدیکی گاؤں میں پیش آیا،جہاں دو خاندان کئی پشتوں سے ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی میں پل رہے تھے ۔دونوں خاندانوں کی طرف سے کئی افراد قتل ہوئے ۔کئی لوگوں کوعمر بھر جیل میں کاٹنی پڑی ۔خاندان کے کچھ سمجھدار لوگوں نے دشمنی کے اس سفر کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور بڑی تگ و دو کے بعد دونوں خاندانوں کے معزز افراد کو ایک بیٹھک میں اکٹھا کر لیا گیا۔ماضی کی لمبی دشمنی کی کئی داستانیں سنائی گئیں ۔ایک دوسرے پر زیادتیوں کے واقعات دہرائے گئے اور آخر کار نیک نیتی سے کی جانے والی کوششیں رنگ لائیں اور دونوں خاندان پرانی دشمنیوں کو بالائے طاق رکھ کر صلح پر آمادہ ہو گئے ۔فیصلہ ہوا کہ سب لوگ آپس میں گلے ملیں گے اور پھرگلے لگتے ایک فریق کے شرارتی ذہن نے دوسرے کے کان میں طنزیہ جملہ پھینکا کہ ’’قبرستان میں جا کر اپنے بھائی کوبھی صلح کا بتا دو‘‘ یہ جملہ کیا تھا کہ پھر آ گ بھڑ ک اُٹھی اور اگلے چند منٹوں میں دس افراد قتل ہو گئے ۔

کچھ ایسی ہی صورت حال اس وقت وطن عزیز کو درپیش ہے۔حکومتی لیڈروں اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان جملوں کی فائرنگ سے آج پارلیمنٹ کے سامنے باقاعدہ میدان جنگ لگا ہوا ہے ۔فلموں میں مولا جٹ اور نوری نت کے نام سنے تھے ،آج حقیقت میں سیاسی افق پر یہ کردار نظر آ رہے ہیں ۔کانٹے دار جملوں سے ایک دوسرے کو مخاطب کیا جا رہا ہے اور جب بھی امن اور صلح کی کوئی امید نظر آتی ہے تو کہیں نہ کہیں سے ایک طنزیہ جملہ سننے کو ملتا ہے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے وہ جملہ ٹی وی سکرین پر فائر کرتا ہوا نظر آتا ہے اور صورت حال پھر خوفناک بن جاتی ہے ۔جملوں کی کاٹ میں بریکنگ نیوز اس طرح چلتی ہیں کہ کمزور دل لرزنے لگتے ہیں ۔خان صاحب کنٹینر پر للکارتے ہیں تو قادری صاحب اپنے سٹیج پر گرجتے ہیں اور پھر اس کے جواب میں دوسری طرف سے بھی جملوں کے تیر برسائے جاتے ہیں ۔اس طرح پوری قوم پچھلے کئی دنوں سے جملے سن رہی ہے ،بلکہ اب تو کئی جملے لوگوں کو یاد ہو گئے ہیں ۔ محتاط لوگوں نے بچوں سے کہا ہے کہ وہ سیاسی جملے سننے سے پرہیز کریں، کیونکہ اس طرح ان کے معصوم ذہنوں پر برا اثر پڑ سکتا ہے ۔ذرا سی بات ہوتی ہے تو ٹی وی پر براجمان دانشور رائی کا پہاڑ بنا دیتے ہیں اور بعض نازک معاملات پر تو باقاعدہ جلتی پر تیل ڈالتے ہیں ۔اس طرح معاملات سنورتے سنورتے یکدم بکھر جاتے ہیں۔دھرنوں کے دوران بعض دلچسپ اور شگفتہ جملے بھی سننے کو ملے ہیں ۔ جب ایک نوجوان نے عمران خان سے کہا کہ وہ اس وقت تک شادی نہیں کرے گا، جب تک پی ٹی آئی کے مطالبات پورے نہیں ہوں گے ۔خان صاحب نے فوری طور پر ایک جملہ بولا ۔۔۔ ’’کہ‘‘ تم یہ فیصلہ میری محبت میں کر رہے ہو ۔۔۔یا اپنی عقلمندی سے شادی سے بچنا چاہتے ہو ‘‘ ۔ خان صاحب کے جملے کے دوسرے حصے پر دھرنے میں موجود فیشن ایبل خواتین نے بھرپور احتجاج کیا ۔۔۔البتہ مردوں نے اس جملے کو بھی خان صاحب کے تدبر کی علامت قرار دیا ۔

اہل دانش کا کہنا ہے کہ معاملات کو قابو میں لانے کے لئے سب سے پہلے دونوں طرف سے رہنماؤں کو چپ کا روز ہ رکھولنا ہوگا اور جملے بازی کا سلسلہ اس وقت تک منطقع کرنا ہوگا ،جب تک معاملات افہام و تفہیم سے حل نہیں ہوجاتے ۔میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف جب تک خاموش رہتے ہیں مضبوط نظر آتے ہیں۔ جب دوسروں کے جواب میں کوئی جملہ کستے ہیں تو کمزور لگتے ہیں ۔

میاں صاحب ۔۔۔آئین اور قانون کی مضبوط دیوار آپ کی حفاظت کر رہی ہے ۔جملے بازی آپ کی شان نہیں۔ ہو سکے تو اپنے وفاقی وزرا اور پارٹی کے نمائندوں کو بھی جملے بازی سے باز کر دیں ۔ میاں صاحب آپ عوامی نمائندے ہیں عوام نے آپ کی قیادت پر اعتمادکیا ہے ۔کینٹینر پر کھڑے ہو کر جملے بولنے سے آپ کو ہٹایا نہیں جا سکتا ۔ جملوں کی فائرنگ میں آپ کی خاموشی بڑی طاقت ور ہے اور طاقت کے اسی استعمال میں آپ کی دانشمندی اور بقاء ہے۔

مزید :

کالم -