ن لیگ فیصل آباد کے بعد ننکانہ میں بھی دھڑے بندی کا شکار

ن لیگ فیصل آباد کے بعد ننکانہ میں بھی دھڑے بندی کا شکار
 ن لیگ فیصل آباد کے بعد ننکانہ میں بھی دھڑے بندی کا شکار

  


اس وقت حکمران جماعت کو یہی مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ انہیں لاہور میں ضمنی انتخاب کے لئے تیاری کرنی چاہے۔ ویسے تو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ اس حوالہ سے مسلم لیگ (ن) ہی واحد جماعت ہے جس میں بلدیاتی سرگرمیوں کے حوالہ سے شور بھی سب سے زیادہ ہے۔

اس ضمن میں گزشتہ دنوں فیصل آباد میں چودھری شیر علی نے رانا ثناء اللہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ جس کے پیچھے بھی بلدیاتی انتخابات کی کشمکش ہی نکلی۔ رانا ثناء اللہ کا موقف ہے کہ چودھری شیر علی اپنے بیٹے کو فیصل آباد کا ضلعی ناظم بنوانا چاہتے ہیں۔ جبکہ رانا ثناء اللہ اس کے لئے تیار نہیں۔ رانا ثناء اللہ اپنے بہترین دوست اور رکن پنجاب اسمبلی ملک نواز کے بھائی کو فیصل آباد ضلعی ناظم بنوانے کے لئے سپورٹ کر رہے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کو پنجاب کی وزارت سے ہٹایا گیا ہویا جب انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد مستعفیٰ ہو نے کا اعلان کیا تو تب بھی رانا ثناء اللہ نے اپنی جگہ ملک نواز کو ہی وزیر بنانے کی سفارش کی تھی۔ ملک نواز ویسے صرف رانا ثناء اللہ کے ہی بہترین دوست نہیں ہیں بلکہ وہ شریف براران کے بہت قریب ہیں۔ پارٹی میں ان کی اپنی ساکھ بھی اس قدر مضبوط ہے کہ انہیں رانا ثناء اللہ کی مدد کی ضرورت نہیں۔ لیکن رانا ثناء اللہ اور ملک نواز کے گٹھ جوڑ نے چودھری شیر علی کی فیصل آباد میں طاقت کو کمزور کیا ہے۔ کیونکہ اس سے قبل تو فیصل آباد میں چودھری شیر علی کا طوطی ہی بولتا تھا۔

فیصل آباد کی صورتحال تو چودھری شیر علی کی ایک تقریر کی وجہ سے منظر عام پر آگئی۔ لیکن اس وقت پنجاب کے اکثر اضلاع میں اسی قسم کی صورتحال ہے۔ حکمران جماعت تقریبا ہر ضلع میں بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ زیادہ تر دھڑے بندی تو ایسی ہے کہ ارکان قومی اسمبلی کا الگ گروپ بن گیا ہوا ہے۔ جبکہ ارکان صوبائی اسمبلی کا الگ گروپ بن چکا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال ننکانہ سانگلہ ہل میں بھی ہے۔ جہاں برجیس طاہر کا بلدیاتی انتخابات کے لئے الگ گروپ بن چکا ہے۔ جبکہ ارکان پنجاب اسمبلی رانا ارشد اور طارق باجوہ نے اپنا الگ گروپ بنا لیا ہو اہے۔ برجیس طاہر نے حلقہ میں اعجاز بھٹی کو اپنا کوارڈینٹر مقرر کر دیا ہے جس نے طارق باجوہ کے خلاف الیکشن لڑا تھا۔ اور ننکانہ میں ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ برجیس طاہر نے اگلی ٹکٹ کے لئے اعجاز بھٹی سے وعدہ کر لیا ہوا ہے۔ اس صورتحال نے یقیناًطارق باجوہ کو پریشان کر دیا ہوا ہے۔ ویسے تو طار ق باجوہ کو پچھلے انتخاب میں بھی مسلم لیگ (ن) نے ٹکٹ نہیں دیا تھا کیونکہ ان پر جعلی ڈگری کا الزام تھا۔ اور اس وقت بھی وہ حکم امتناعی پر ہی کام کر رہے ہیں۔

اس ضمن میں ایک دلچسپ واقعہ قارئین کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ دنوں لاہور اسلام آباد موٹر وے پر سانگلہ ہل انٹر چینج کا افتتاح ہوا۔ اس سلسلے میں برجیس طاہر نے این ایچ اے کے سربراہ کے ساتھ اپنے حلقہ میں ایک پریس کانفرنس کی اور اس انٹڑ چینج کا کریڈٹ لیا کہ وہ یہ انٹر چینج بنوا رہے ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے اگلے دن این ایچ اے نے سائٹ پر کام شروع کرنا تھا۔ برجیس طاہر نے اپنے کوارڈینٹر اعجاز بھٹی سے کہا کہ اب میں نے پریس کانفرنس کر دی ہے کل سائٹ پر عوام کے استقبال کے ساتھ کام شروع کروا دیں۔ لیکن جیسے ہی طارق باجو ہ کو معلوم ہوا کہ اگلے دن سائٹ پر کام شروع ہو نا ہے۔انہوں نے بھی اپنے حامیوں کو اکٹھا کر لیا۔ کہ وہ بھی سائٹ پر کام کا افتتاح کریں۔ جب اعجاز بھٹی کو معلوم ہوا کہ طارق باجوہ وہاں پہنچ رہے ہیں ۔ تو انہوں نے سائٹ پر کام کا افتتاح روک دیا ۔ تا کہ طارق باجوہ کی موجودگی میں کام کا آغاز نہ ہو۔ تا ہم طارق باجوہ جب اپنے حامیوں کے ساتھ وہاں پہنچے اور انہیں معلوم ہوا کہ این ایچ اے والے کام کا آغاز کرنے نہیں آرہے۔ تو انہوں نے اپنے طور پر ایک کرین اور ٹریکٹر کا بندو بست کیا تا کہ وہ خود کام کا افتتاح کر سکیں۔ اور پھرانہوں نے اپنے پرائیو ٹ سامان کے ساتھ کام کا افتتاح کر دیا۔ اس طرح ضلع ننکانہ میں برجیس طاہر اور طارق باجوہ کے درمیان بھی وہی صورتحال ہے جو فیصل آباد میں چودھری شیر علی اور رانا ثناء اللہ کے درمیان ہے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ فی الحال لاہور میں حکمران جماعت کے درمیان دھڑے بندی اس طرح نہیں ہے جیسے لاہور کے باہر کے اضلاع میں ہے۔ ویسے تو حکمران جماعت کو امید ہے کہ الیکشن ٹربیونل نے لاہور کے دو حلقوں کے حوالہ سے جو فیصلے دئے ہیں وہ سپریم کورٹ سے الٹ جائیں گے۔ لیکن فرض کر لیا جائے کہ اگر سپریم کورٹ نے لاہور میں ضمنی انتخاب کا حکم دے دیا تو لاہور میں انتخاب کا ایک بڑا میچ پڑے گا۔ جو کافی دلچسپ بھی ہو گا۔ ویسے تو گزشتہ چھ ضمنی انتخاب جیت کر کے مسلم لیگ (ن) کا مورال بلند ہے۔ اسی لئے خواجہ سعد رفیق نے سپریم کورٹ جانے سے پہلے اعلان کر دیا تھا کہ وہ ضمنی انتخاب کروانے کے حق میں ہیں۔ جہاں تک وفاقی وزیر پرویز رشیدکے ریمارکس کا تعلق ہے ۔ تو سیاسی مقدمات میں سیاسی ریمارکس پاکستان کا سیاسی کلچر ہے۔ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان چھ ضمنی ا نتخاب ہارنے کے بعد اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کے لئے اب الیکشن کمیشن پر چڑھائی کا ماحول بنا رہے ہیں۔ کیا حکومت الیکشن کمیشن کی حمائت میں کھڑے ہونے کی پوزیشن میں ہے کہ نہیں ۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔ جو آئندہ کے منظر نامہ کے لئے نہائت اہم ہے۔

مزید : کالم