تقریر امیرِ شریعت ؒ کی ریکارڈنگ کا واقعہ

تقریر امیرِ شریعت ؒ کی ریکارڈنگ کا واقعہ

امیرشریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے خطیبانہ شکوہ اور آپ کی شعلہ نوا اور سحر آفریں تقریروں کا خورشید جہاں تاب جن دنوں نصف النہار پر تھا ان دِنوں عام لوگوں کے پاس ریکارڈنگ مشینوں، موبائل، ٹیلیفونوں اور ٹیپ ریکارڈروں کا وجود نہیں تھا۔حسنِ اتفاق سے معروف آئی سی ایس افسر اور سندھ ہاری رپورٹ کے شہرت یافتہ مصنف جناب محمد مسعود کھدر پوش یورپ کے دورے سے واپسی پر ایک ریکارڈنگ مشین بھی اپنے ساتھ لائے تھے۔محمدمسعود صاحب ان دنوں بطور ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ میں متعین تھے اور قیام پاکستان کے بعد امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری1947ء میں امرتسر سے ہجرت کر کے مجلسِ احرار اسلام ہند کے سابق سکرٹری جنرل اور روزنامہ ’’آزاد‘‘ کے سابق چیف ایڈیٹر نواب زادہ نصراللہ خاں کے ہاں مقیم تھے ، ادھر میں بھی سلطانپور لودھی ریاست کپورتھلہ سے ہجرت کرکے مظفر گڑھ شہر میں آباد ہوگیا تھا، دورانِ قیام محمدمسعود کھدر پوش ڈپٹی کمشنر سے ان کی کھدرپوشی کی بابت سن کر ملاقات کا فیصلہ کیا، محمدمسعود صاحب نے اپنے عملے کی معرفت میری بابت معلومات حاصل کرکے ملاقات کا وقت دے دیا، ان سے ملاقات کے دوران معلوم ہوا کہ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ کے درسِ قرآن میں وہ شریک ہوتے تھے اور کھدّرپوشی حضرت لاہوریؒ کی صحبت کا نتیجہ ہے۔

عوام دوستی اور علماء کرام کے ساتھ ان کی محبت واحترام اور دوستی کے حسنِ سلوک کے باعث مسعود صاحب سے اکثر ملاقات کیا کرتا تھا، میرے ان کے ساتھ نیاز مندانہ گہرے مراسم قائم ہوگئے۔ایک روز مسعود صاحب نے دورانِ ملاقات ٹیپ ریکارڈر کا تذکرہ کرتے ہوئے ریکارڈ کی ہوئی چند باتیں اسی وقت سنادیں، مشین کے ذریعے ریکارڈ کی ہوئی بات سننے کا میرا یہ پہلا موقع تھا، مَیں نے متاثر ہوکر حضرت امیرِ شریعت ؒ کی تقریر ریکارڈ کرنے کی تجویز پیش کی، تو مسعود صاحب سُن کر بہت خوش ہوئے، چنانچہ حسب پروگرام مظفرگڑھ میں ایک عظیم اجتماع کا اہتمام کیا گیا اور اس کے لئے شاہ صاحب سے بطور خاص شرکت کا وعدہ لیا گیا تھا۔مَیں نے شاہ صاحب کے فرزند اکبر اور اپنے ہم درس دوست مولانا حافظ سید ابوذر بخاریؒ سے ٹیپ ریکارڈ کا تذکرہ کیا تو انہوں نے بھی شاہ صاحبؒ کی تقریر ریکارڈ کرنے کے سلسلے میں میری تائید کی، ہم نے شاہ صاحبؒ کی ناراضگی کے پیشِ نظر یہ بھی طے کیا کہ انہیں اس کی اطلاع نہ ملنی چاہئے۔

بہر نوع مقررہ تاریخ پر شاہ صاحب تشریف لے آئے، مقررین کو ٹھہرانے کے لئے مظفرگڑھ میں واقع نوابزادہ نصراللہ خاں کے خانگڑھ ہاؤس میں انتظام کیا گیا تھا، یہ ان دنوں کی بات ہے، جب پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں مرحوم نے بھارت کو مُکّادکھاتے ہوئے اپنا تاریخی اعلان کیا تھا، ان دنوں شاہ صاحبؒ دفاعِ پاکستان اور جہاد کے موضوع پر ولولہ انگیز اور جوش آفریں خطاب فرمایا کرتے تھے۔میرا اور مولانا حافظ سید ابوذر بخاری صاحب کا منشاء یہ تھا کہ شاہ صاحبؒ کی تقریر چونکہ پہلی مرتبہ ریکارڈ ہورہی ہے، اِس لئے پوری توجہ اور زورِ بیان اصل موضوع پر ہی صرف ہونا چاہئے تاکہ ایک تاریخی دستاویز تیار ہوجائے۔

شاہ صاحب کے خطاب کا یہ پہلو چونکہ ہر ایک کے پیشِ نظر تھا کہ دورانِ خطاب کسی قسم کا اعتراض یا استفسار شاہ صاحب کے جوش خطاب اور سحر بیانی کو دوچند کرنے کا موجب بنتا تھا،میری نادانی اور عجلت پسندی کہ نماز عصر کے بعد چائے نوشی کے دوران، جبکہ شاہ صاحبؒ بڑے اچھے موڈ میں تھے عرض کیا : شاہ جی ! آج رات کے اجتماع میں آپ کا موضوعِ خطاب کیا ہوگا؟ میرا خیال تھا کہ اس عنوان پر نجی محفل میں گفتگو کا آغاز ہوجائے گا، اور نوابزادہ صاحب کی موجودگی میں طرح مصرعہ اُٹھانے سے موضوع کا حسن اور کلام کا بانکپن مزید نکھر کر سامنے آجائے گا، اور شاہ صاحبؒ کی یہ تقریر معرکہ آرائی اور معجز نمائی کے اعتبار سے ایک مثال اور لاجواب ہوگی،مگر شاہ صاحبؒ نے میری اس جسارت پر دریافت کیا، اس سوال کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ مَیں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے عرض کیا، بس یونہی، ایک سوال ذہن میں ابھرا تھا۔ کیا سوال؟۔۔۔مجھ سے اس کا صحیح جواب نہ بن سکا، اور ’’گریز آمیز‘‘ بات کی۔

شاہ صاحبؒ نے حیرت آمیز لہجے میں مجھے اور حافظ صاحب سے مخاطب ہوکر فرمایا، مجھ سے کبھی مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ اور مفتی کفایت اللہ دہلویؒ نے نہ پوچھا، مولاناابوالکلام آزادؒ اورمولانامحمد علی جوہرؒ نے میرا موضوع خطاب معلوم نہ کیا ، علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ اور مولانا قاری محمد طیبؒ نے کبھی دریافت نہ کیا، تم لوگ کہاں سے آگئے ہو میرا موضوع خطاب معلوم کرنے والے؟۔۔۔پھر شاہ صاحب نے بطور خاص مجھ سے پوچھا، سچ بتاؤ، اس سوال کا پس منظر کیا ہے؟

مَیں نے عرض کیا کہ ڈپٹی کمشنر مسعود صاحب ایک ٹیپ ریکارڈ مشین لے کر آئے ہیں ہمارا پروگرام آپ کی تقریر ریکارڈ کرنے کا ہے ، بس میرا اتنا جواب سن کر شاہ صاحب نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نوابزادہ نصراللہ خاں صاحب سے فرمایا ، نواب زادہ صاحب اٹھاؤ سامان، چلو یہاں سے:یہ لوگ ’’دِینے قوال‘‘ دی طراں ساڈے توے وجاؤن گے۔یاد رہے ان دنوں محمددین عرف دینا قوّال جالندھری کے گیت گراموفون پر سنائے جاتے تھے،یعنی معروف دِینے قوال کی آواز اور اس کی قوالی کے ریکارڈ جس طرح عام لوگوں میں مقبول ہیں اسی صورت میں اب میری تقریریں ریکارڈ کرکے ’’کالے توے نما ‘‘ ٹیپ گراموفون پر سنائی جائیں گی۔شاہ صاحبؒ کے ذہن میں ٹیپ ریکارڈنگ کا جو نقشہ تھا وہ کسی جدید مشین کا نہ تھا بلکہ مروجہ گراموفون ان کے پیش نظر تھا، میں نے وضاحت کی بہت کوشش کی،مگر شاہ صاحبؒ یہی فرماتے رہے، بیٹا میں خوب سمجھتا ہوں، ’’وہی ہزماسٹرز وائس والے‘‘ گراموفون پر بجنے والے ریکارڈ، کالے توے۔

اس پر نوابزادہ صاحب نے بھی وضاحت کی کہ تقریر اور گفتگو ریکارڈ کرنے کے لئے ایک نئی مشین آگئی ہے اور گراموفون والے سسٹم کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔بایں ہمہ شاہ صاحبؒ نہ مانے، چنانچہ شاہ صاحبؒ کی خدمت میں اظہار معذرت کرتے ہوئے معافی کا خواستگار ہوا کہ موضوعِ خطاب کی بابت سوال کرکے مجھ سے غلطی سر زد ہو گئی ہے۔جس پر شاہ صاحب ؒ نے شفقت پدری سے کام لیتے ہوئے ناصحانہ انداز اختیار کر لیا اور موضوعِ سخن تبدیل ہو گیا، غرضیکہ ہمارے منصوبے اور پروگرام کے مطابق رات کے جلسہ عام کے صدر کی حیثیت سے مسعود صاحب کا اعلان کیا گیا تھا۔شاہ صاحبؒ خطاب کے لئے سٹیج پر تشریف لائے تو مسعود صاحب نے مائیکرو فون کے ساتھ ٹیپ ریکارڈ مشین کا سلسلہ جوڑنا چاہا، شاہ صاحبؒ نے دریافت کیا یہ کیا کررہے ہو؟ مسعود صاحب نے تقریر ریکارڈ کرنے کی وضاحت کردی، انہیں اس کی کوئی خبر نہ تھی کہ ریکارڈنگ کا مسئلہ ہمارے لئے کس قدر اُلجھن اور پریشانی کا موجب بنا رہا ہے اور بڑی مشکل سے شاہ صاحبؒ کو خطاب کے لئے آمادہ کیا گیا ہے۔

بہرنوع حضرت امیرِ شریعت ؒ نے ہاتھ کے زور دار جھٹکے کے ساتھ ریکارڈنگ کا سارا نظام درہم برہم کردیا، اور فرمایا، میری ریکارڈنگ مشین میری قوم ہے، مَیں نے پوری زندگی اسے قرآن سنایا ہے میرے بالوں میں سفیدی آگئی، لیکن جن کے مقدّر میں گمراہی ہے، ان کے دِل کی سیاہی دور نہ ہوسکی، میری ساری زندگی سفر وحضر میں کچھ ریل میں گذر گئی اور کچھ جیل میں :

صبح دم ریل میں گذرتی ہے

شب کسی جیل میں گذرتی ہے

ریکارڈنگ کے سلسلے میں شاہ صاحبؒ کا موڈ خراب دیکھ کر مسعود صاحب نے مجھے کرسئ صدارت پر بٹھادیا، اور خود ٹیپ ریکارڈ لئے شاہ صاحب کے سامنے مجمع میں بیٹھ کر تقریر ریکارڈ کرتے رہے، قریباً پونے دو گھنٹے کی تقریر ریکارڈ ہونے کے بعد ٹیپ ختم ہوگئی اورتقریر ابھی جاری تھی، جلسہ ختم ہوا، تو مسعود صاحب نے شاہ صاحبؒ اور آپ کے رفقاء کو اپنے ہاں ناشتے کی دعوت دی، میں نے نواب زادہ صاحب سے مشورے کے بعد اسے قبول کرلیا، صبح ڈی سی ہاؤس کی طرف جانے لگے تو شاہ صاحبؒ نے دریافت کیا اُدھر کون ہے، جس کے ہاں ناشتے کو جارہے ہو؟ مَیں نے کھدّر پوش کا حوالہ دیا، تو شاہ صاحبؒ نے فرمایا اُدھر تو شہر سے باہر ہمارے ایک غریب کارکن شیخ غلام سرور (کھدّرپوش) رہتے ہیں وہ تو اتنے مہمانوں کا ناشتہ کرانے کی استطاعت نہیں رکھتا، (مَیں حیران تھا کہ شاہ صاحبؒ کو اپنے غریب ترین کارکنوں کی رہائش گاہ کا بھی علم ہے لیڈر لوگ تو بڑے بڑے سرمایہ داروں کے ہاں ڈیرے جمایا کرتے ہیں) مَیں نے برجستہ عرض کیا ہاں شاہ جی! کھدّر پوش ہی کے ہاں جانا ہے، ایک دوسرا کھدّرپوش۔۔۔اور شاہ جی نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے فرمایا، مسعود کھدرپوش کے ہاں؟

اتنے میں کار ڈی سی ہاؤس میں داخل ہوگئی، سامنے بڑے دروازے پر ڈپٹی کمشنر مسعود کھدّر پوش سراپا انتظار تھے،سب سے علیک سلیک کے بعد شاہ صاحبؒ کے ساتھ بغل گیر ہوئے اور بڑے کمرے میں صوفے پر بٹھا کر مسعود صاحب نے ریکارڈنگ مشین کا بٹن دبادیا، کمرے میں شاہ صاحبؒ کے خطبہ مسنونہ ’’الحمدللہ ‘‘ کی پرسوز اور کیف آورآواز بلند ہوئی، شاہ صاحبؒ نے اپنی آواز پہلی مرتبہ ٹیپ ریکارڈ کے ذریعے سُنی تھی، چونک پڑے ’’یہ کیا؟‘‘پھر شاہ صاحب ؒ ، نواب زادہ نصراللہ خاں اور مسعود صاحب دونوں کے ہاتھ پکڑ کر ریکارڈنگ مشین کے پاس چلے گئے، اسے حیرت سے دیکھتے رہے۔مجھے شاباش دی، بہت خوب بیٹا! بہت خوب، یہ تو بہت اچھی چیز ہے۔۔۔پھر مسعود صاحب سے فرمایا بھائی! اس طرح کی ایک مشین ہمیں بھی لے دو، اور نہ سہی، تو سی آئی ڈی کی غلط رپورٹوں سے تو جان چھوٹے گی۔

بعد ازاں مسعود صاحب کا مظفر گڑھ سے بحیثیت سکرٹری زراعت وبحالیات لاہور تبادلہ ہوگیا ، یہاں بھی ایک روز محفل آراستہ کرکے شاہ صاحبؒ کی گفتگو ریکارڈ کرنے کا پروگرام بنایا گیا تھا، مگر اچانک شاہ صاحبؒ کی طبیعت خراب ہوجانے پر ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ والی بات ہوئی۔کچھ عرصہ کے بعد مسعود صاحب بیرونی ممالک کے دورے پر چلے گئے، یورپ اور چین کے طویل دورے میں چین کے بانی ماؤزے تنگ سے ملاقات کر کے واپس آئے، گھر کا سامان دیکھا تو آہنی صندوقچے میں بند چندبرس تک پڑی وہ ٹیپ بری طرح منجمد ہوچکی تھی، اور قریباً پونے دو گھنٹے کی ’’تقریر امیرِ شریعتؒ ‘ ‘کا کسی سیفٹی ایکٹ نے گلا نہیں گھونٹا تھا، بلکہ غفلت شعاری کی نذر ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناقابلِ سماعت ہوگئی :

آرزو دل سے آہ بن کے اٹھی

لب تک آئی تو آہ بھی نہ رہی

یہاں پر اس کی وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ آج کل امیرِ شریعتؒ کے طویل خطبے کی ریکارڈنگ سنائی جارہی ہے، اکثر لوگ مجھ سے اس خطبے کی صحت کی بابت دریافت کرتے رہتے ہیں، جہاں تک امیرِ شریعت ؒ کے خطبہ کا تعلق ہے، مَیں نے اگرچہ حضرت شاہ صاحبؒ کے بہت سے خطبے سنے ہیں، ان کی ایمان افروز اور وجد آفریں تلاوت قرآن کریم کی سماعت کا شرف حاصل ہوا ہے، اس قدر طویل خطبہ مَیں نے نہیں سنا، امیر شریعتؒ کے خطبے کی جھلک دیکھنی ہو تو ان کے چھوٹے فرزند مولانا حافظ سید عطاء المہیمن کی تلاوت قرآن کریم کی سماعت کی جائے۔۔۔ مزید تفصیل اور صحیح معلومات کے لئے حضرت امیر شریعتؒ کی آل اولاد ساکن دار بنی ہاشم مہربان کالونی متصل کچہری ملتان شہر سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مزید : کالم