پولیس نے بت بن کر تماشادیکھنا ہے تو محکمہ کو ٹھیکے پر دے دینا چاہیے ،سپریم کورٹ کے سانحہ کوٹ رادھا کشن کیس میں ریمارکس

پولیس نے بت بن کر تماشادیکھنا ہے تو محکمہ کو ٹھیکے پر دے دینا چاہیے ،سپریم ...
پولیس نے بت بن کر تماشادیکھنا ہے تو محکمہ کو ٹھیکے پر دے دینا چاہیے ،سپریم کورٹ کے سانحہ کوٹ رادھا کشن کیس میں ریمارکس

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے سانحہ کوٹ رادھا کشن کے دوران توڑ پھوڑ میں ملوث 2 ملزموں کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ پولیس کی نااہلی کی وجہ سے مسیحی جوڑا جان سے گیا اور پولیس بت بن کر سارا وقوعہ دیکھتی رہی، پولیس نے خاموش تماشائی کا کردار ہی ادا کرنا ہے تو پھر اس محکمے کو ٹھیکے پر دے دینا چاہیے۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ کے روبرو ملزموں محمد اکرم اور نثار احمد کی طرف سے وکلاءنے موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف سانحہ کوٹ رادھا کشن کے دوران توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج ہے، ملزموں کا مسیحی جوڑے کو جلائے جلانے سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر اس کے باوجود ملزم 10ماہ سے جیل میں قید ہیں ،ملزموں کی ضمانت منظور کی جائے ، محکمہ پراسکیوشن کی طرف سے ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل اسجد گرال نے بتایا کہ سانحہ کوٹ رادھا کشن کے 109ملزموں نے ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کر کے لاہور ہائیکورٹ میں ٹرائل کی منتقلی کے لئے درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی وجہ سے ٹرائل رکا ہوا ہے، اگر ہائیکورٹ ٹرائل منتقلی کی درخواست کا فیصلہ کر دے توٹرائل جلد مکمل ہو سکتا ہے، دونوں ملزم اکرم اور نثار اشتعال پھیلانے اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہیں اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے بھی ان کا فعال کردار لکھا ہے ، اس پر جسٹس اعجاز احمد چودھری نے ریمارکس دیئے کہ ٹرائل منتقلی کی درخواست کا فیصلہ نہ ہونا بادی النظر میں لاہور ہائیکورٹ کی کاہلی ہے، عدالتوں کی کاہلی کی وجہ سے کسی کو جیل میں کیوں رکھا جائے، فاضل جج نے قرار دیا کہ بادی النظر میں پولیس کی نااہلی کی وجہ سے مسیحی جوڑے کو زندہ جلایا گیا، اگر ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے پولیس ہوائی فائرنگ بھی کر دیتی توہوسکتا ہے ہجوم منتشر ہو جاتا اور مسیحی جوڑ ے کو بچایا جا سکتا ، فاضل جج نے مزید ریمارکس دیئے کہ پولیس کے پاس ہتھیار بھی موجود تھے مگر پولیس خاموش تماشائی بن کر کھڑی رہی ، اگر پولیس نے بت کا کردار ہی ادا کرنا ہے تو اسے ٹھیکے پر دے دینا چاہیے، روزانہ دیکھتے ہیں کہ چند لوگ مال روڈ سمیت اکثر شاہراﺅں کو احتجاج کے نام پر بند کر دیتے ہیں مگر پولیس بت بن کر کھڑی رہتی ہے ، پولیس کی نالائقی کی وجہ سے ٹریفک جام ہوجاتی ہے جس کا سارا عذاب شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے، فاضل جج نے میڈیا کے کردار پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا بھی چند لوگوں کے احتجاج کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے ،اس سلسلے میں غلط بیانی سے بھی کام لیا جاتا ہے ، ایڈیشنل پراسکیوٹر نے بتایا کہ سانحہ کوٹ رادھا کشن کے وقت پولیس اہلکاروں کی تعداد 5جبکہ ہجوم کی تعداد پانچ ،چھ سو کے قریب تھی، پولیس کی غفلت کی وجہ سے ایک اے ایس آئی کو برطرف اور باقی اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی گئی ہے، ہجوم نے پولیس اہلکاروں کو مسیحی جوڑے کے قریب جانے سے روکا اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا جس پر فاضل جج نے کہا کہ پولیس نے یہ ساری کہانی اپنی جان بچانے کیلئے گھڑی ہے، کیا پولیس اسی طرز عمل کے لئے تنخواہ لیتی ہے، انصاف تو یہ ہے کہ پولیس کو بھی سانحہ کوٹ رادھا کشن میں ملزم ہونا چاہیے، ایڈیشنل پراسکیوٹر نے استدعا کی کہ حتمی بحث کیلئے مہلت دی جائے جسے بنچ نے منظور کرتے ہوئے محکمہ پراسکیوشن کو حتمی بحث کیلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔

مزید : لاہور