فیصلے میں تاخیر پر تنقید کرنے والے عدالتی کارروائی سے ناواقف ہیں : جسٹس کاظم ملک

فیصلے میں تاخیر پر تنقید کرنے والے عدالتی کارروائی سے ناواقف ہیں : جسٹس کاظم ...
فیصلے میں تاخیر پر تنقید کرنے والے عدالتی کارروائی سے ناواقف ہیں : جسٹس کاظم ملک

  


لاہور (نامہ نگار)الیکشن ٹربیونل کے سربراہ کاظم علی ملک نے ٹربیونل کے فیصلے میں تاخیر کے بارے میں وضاحتی نوٹ جاری کر دیا۔ وضاحتی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ 80 صفحات کا جامع اور تفصیلی فیصلے میں وقت لگتا ہے تبصرے کرنے والے عدالتی کارروائی سے ناواقف ہیں۔ الیکشن ٹربیونل کے سربراہ کاظم علی ملک نے فیصلے میں تاخیر پر ہونے والی تنقید پر پریس نوٹ جاری کیا جس میں کاظم علی ملک نے واضح کیا کہ عمران خان اور سردار ایاز صادق کے درمیان انتخابی تنازع کا مختصر نہیں بلکہ تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔ٹربیونل کے سربراہ کے مطابق یہ طے کیا گیا تھا کہ کیس کا فیصلہ سنانے سے ایک یا دو گھنٹے پہلے فریقین کے وکلا کو ٹیلی فون کے ذریعے فیصلہ سنانے کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور فیصلہ سنانے کے لیے ٹربیونل کی جانب سے کوئی وقت نہیں دیا گیاجبکہ 80 صفحات کے فیصلے میںووٹوں کے اعداد وشمار کو سوفیصد درست درج کرنے کے عمل کو منٹوں اور گھنٹوں میں مکمل نہیں کیا جاسکتا۔ کاظم علی ملک نے یہ سوال اٹھایا کہ تحزیہ نگار انکا فیصلہ پڑھنے کے بعد یہ بتائیں کہ یہ فیصلہ لکھانے کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا۔ ٹربیونل کا کہنا ہے کہ فیصلہ سنانے کی تاریخ سے پہلے فیصلہ لکھانے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے عملے کو فیصلہ سنانے سے چار یا پانچ دن پہلے یہ بتایا جائے کہ فیصلہ کیا ہونے والا ہے۔ ٹربیونل کے سربراہ کے مطابق عدالتی معاملات میں فیصلہ صرف فیصلہ کرنے والے کے ذہن میں ہوتا ہے اس لیے عدالتی اہلکاروں اور دیگر افراد کی طرح فیصلہ والے دن ہی فیصلے سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ ٹربیونل نے یہ وضاحت کی کہ فیصلے والے دن جج اور ان کا عملہ عدالتی کمرے کو بند کرکے فیصلہ تحریر کرتا ہے اور فیصلہ مکمل ہونے پر ہی کمرے کی کنڈی کھولی جاتی ہے،اگر اس بات کی تصدیق کرنی ہو تو خود سیشن کورٹ جاکر اس کا مشاہدہ کیا جاسکتاہے۔

مزید : لاہور