سستے اتوار بازاروں میں گراں فروشی عروج پر ،انتظامیہ غائب

سستے اتوار بازاروں میں گراں فروشی عروج پر ،انتظامیہ غائب

لاہور(جنرل رپورٹر) صوبائی دارالحکومت میں 9ٹاؤ نوں کے زیر اہتمام لگائے جانے والے 18سستے اتوار بازار وں میں گرانی عروج پر پہنچ گئی ہے۔گزشتہ روز اتوار بازاروں سے ضلعی اور ٹاؤ نوں کی انتظامیہ غائب رہی۔جس کے باعث اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام مارکیٹ سے زائد رہیں۔گلے سڑے پھل اور سبزیاں اوپن مارکیٹ ریٹ پر فروخت ہوتی رہیں۔جبکہ چینی ،آٹا ،کیلا،گوشت کے اسٹالز خالی پڑے رہے۔80فی صد اتوار بازاروں میں چکن کے اسٹا ل بھی نہ لگائے گئے۔جن 20فی صد بازاروں میں گوشت اور چکن کے اسٹال تھے وہاں گوشت مہنگے داموں فروخت ہوتا رہاجبکہ کم عمر چوزوں کا گوشت بھی مارکیٹ ریٹ پر فروخت ہوا۔کراکری اور پلاسٹک کے برتن اور کپڑے بھی مہنگے داموں فروخت ہوئے۔گلے سڑے گاجر،سیب مارکیٹ میں 50سے 60روپے فی کلو گرام تھا ۔اتوار بازار میں 70سے 80روپے فروخت ہوا۔آم عام مارکیٹ میں 70سے80روپے فی کلو گرام فروخت ہوا۔جبکہ اتوار بازاروں میں 120روپے فی کلو گرام فروخت ہوا ۔سب سے زیادہ گرانی والی ٹاؤن واھگہ ٹاؤن ،گلبرگ ٹاؤن،اقبال ٹاؤن کے زیر اہتمام لگائے گئے اتوار بازاروں میں نظر آئی۔جہاں بد انتظامی عروج پر رہی۔دن بھر ٹاؤنوں اور مارکیٹ کمیٹیوں کی انتظامیہ موقع سے غائب رہی۔جس سے اسٹال ہولڈر دل کھول کر عوام کو لوٹتے رہے۔ان ٹاؤنوں کے اتوار بازاروں میں گوشت ،چکن کے اسٹال نہ لگائے گئے ۔چینی آٹا اور کیلا بھی غائب کر دیا گیا۔گھی آئل مقررہ قیمتوں سے 10سے15فیصد فی پیکٹ زائد قیمت پر فروخت ہوا۔دوپہر کے بعد کسی سستے اتوار بازار میں بھی قیمتیں تبدیل نہ کی گئیں۔عموماً دوپہر کے بعد قیمتوں میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔مگر گزشتہ روز انتظامیہ کے غائب ہونے کا خوب فائدہ اٹھایا گیا۔درجہ دوئم اور درجہ سوئم کی اشیاء درجہ اول کے ریٹ پر فروخت ہوئیں،دوسری طرف ناپ تول کے اوزاروں میں بھی ہیرا پھیری پائی گئی۔غیر معیاری اور درجہ سوئم کے پھل اور سبزیاں درجہ اول کی قیمت پر فروخت کی جاتی رہیں۔اس حوالے سے ڈی سی او لاہور کیپٹن(ر) عثمان کا کہنا ہے کہ جن بازاروں سے انتظامیہ غائب رہی ہے،اس کا نوٹس لے لیا گیا ہے ،جلد کاروائی کریں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1