ملائیشیا میں تھائی لینڈ کی سرحد سے ملحقہ علاقے سے مزید اجتماعی قبریں دریافت ، 24 لاشیں برآمد

ملائیشیا میں تھائی لینڈ کی سرحد سے ملحقہ علاقے سے مزید اجتماعی قبریں دریافت ...
ملائیشیا میں تھائی لینڈ کی سرحد سے ملحقہ علاقے سے مزید اجتماعی قبریں دریافت ، 24 لاشیں برآمد

  


کوالالمپور (آئی این پی) ملائیشیا میں تھائی لینڈ کی سرحد سے ملحقہ علاقے سے مزید اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن سے 24 لاشیں بھی برآمد کرلی گئیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق ملائیشیا کی پولیس نے کہا ہے کہ انہیں تھائی لینڈ کی سرحد سے ملحقہ علاقے میں مزید اجتماعی قبریں ملی ہیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان قبروں میں پائی جانے والی لاشیں انسانی سمگلنگ کا شکار لوگوں کی ہیں تاہم اصل حقائق لاشوں کے طبی معائنے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

یہ قبریں تھائی لینڈ اور ملائشیا کی سرحد پر بکتی وانگ کے مقام پر ملی ہیں جن سے 24 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔اس سے قبل مئی کے مہینے میں 17 اجتماعی قبریں ملی تھیں جن میں 100 سے زیادہ لاشیں تھیں۔ خیال رہے کہ انسانوں کی سمگلنگ کرنے والے اس علاقے اور ان راستوں کا استعمال بنگلہ دیش اور میانمار (برما) کے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے لاکر سرحد عبور کرانے کے لیے کرتے رہے ہیں۔

یہ جگہ اس مقام کے نزدیک ہے جہاں غیر قانونی طور پر چلنے والے ڈیٹنشن کیمپ میں بند سینکڑوں تارکین وطن کی لاشیں رواں سال مئی کے مہینے میں ملی تھیں۔تھائی لینڈ کے انسانی سمگلروں کے نیٹ ورک دوسرے سمگلروں سے تارکینِ وطن سے بھری پوری کی پوری کشیاں خرید کر انہیں اس وقت تک جنگلوں میں چھپائے رکھتے تھے جب تک ان کے خاندان تاوان ادا نہیں کرتے۔ تھائی لینڈ نے انسانوں کی سمگلنگ کے خلاف پرزور مہم چلائی تھی کیونکہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ غیر قانونی طور پر تھائی لینڈ کے راستے ملائیشیا پہنچتے ہیں۔

تھائی لینڈ کے اس راستے سے بھی بہت قبریں ملیں تھیں جہاں سے انسانی سمگلر میانمار یعنی برما سے جانیں بچا کر بھاگنے والے روہنگیا مسلمانوں کو لے کر جاتے تھے۔بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کی خصوصی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تھائی لینڈ کی پوری کی پوری برادریاں سمگلروں کی مدد کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ کے انسانی سمگلروں کے نیٹ ورک دوسرے سمگلروں سے تارکینِ وطن سے بھری پوری کی پوری کشیاں خرید کر انہیں اس وقت تک جنگلوں میں چھپائے رکھتے تھے جب تک ان کے خاندان تاوان ادا نہیں کرتے۔خیال ہے کہ ہجرت کرنے والے کئی لوگ یہاں بیماریوں اور بھوک سے ہلاک ہو گئے تھے۔

مزید : بین الاقوامی