اسرائیل 75 فیصد سے زائد تیل کس ملک سے خرید کراپنی ضروریات پوری کررہا ہے؟ جواب آپ کو بھی حیران کردے گا

اسرائیل 75 فیصد سے زائد تیل کس ملک سے خرید کراپنی ضروریات پوری کررہا ہے؟ جواب ...
اسرائیل 75 فیصد سے زائد تیل کس ملک سے خرید کراپنی ضروریات پوری کررہا ہے؟ جواب آپ کو بھی حیران کردے گا

  


بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کی اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن آپ کو یہ جان کر سخت حیرانی ہوگی کہ عالم اسلام کے سب سے بڑے دشمن اسرائیل کو رواں دواں رکھنے والی تیل کی طاقت کا 77 فیصد حصہ ایک اسلامی ملک سے آرہا ہے۔

اخبار ’’فنانشل ٹائمز‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی تیل کی درآمدات کا تین چوتھائی سے زائد حصہ (77 فیصد) عراقی کردستان سے آرہا ہے۔ رواں سال مئی سے لے کر 11 اگست تک اسرائیل کو کردستان سے 19 ملین بیرل تیل بیچا گیا جس کی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر (تقریباً 100 ارب پاکستانی روپے) ہے۔

کرد حکام نے ظاہر نہیں کیا کہ اسرائیل کو تیل براہ راست یا بالواسطہ طور پر بیچا گیا، البتہ ایک کرد مشیر کا کہنا تھا ’’جب ہم تیل تاجروں کے حوالے کردیتے ہیں تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں کہ یہ کس کے پاس جاتا ہے۔ ہماری غرض رقم حاصل کرنا ہے تاکہ داعش کے خلاف پیشمرگہ فوج اور سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دے سکیں۔‘‘

واضح رہے کہ عراق کے شمالی علاقے میں کرد قوم کی اکثریت ہے اور یہی علاقہ تیل کی بے پناہ دولت سے بھی مالا مال ہے۔ کرد کئی دہائیوں سے اپنی علیحدہ ریاست قائم کرنے کیلئے سرگرم رہے ہیں اور جہاں ایک طرف عراق کے ساتھ ان کی کشیدگی جاری ہے وہیں داعش کے نئے ابھرنے والے خطرے نے بھی انہیں نشانہ بنا رکھا ہے۔ کردستان سے مبینہ طور پر کئی ممالک کو تیل کی فروخت کی وجہ سے بھی عراقی حکومت اور کردستان کے درمیان حالات سخت کشیدہ ہیں۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

آئی فون ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

مزید : بین الاقوامی