سیاسی بحران کا حل: چند تجاویز

سیاسی بحران کا حل: چند تجاویز
سیاسی بحران کا حل: چند تجاویز

  



سیاست کودبایا اور اس کے چہرے کوشرمناک حد تک داغدار تو بنایاجاسکتا ہے ،جس کا مشاہدہ آج کل ہم کر رہے ہیں،مگر اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ پھر بھی اپنی راہیں نکال لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ہماری سیاسی جماعتیں اور اراکین پارلیمنٹ ، عمران خان اور طاہر القادری کے پیدا کردہ ڈیڈ لاک کو توڑنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ہم سب کو معلوم ہے کہ عمران خان، طاہرالقادری، مسلم لیگ (ق) ، شیخ رشید ، احمد رضا قصوری اور دیگرحضرات 2002ءمیں جنرل پرویز مشرف کے الیکشن کے وقت ان کی ویگن میں سوار تھے....اور اب ایک بار پھروہی لوگ ہیں ،جو پارلیمنٹ کے سامنے یکجا ہیں، جسے وہ ختم کرنے کے درپے ہیں۔پہلے پہل تو پاکستانی قوم ان کے انقلابی اقدامات کے ذریعے تبدیلی لانے کی تحریک سے پُر امید تھی ،لیکن اب دلوں کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی ہیں اورقوم حیران ہے کہ اب کیا ہو گا؟ عمران خان اور طاہر القادری دونوں ہی کا اصرار ہے کہ نواز شریف مستعفی ہوں، پارلیمنٹ تحلیل کر دی جائے اورعبوری حکومت تشکیل دی جائے جوعام انتخابات کرا کے اقتدار نئی منتخب ہونے والی حکومت کے حوالے کرسکے، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ نئی منتخب ہونے والی حکومت عمران خان کی سربراہی میں ہی قائم ہوگی۔کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ اس سارے ہنگامے کے پس پردہ ،سابق صدر پرویز مشرف کا ہاتھ نہیںہے؟ اور ان کے پیچھے وہ عناصر ہیں جو پاکستان میں انار کی پھیلانے کے درپے ہیں۔

عمران خان اور طاہرالقادری دونوں اپنے مطالبات پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں اور وزیر اعظم کے استعفے،اسمبلیوں کو تحلیل کرنے ، نئے انتخابات کرانے اورنگران حکومت کے قیام کے موقف میں لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں۔ ڈیڈ لاک پیدا کرنے والے یہ عوامل اتنی شدیدنوعیت کے ہیں کہ آسانی سے حل نہیں کئے جا سکتے، کیونکہ وزیراعظم کبھی بھی مستعفی نہیں ہوں گے ،کیونکہ انہیںحکومت اور حزب اختلاف سبھی کی حمایت حاصل ہے اور اگر وہ مستعفی ہو بھی جاتے ہیں تو اس سے ایک غیر قانونی وغیرآئینی روایت جنم لے گی اورمستقبل میںملک کے جمہوری نظام کا انحصار احتجاج کرنے والوں کے رحم و کرم پرہوگا۔دوسری جانب اگر عمران خان اپنے مطالبات سے دستبردار ہوجاتے ہیں تو یہ عمل ان کے لئے سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا ،کیونکہ پہلے ہی انہوں نے اپنی غیر قانونی احتجاجی سیاست سے اپنے سیاسی مستقبل کو بہت نقصان پہنچا لیا ہے۔جہاں تک طاہرالقادری کا تعلق ہے توملکی سیاست میں ان کاکوئی مقام ہی نہیں ہے اور وہ عنقریب مطمئن ہو کرکینیڈا لوٹ جائیں گے اوریہ کہہ کر اپنے آقاﺅں کو خوش کریں گے کہ انہوں نے پاکستان کے جمہوری نظام کو الٹ پلٹ کرنے کا کام بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دیا ہے اور نہ صرف اسلام آباد کو، بلکہ پوری پاکستانی قوم کو اعصابی دباﺅ میں مبتلا کر دیا ہے۔

یہی وہ خطرات ہیں،جن کا اگر بروقت تدارک نہ کیا گیا تو پاکستان کے چہرے کو داغدار، حکومتوں کو غیر مستحکم اور مسلح افواج کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے عزم کو کمزور کرنے کا باعث بنےں گے۔اس صورت حال کو درست کرنے کے لئے لازم ہے کہ فوج کو اس کی اصل ذمہ داری سونپی جائے.... کیونکہ عمارتوں کی حفاظت کے لئے فوج کو تعینات کرنامناسب نہیں ہے۔اگر حکومت عبوری حکومت بنانے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ فوج کو حکم دے کہ ”وہ اسلام آباد کو تمام احتجاج کرنے والوں سے پاک کرکے امن و امان بحال کرے اور عمران خان و طاہر القادری کا بوریا بستر لپیٹ کر انہیں گھر کی راہ دکھائے“۔ صرف فوج ہی یہ کام انجام د ے سکتی ہے اور سیاست کے لئے جگہ بنا سکتی ہے، تاکہ وہ ملک میں جمہوری نظام کو صحیح راستے پر گامزن کر سکے۔پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے ،مزید دیر کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

ہماری قومی سیاسی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ عمران خان اورطاہر القادری کی سیاست کا سخت انداز سنجیدگی کا متقاضی ہے اور یہ بات بھی یقین کی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ2013 ءکے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے معاملے کو خوش اسلوبی سے سلجھانے کے لئے سیاسی نظام میں بڑی تبدیلی لانا لازم ہے ،لہٰذا اس امر کو یقینی بنانے کے لئے جلد از جلدصاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہی موزوں راستہ ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں سیاسی استحکام کی اور کوئی صورت نہیں ہے۔پارلیمنٹ کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے نگران حکومت قائم کرنے کامشکل فیصلہ کرنا ہوگا اور اس نگران حکومت کو بہت واضح ذمہ داریاں تفویض کرنا ضروری ہے ۔ مثلاً:

٭....عبوری حکومت جلد از جلدملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنائے اور سیاسی استحکام پیدا کرے۔

٭....انتخابات کے طریقہ کاراور قوانین میں اصلاحات کی جائیں اور ایک آزاد و غیر جاندار الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے۔

٭....جس قدر جلد ممکن ہو سکے، مردم شماری کرائی جائے۔

٭....عدلیہ کی آزادی یقینی بنانے کے لئے سپریم جوڈیشل کونسل کا سربراہ ایک ریٹائرڈ جسٹس کو لگایا جائے ۔

٭....نچلی سطح (Local Bodies)کے انتخابات مکمل کرائے جائیں۔

٭.... عام انتخابات کرائے جائیں اور اقتدار زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے والی جماعت کو سونپ دیا جائے۔

٭....یہ تمام اقدامات نو ماہ کے عرصے میں مکمل کئے جائیں، تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن کے وقت برابر کا حق و سہولت مہیا ہو۔

فوج کواس سلسلے میں نگران حکومت کی مدد کرنے کا حکم دیاجائے ،تاکہ نگران حکومت طے شدہ مدت کے اندر اندر اس ذمہ داری کو انجام دے سکے۔اس وقت فوج کا کردار و مقام ، مرکزی اہمیت کا حامل ہے ،کیونکہ یہ سیاستدان اور انقلابی جو ”نیا پاکستان“ بنانے پر تلے ہوئے ہیں وہ بذات خود ملک کے لئے ایک مسئلہ بن چکے ہیں، جبکہ عبوری حکومت کی پشت پناہی پر اگر فوج موجود ہو تو سب کام بڑی خوش اسلوبی سے پایہ ءتکمیل کو پہنچے گا اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو مناسب ماحول اور سہولتیں مہیا ہوں گی....اور سیاسی وعسکری اداروں کے درمیان مفاہمت پیدا ہو گی، جس کی اشد ضرورت ہے۔یہ بہت ہی مشکل، لیکن ضروری فیصلے ہیں جو پارلیمنٹ کی اپنی بقاءکے لئے لازمی ہیں، ورنہ روز بروز بڑھتا ہوا دھاندلی کا شور ان کی سلامتی اور تقدس کے لئے سوالیہ نشان بن جائے گا اور سیاسی قوتیں وہ اختیار اور مقام کھو دیں گی جو اس وقت انہیں حاصل ہے۔ لازم ہے کہ فیصلے بروقت کئے جائیں، ورنہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات مصلحت پر غالب آجائیں گے ۔

مزید : کالم