خطے میں امن دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے

خطے میں امن دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے
 خطے میں امن دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے

  


وزیراعظم لیاقت علی خاں کے دور میں بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ اور دونوں ملکوں کے درمیان سفر کی سہولتوں کو باقاعدہ بنانے کے لئے معاہدہ ہوا۔ جنرل ایوب خان کے دور میں سندھ طاس معاہدے کے ذریعے پانی کے تنازعے کو حل کیا گیا۔ اگرچہ ان کے دور ،یعنی ستمبر 1965ء میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوئی ،مگر پھر تاشقند معاہدہ ہوگیا۔ زیڈ اے بھٹو نے ایوب خاں کے دور میں بھارت سے ہزار سال تک جنگ کرنے کا نعرہ تو لگایا ،مگر انہوں نے 1972ء میں شملہ معاہدہ کر کے تعلقات کو معمول پر لانے کاعمل شروع کیا ۔ ان کے دور کے آخری سال بھارت سے تجارت شروع ہوئی۔ بھارتی اخبار دوسرے روز کراچی، لاہور، اسلام میں دستیاب ہونے لگے جنرل ضیاء الحق کے دور میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر رہے۔ کراچی میں بھارت کا قونصل خانہ قائم ہوا۔ دونوں ملکوں کے شہریوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے پانچ شہروں کے ویزے ملنے شروع ہو گئے۔ ان کے دور میں سیاچن کا معاملہ بھی منظر عام پر آیا مگر پاکستان بھارت کے تعلقات معمول پر رہے جنرل ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کو بھارت سے تعلقات معمول پر لانے کے لئے استعمال کیا۔

پی پی پی کی دوسری حکومت میں بھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اسلام آباد آئے۔ اس دور میں کشمیر میں مجاہدین کی یلغار شروع ہوئی اور یہ سلسلہ وزیر اعظم نوازشریف کے دور میں جاری رہا۔محترمہ بے نظیر بھٹو جب دوسری بار وزیراعظم بنیں تو انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کی، مگر طاقت ور لابی کے دباؤ کے تحت بھارت کے قونصل خانے کے لوگوں کی خفیہ کارروائیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کراچی کے قونصل خانے کی بندش کا فیصلہ ہوا۔ میاں نوازشریف نے دوستی بس کے ذریعے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو مینارِ پاکستان بلایا،بعد ازاں جنرل پرویز مشرف بطور صدر بھارتی وزیراعظم سے ملنے آگرہ بھی گئے، مگر تعلقات معمول پر نہ آ سکے۔۔۔جب آصف علی زرداری نے صدر کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے دونوں ملکوں کے سرحدی علاقوں میں صنعتی زون قائم کرنے کی تجویز دی،ممبئی دہشت گردی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو جنگ کی نفسیاتی سطح تک پہنچا دیا افسوس ناک صورت حال یہ ہوئی کہ بھارتی حکومت میڈیا کے پیدا کردہ جنون کا شکار ہوگئی معذرت کے ساتھ پاکستان کے بھی ایک نجی ٹی وی چینل نے اس واقعہ کو بہت اُچھالا۔

کچھ ماہرین نے حالات کا جائزہ لے کر بڑی مشکل سے جنگی حالات کو ختم کیا مگر دونوں ممالک کے درمیان آنے جانے کی سہولت اور ویزے کی سہولت کو بہت سخت اور پیچیدہ کر دیا گیا۔ قصہ مختصر کہ جب بھی پاک بھارت مذاکرات شروع کرنے کی بات کی جاتی ہے تب کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ اور سانحہ رونما ہو جاتا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہوتا ہے وہ خاص طبقہ ہندوستان کا ہو یا پاکستان کا یہی سمجھتا ہے کہ اس کی بقا دونوں ملکوں میں دشمنی اور نفرت میں ہے دوستی سے اسے نقصان پہنچے گا وہ کسی بھی صورت میں مذاکرات نہیں چاہتا۔ دشمنی اور نفرت کی فضا کو نہ صرف قائم رکھنا چاہتا ہے بلکہ کسی نہ کسی صورت میں اس میں اضافہ کرنے کا خواہش مند ہے یہی سبب ہے کہ یہ طبقہ کوئی نہ کوئی ایسی شرانگیزی کر دیتا ہے جس سے مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے اور مذاکرات ختم ہو جاتے ہیں جس طرح دہلی کے مذاکرات اس بہانے ختم کر دئے گئے کہ سرتاج عزیز کے استقبالئے میں حریت رہنماؤں کو کیوں بُلایا گیا ہے۔

گزشتہ سال بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں دونوں ممالک کے وزراء کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا گیا کہ واہگہ اور اٹاری بارڈر کو تجارت کے لئے 24 گھنٹے کھلا رکھا جائے گا۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا تھا کہ دونوں ملکوں کے بینک ایک دوسرے ملک میں اپنی شاخیں کھولیں گے۔ بھارتی ہم منصب سے مذاکرات کے بعد وطن پہنچ کر پاکستانی وزیر مملکت نے کہا تھا کہ پاک بھارت تجارت سے روزگار کے بہتر مواقع ملیں گے اس سے پاکستانی معیشت مضبوط ہو گی بھارت سے تجارت کے فروغ سے ایک ارب افراد کی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کو جگہ بنانے کا موقع ملے گا۔ کم قیمت اشیاء بنانے کے لئے سستا خام مال دور دراز سے منگوانے کی بجائے اگر چند میل کے فاصلے سے مل جائے تو اس سے عام آدمی کو فائدہ ہوگا۔

دونوں ملکوں کے وزرائے تجارت کی ملاقات میں ویزہ پالیسی میں نرمی پیدا کرنے کے لئے کہا گیا صرف کاروباری افراد کے متعلق تھا۔ لیکن شاید ابھی تک ان مذاکرات کی مثبت باتوں پر عملی مقاصد کی نوبت نہیں آ سکی، محض منہ دکھاوے کے لئے چند ویزے جاری کر دیئے جاتے ہیں ۔ ماہرین اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی سیاسی حکومتیں اگر امن دشمن امن مخالف قوتوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو جنوبی ایشیا میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں، ترقی اور خوشحالی کا ایسا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جس سے تنازعات حل ہونے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کی بصیرت اور غیر مقبول فیصلے کرنے کی صلاحیت اس خطے کو امن کا گہوارہ بنا سکتی ہے۔سیاسی قیادت کو اپنے اقتدار اور ذاتی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر عوام کے مفادات کو مد نظر رکھ کر اگر غیر مقبول فیصلے بھی کرنا پڑیں لیکن اس سے حکمرانوں کا اقتدار خطرے میں پڑ سکتا ہے مگر حکمران اقتدار کی قربانی دے کر عوام کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ سیاسی قیادت کی بصیرت میں اس خطے کو امن کا گہوارہ بنا سکتی ہے۔

بے شک پاکستان ایک نظریئے کا نام ہے۔ جنوبی ایشیا میں امن کا خواب ابھی تعبیر کے مرحلوں سے گزر رہا ہے۔ یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہے یا نہیں یہ آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے۔ رہا کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کا مسئلہ تو سمجھ دار قومیں دنیا میں رائج قوانین کو پیشِ نظر رکھ کر اپنے عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہیں یہ بات طے ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے۔ پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے جس کا حل صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد سے ہی ممکن ہے اقوامِِ متحدہ کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید اسلحہ فروخت کرنے والے ملک بھی اس اہم مسئلے میں رکاوٹ ہیں پاکستان میں سیاسی لوگوں کی لڑائیوں اور دنگے فساد نے ماحول کو کشیدہ کر دیا ہے۔

مزید : کالم