مذاکرات منسوخی کا ذمہ دار بھارت ہے،پاکستان کی جرات قابل تحسین ہے: حریت قائدین

مذاکرات منسوخی کا ذمہ دار بھارت ہے،پاکستان کی جرات قابل تحسین ہے: حریت قائدین
مذاکرات منسوخی کا ذمہ دار بھارت ہے،پاکستان کی جرات قابل تحسین ہے: حریت قائدین

  


سرینگر (اے این این) مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت نے پاک بھارت مذاکرات کی منسوخی کا ذمہ دار بھارت کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی چوہدراہٹ نہ مان کر بہت اچھا فیصلہ کیا ،اقدام جرات مندانہ ہے اور آئندہ بھی سخت موقف اختیارکیا جائے، پاکستان نے مذاکرات سے پہلے بھارت کا نفسیاتی حربہ خاک میں ملا دیا ہے،اب بھارت کو اپنے منفی روئیے کا دنیا کو جواب دینا ہو گا، کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کے تیسرے نہیں پہلے فریق ہیں،سشما سوراج کا موقف درست مان لیا جائے تو واجپائی بھی کشمیری قیادت کو بلا شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کر چکے ہیں، بھارت دن میں خواب دیکھنے کی عادت اب ترک کر دے ،زمینی حقائق کو تسلیم کرکے آگے بڑھے،کشمیری حق خود ارادیت کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، عالمی برادری بھارت کے منفی رویے کا نوٹس لے۔

بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی کی نذر ہونے والے مذاکراتی عمل پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس(گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی شرائط مسترد کر کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات منسوخ کی ہے جو جرات مندانہ اقدام ہے۔پاکستان مسئلہ کشمیر سے ہٹ کر بھارت کے ساتھ کوئی بات چیت نہ کرے،پاکستان نے کشمیر کے حوالے سے اپنے اصولی موقف کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے اصولی موقف پر پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہیں ، پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کیا پاکستان نے مظلوم کشمیریوں کے لئے جرات مندانہ رموقف اپنایا ، یوم تاسیس منایا جارہا کہ بھارتی فوج نے لاٹھی چاری کیا مجھے 17اپریل سے نظر بند کیا گیا ہے ، عالمی برادری دیکھ لے بھارت کیسے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے ، بھارت کا کشمیر کے حوالے سے موقف کمزور ہے ، بھارت مظالم جاری رکھے ہوئے ہے ، عالمی برادری نوٹس لے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس (ع)کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی کی نذر ہونے والے مذاکراتی عمل پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہاہے کہ مودی حکومت نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے مسئلہ کشمیر کے حل کے نظریے کی سراسر خلاف ورزی کی ہے ۔بھارتی حکومت کو مذاکرات منسوخی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے میر واعظ عمر فاروق نے کہاکہ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق حریت رہنماؤں کی شمولیت کے بغیر کشمیر پر مذاکرات نہیں کرسکتے ۔ بھارت نے مذاکرات منسوخ کر کے اہم موقع گنوا دیا ،کشمیر یوں کے ساتھ بھارت جانوروں جیسا سلوک کرنا چاہتا ہے ، بھارت کا بات چیت کو منسوخ بد قسمتی ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ کشمیریوں کو بولنے کا موقع نہ ملے ، کشمیری مسئلے کے بنیادی فریق ہیں ، کشمیری برسوں سے جانیں دے رہے ہیں ، بھارت کشمیریوں کو فریق ماننے کو ہی تیار نہیں۔سمجھ نہیں آتا کہ کشمیر پر بحث کیے بغیر پاکستان اور بھارت کیا بات کر سکتے ہیں۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے بھارتی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑنے والے مذاکرات کی منسوخی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے کشمیری حریت رہنماؤں کو مذاکرات میں شامل نہ کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام تیسرے فریق نہیں بلکہ اس مسئلے کے پہلے فریق ہیں ۔بھارتی وزیر خارجہ سے مخاطب ہوکر یاسین ملک نے کہاکہ سشماسوراج کہتی ہیں کہ یہ شملہ معاہدے کی روح کے منافی ہے توکیا واجپائی نے بھی کشمیری قیادت کو بلا کر شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ؟۔ان کا کہنا تھا کہ اصل بات یہ ہے کہ بھارت دن میں خواب دیکھنے کا عادی ہے ۔کشمیری حق خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

حریت رہنما شبیر شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہر سطح پر کشمیریوں کی اخلاقی حمایت کی ، کشمیری بھارت کے شدت پسند روپے سے خوفزدہ نہیں ، نئی دہلی ایئر پورٹ سے مجھے حراست میں لے لیا گیا ، کشمیری اپنے حقوق کی جنگ ضرور جیتیں گے ، بھارت نے مذاکرات منسوخ کرنے کابہانہ بنایا ، پاکستانی حکومت کو جرات مندانہ موقف مبارکباد دیتا ہوں ، پاکستان نے ہمیں تنہا نہیں چھوڑا ، کشمیر پاک بھارت مذاکرات کے اہم شراکت دار ہیں۔

دختران ملت کی صدر سیدہ آسیہ اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی چوہدراہٹ نہ مان کر بہت اچھا فیصلہ کیا ، آئندہ بھی سخت موقف اپنایا جائے، شبیر احمد شاہ کی گرفتاری قابل مذمت ہے اور اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مقبوضہ کشمیر کے اصل نمائندوں کو پاکستانی قیادت کیساتھ ملنے سے نہیں روکا جاسکتا، مذاکرات شروع ہونے سے قبل بھارت ہمیشہ اسی طرح کی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اپنے ایک بیان میں آسیہ اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے دباؤ تلے نہ دبتے ہوئے بھارت کی اس غلط فہمی کو دور کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی طرح اس سے مرعوب ہے اور ڈکٹیشن لینے کے لئے ہمیشہ تیارہے۔انہوں نے کہا ہے "بھارت در اصل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک طرف مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی جا رہی ہے تو دوسری جانب بہانے بناکر فرار کے راستے ڈھونڈ رہا ہے۔آسیہ اندرابی نے کہا کہ بھارت جموں وکشمیر کے نمائندوں کو بات چیت کے لئے دعوت دئے جانے پر انکار ہی کیسے کر سکتا ہے کہ جب کشمیر کا متنازعہ ہونا اور کشمیریوں کے جذبات و خواہشات کی ترجمانی کرنے والے قائدین کا جموں و کشمیر کے حقیقی نمائندے ہونا ایک مسلمہ حقیقت ہے۔انہوں نے کہا "حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر ہی بھارت اور پاکستان کے تنازعات کی بنیاد ہے اور جب تک اس مسئلے کو بنیاد بناکر بات نہیں کی جاتی ہے دونوں ممالک کسی بھی طرح کی بات چیت میں آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں"۔ شبیر احمد شاہ کی پاکستانی مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز کے ساتھ ملنے کے لئے جاتے ہوئے گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آسیہ اندرابی نے کہا کہ سب سے بڑی جمہوریت نے پوری دنیا کے سامنے اپنے لئے سوالیہ لگایا ہے۔گرفتاریوں اور مدعو قائدین کو سرتاج عزیز سے ملنے سے روکنے کو شرمناک اور سفارتی آداب کی توہین بتاتے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اسلام آباد میں موجود بھارتی سفیر کو طلب کرکے اپنے مہمانوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج درج کرانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقی ہونے کی دلی خواہش تھی لیکن خرابی صحت کی وجہ سے وہ سفر کرنے کی حالت میں نہیں ہیں جسکا انہیں افسوس ہے۔

ادھر مسلم دینی محاذ کے جنرل سیکریٹری محمد مقبول بٹ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق بھارت کا موقف انتہائی کمزور،بعید از حقیقت اور بین الاقوامی اصولوں و معاہدوں کے خلاف ہے ۔ مقبول بٹ نے کہا کہ تحریک آزادی کے قائدین کے ساتھ پاکستان کی بات چیت و صلاح مشورہ کوئی نئی بات نہیں، ماضی میں یہ ملاقاتیں دہلی و اسلام آباد دونوں جگہوں پر ہوئی ہیں اس لئے بھارت کا اسے بہانہ بنا کر بات چیت سے انکار کوکمزور موقف کی وجہ سے بات چیت سے انکار کے سوا اور کوئی نتیجہ نکالا نہیں جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پاکستانی موقف کو مضبوط،مبنی بر حقیقت اور بین الاقوامی معاہدوں واصولوں کے مطابق قرار دیکر امید ظاہر کی کہ پاکستان جموں کشمیر کے عوام کی تحریک آزادی کی حمایت اور وکالت حصول مقصد تک جاری رکھے گا۔

مزید : بین الاقوامی