دی گریٹ انڈوپاک سرکس

دی گریٹ انڈوپاک سرکس
دی گریٹ انڈوپاک سرکس

  


شور تو یوں مچ رہا ہے گویا پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات واقعی ہو جاتی تو شاید امن کی توپ ہی تو چل جاتی اور نہیں ہو سکی تو کوئی پہاڑ ٹوٹ گیا۔فرد ہو یا قوم، کبھی جھگڑ لیں تو لوگ پہلے پہل ان کے جھگڑے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، بیچ بچاؤ ، صلح صفائی کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایک دن سب کو احساس ہو جاتا ہے کہ دراصل وہ دو بیوقوفوں کے چکر میں پڑ کے خود ماموں بن رہے ہیں۔ بس وہاں سے ایک اچھی خاصی ٹریجڈی کامیڈی ہوجاتی ہے۔آئن سٹائن کے بقول پاگل پن کی تعریف یہ ہے کہ ایک ہی تجربہ بار بار اس امید پر کیا جائے کہ اس بار نتیجہ مختلف نکلے گا۔ اس کسوٹی پر اگر 69 برس کے پاک بھارت تعلقات کو پرکھا جائے تو بات آسانی سے سمجھ میں آ جائے گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر پہلا کہتا ہے کالا تو دوسرا کہتا ہے سفید اور اگر دوسرا کہے کہ چلو تمہاری بات مان لی یہ سفید ہی سہی تو پہلا کہتا ہے نہیں بھئی یہ تو کالا ہے۔گویا مسئلہ سیاسی سے زیادہ دماغی ہے۔

دونوں ممالک نے پچھلے سات عشروں میں کون کون سے وید، حکیم اور خود ساختہ طبی فارمولے نہیں آزما دیکھے۔ اقوامِ متحدہ سے بھی رجوع کرلیا، امریکہ اور روس کو بھی بیچ میں ڈال لیا، کبھی کشمیریوں کو اندر تو کبھی باہر رکھ کے بھی دیکھ لیا۔ چار جنگیں بھی آزما لیں، بہت سی جنگی مشقوں کی تلواریں بھی لہرا لیں، ایک دوسرے کی پراکسی پٹائیاں بھی کرلیں، کرکٹ پچیں بھی کھود ڈالیں اور مشترکہ ورلڈ کپ بھی کروا لیا۔دیگر ہمسائیوں کو اپنی اپنی حمایت میں ورغلانے کی الگ الگ کوششیں بھی کر دیکھیں، کسی تیسرے کے گھر میں ہونے والی تقریبات میں کونا پکڑ کے کھسر پھسر بھی ہوگئی اور پھر مسکراتی تصویریں بھی کھنچوا لیں، سارک کا فورم بھی بارہا برت لیا، ایٹم پھوڑ کے ایک دوسرے کو ڈرانے کی بھی کوشش کرلی، ہر بین الاقوامی فورم پر ایک دوسرے کو اڑنگا لگا کے دیکھ لیا۔ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا ریکٹ بھی چلا کے دیکھ لیا۔

فلموں، ٹی وی ڈراموں، فنکاروں اور تخلیق کاروں کے تبادلے سے بھی ایک دوسرے کے دل نرم کرنے کی یوجنا کرلی، واہگہ بارڈر پر غریب سنتریوں سے گھورم گھاری کی اداکاری کرواتے ہوئے تلووں سے دھما کی آواز نکلوانے کا روزانہ تماشا بھی رچا لیا، سرحدوں پر موم بتیاں بھی روشن کر کر کے پگھلا لیں اور کْلّے سے کْلّا جوڑ کے موآ موآ بھی کرلیا۔۔۔’’دل بے ایمان تو بہانے بہت‘‘۔۔۔نیت ٹھیک ہو تو ویتنام، تائیوان، دیوارِ برلن، سرد جنگ، بنگلہ دیش بھارت سرحدی حد بندی، عراق ایران سرحدی تنازعہ، سابق یوگو سلاویہ کی خانہ جنگی، کیوبا امریکہ تعلقات جیسے عالمی ہاتھی بھی ڈپلومیسی کی سوئی کے ناکے سے بالآخر گزار لیے جاتے ہیں۔ نیت ہی نہ ہو تو چند کشمیری رہنماؤں سے پہلے یا بعد میں ملاقات کی بحث کا اڑنگا بھی امن کی توقع کو خاک چٹا دیتا ہے۔

سرحدی لکیر پر ہزاروں میل کی باڑھ کا خرچہ بھی کرلیا، سیاچن کے جوا خانے میں بھی دونوں لٹ لٹا گئے، ایک دوسرے کے آلو، پیاز اور چینی بھی اس امید پر خرید لی کہ جیب گرم ہونے سے دل نرم ہوتا ہے، میڈیا کے منہ میں کبھی پٹرول تو کبھی پانی بھرنے کا بھی تجربہ ہو چکا۔کسی تیسرے کے بغیر دو طرفہ طریقے سے مسائل حل کرنے کی قسمیں بھی بارہا کھا لیں۔ایک دوسرے کے روایتی موقف سے ہٹ کے تجاویز بھی آزما لیں۔ سینکڑوں نوٹس، خطوط، میمورینڈم، بیانات اور کچے پکے مسودے تیار کرنے میں کئی ٹن کاغذ اور سینکڑوں قیمتی گھنٹے بھی ضائع کر لیے۔ پر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔پنجابی میں کہتے ہیں من حرامی تے حجتاں ڈھیر ( دل بے ایمان تو بہانے بہت)۔۔۔دراصل یہ ان دو موتیا زدہ بوڑھیوں کا جھگڑا ہے جنہیں کامل یقین ہے کہ جیسا صاف انہیں دکھائی دے رہا ہے تو دنیا کو بھی ویسا ہی نظر آ رہا ہے:

ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی

چلنا پڑے تو پاؤں جلتے ہیں

ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد

دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں

( جون ایلیا )

مزید : کالم