ہائی کورٹ :کالعدم تنظیم کے مبینہ رکن قاری اسماعیل عتیق کی نظر بندی کالعدم

ہائی کورٹ :کالعدم تنظیم کے مبینہ رکن قاری اسماعیل عتیق کی نظر بندی کالعدم
ہائی کورٹ :کالعدم تنظیم کے مبینہ رکن قاری اسماعیل عتیق کی نظر بندی کالعدم

  


لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم تنظیم کے مبینہ رکن قاری اسماعیل عتیق کی نظر بندی کالعدم کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔مسٹر جسٹس انوار الحق اور مسز جسٹس ارم سجاد گل پر مشتمل دو رکنی بنچ کے روبرو قاری محمد اسماعیل عتیق کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو کاﺅنٹر ٹیر رازم ڈیپارٹمنٹ کے ڈی ایس پی محمد اسلم نے رپورٹ پیش ہو کر بتایا کہ درخواست گزار کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے پر 2009ءاور 2011ءمیں مقدمات درج کئے گئے اور اسی بنا پر قاری اسماعیل کو نظر بند کیا گیا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ نظر بند کئے گئے شہریوں کی نظر بندی میں توسیع کے لئے پیش کرنا ہوتا ہے اس لئے درخواست گزار کو سیشن جج کے روبرو پیش نہیں کیا گیا، ڈی سی او فیصل آباد نور الامین مینگل کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی کہ درخواست گزار کی نظر بندی میں 17ستمبر کے بعد توسیع نہیں کی جائے گی، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قاری اسماعیل کی نظر بندی کے خلاف عرضداشت سیکرٹری داخلہ کے روبرو زیر التواءہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عرضداشت زیر التواءہونے کے بارے میں ڈی سی او کیسے جواب دے سکتا ہے، درخواست گزار کے وکیل ریاض احمد خان نے موقف اختیار کیا کہ کاﺅنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ نے قاری اسماعیل کو 19جون سے گرفتار کر رکھا ہے اور کسی عدالت میں پیش نہیں کیا جو آئین کے آرٹیکل 10کی ذیلی دفعہ 5کی خلاف ورزی ہے ،نظر بندی کے احکامات کالعدم کئے جائیں، دو رکنی بنچ نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے اور ریکارڈ دیکھنے کے بعد دو ماہ سے نظر بند کئے گئے مبینہ طور پر کالعدم تنظیم کے رکن قاری اسماعیل عتیق کی نظر بندی کالعدم کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

مزید : لاہور