مصر‘ شیخ علی القطن 15سال کی قید بامشقت کے بعد رہا

مصر‘ شیخ علی القطن 15سال کی قید بامشقت کے بعد رہا

قاہرہ(اے این این)مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو’’ اللہ سے ڈرو‘‘کے تین الفاظ کہنے پر مولانا 15سال جیل کی قید بامشقت کی سزا کاٹنے کے بعد رہا ہوگئے ۔مصر کی میڈیا رپورٹس کے مطابق مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو ایک مصری شہری نے مسجد میں ملاقات کے موقع پر خدا سے ڈروکے تین الفاظ کہے تھے جس کی پاداش میں اسے 15سال جیل کی سزا بھگتنی پڑی ۔1993 میں شیخ علی القطان مسجد نبوی میں خدا کی عبادت میں مصروف تھے کہ اچانک وہ اس وقت کے مصری صدر حسنی مبارک کو مسجد میں داخل ہونے پر انتہائی حیران رہ گئے ۔مصر کے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام الحقیق میں شیخ علی نے کہا کہ یہ حسن اتفاق تھا ،میرا کوئی باقاعدہ منصوبہ نہیں تھا ۔جب ہم نے نمازادا کرکے سلام پھیرا تو میں نے صدر حسنی مبارک کو دیکھا ۔یہ بہت عجیب تھا کہ اس کے لیے مسجد کا آدھا ہال خالی کرالیاگیا تھا ،ان کے ہمراہ مسلح باڈی گارڈز بھی تھے ۔شیخ نے کھڑے ہوکر سابق صدرکے قریب جاکر اسے یہ کہاکہ خدا سے ڈرو(جس طرح کہ وہ نظام حکومت چلا رہے تھے)۔شیخ کاکہناہے کہ میرے ان الفاظ کی چبھن محسوس کرنے کے بعدبعد اس نے فوری طورپر میری طرف مضطرب نظروں سے دیکھا اور فوری دائیں بائیں اپنے گارڈز کو گھوم کر دیکھا ۔گارڈز نے حسنی مبارک کو حصار میں لے کر مجھے گرفتار کرلیا اور فوری طورپرمسجد نبوی سے باہر لے گئے ۔اس کے بعد میں سمجھ گیا کہ وہ خوفزدہ ہوگیا تھاکہ شاید مجھ پر حملہ ہونے والا ہے ۔گارڈز نے میرے مزید کچھ نہ بولنے کے خوف سے میرے منہ پر ہاتھ رکھ لیا لیکن میرا مزید بولنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ، میں نے اپنا پیغام پہنچا دیا تھا ۔اس کے بعد وہ مجھے ہال سے باہر لے گئے ۔ مجھے اتنا موقع بھی نہیں دیا گیا کہ میں جوتے پہن سکوں ۔اس کے بعد میری جامہ تلاشی لی گئی کہ کہیں کوئی بم یا آتشیں اسلحہ نہ ہو ،جب انہیں میری تلاشی کے دوران کچھ بھی نہ ملا تو ایک آفیسرنے مجھے کہاکہ آپ نے ہمیشہ شرمندہ کردیاہے ،آپ نے یہ الفاظ یہاں سعودی عرب میں نہیں بلکہ مصر میں کہنے چاہیے تھے ۔شیخ علی کا کہناہے کہ میں نے اسے جواب دیا کہ ہم خدا کے گھرمیں ہیں۔

یہ تمام امت مسلمہ کیلئے ہے اور میں نے اس طرح کے الفاظ مسجد میں ہی کہنے مناسب سمجھے ۔شیخ علی کاکہناہے کہ اس کے بعد مجھے مدینہ سے جدہ تفتیش کیلئے لے جایاگیا ،جہاں مصر کی خفیہ ایجنسی ای این ایس نے مجھے 10کلو وزنی بیڑیاں ڈال کر طیارے میں ڈال کر مصر پہنچایاگیا ۔پندرہ سال قبل کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے شیخ نے کہاکہ مصر میں مجھے شراب نوشی پر زبردستی مجبور کیاگیا لیکن میں نے بتایاکہ میں روزے سے ہوں اور میں نہیں پیؤں گا۔سابق جیل آفیسر میجر جنرل ابراہیم عبدالغفار کا کہناہے کہ ہمیں وزارت داخلہ کی جانب سے حکم تھا کہ کسی کو بھی شیخ علی سے ملنے نہ دیا جائے ۔انہیں کئی سال تک قید تنہائی میں بیڑیاں اور ہتھکڑیاں ڈال کر رکھا گیا ۔آخر میں نے ایک دن اپنے طورپر فیصلہ کرلیا کہ اس پر ظلم ہواہے اور مجھے اس کو تھوڑی بہت راحت دینی چاہیے ۔اس کے بعد میں روزانہ اس کو اپنے دفتر میں بھلا کر چائے پلاتا ۔غفار کا کہناہے کہ میرے بعد ایک اور میجر جنرل نے حکومت سے درخواست کی کہ اس کو رہا کردیاجائے لیکن اس کی درخواست بھی مسترد کردی گئی۔صدر کے چیف آف سٹاف کا کہناتھا کہ صدر اب بھی اس کیس سے ڈسٹرب ہیں ۔غفار کا کہناہے کہ اس کے بعد کئی بار اپیلیں کی گئیں بالآخر 15سال بعد 2007 ء میں حکومت رہا کرنے پر راضی ہوگئی ۔

مزید : عالمی منظر