ساؤ تھمپٹن ون ڈے: آج ٹاس اہم ہوگا

ساؤ تھمپٹن ون ڈے: آج ٹاس اہم ہوگا
 ساؤ تھمپٹن ون ڈے: آج ٹاس اہم ہوگا

  

پاکستان کی ٹیم آج ساؤتھ تھمپٹن روز باؤل میں انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کا پہلا میچ کھیل رہی ہے۔ اگرچہ یہ ٹیم انگلینڈ کے مقابلے میں فیورٹ نہیں ہے مگر اس نے گزشتہ دس پندرہ برس سے پاکستان کی تمام ٹیمیوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کے ساتھ برطانوی عوام اور میڈیامیں نیک نامی حاصل کی ہے۔ساؤتھ تھمپٹن میرے لیے نیا مقام نہیں ہے۔ چیمپئن ٹرافی 2004ء کے سلسلے میں یہاں پانچ مرتبہ آچکا ہوں۔یہ انتہائی خوبصورت جگہ ہے۔ مگراس میدان میں پاکستان کی کوئی خوشگوار یادیں نہیں ہیں۔2004ء کی چیمپئنز ٹرافی کا پہلا سیمی فائنل پاکستان اور ویسٹ انڈیزکے درمیان اسی میدان میں کھیلا گیا۔اس دوران ابر چھایا ہوا تھا اور توقع تھی کہ جو ٹیم ٹاس جیتے گی وہ میچ بھی جیت جائے گی۔ میچ سے آدھا گھنٹہ پہلے ٹاس ہوا۔ پاکستان کے کپتان انضمام الحق نے ٹاس جیتا اور سکرین پر نمودار ہوا کہ پاکستان ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرے گا۔ تقریبا ایک منٹ کے بعد یہ حیران کن خبر آئی کہ پاکستان ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کررہا ہے۔ اُس وقت ٹی وی پر بیٹھے ماہرین نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کے فیصلے پر انتہائی حیرت کا اظہار کیا۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کی اور پوری ٹیم ایک سو اکتیس رنز بنا کر ڈھیر ہوگئی۔ اور یوں ویسٹ انڈیز فائنل کے لےئے کوالیفائی کرگیا۔ ٹاس کے حوالے سے انضمام الحق کے فیصلے کے بارے میں کافی لے دے ہوئی۔ بہرحال اس میچ کا بڑا افسوسناک انجام ہوا ۔

پاکستان اس میدان میں آج سے پہلے تین میچ کھیل چکا ہے اور صرف ایک ہی کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کے گزشتہ دوروں کو دیکھتے ہوئے مجھے اس ٹیم سے بہتر کھیل کی توقع ہے۔ یہ ٹیم 2010 اور 2006، 2004کی ٹیموں سے ڈسپلن اور شہرت کی بنیاد پر کافی اونچے مقام پر ہے۔ پاکستان میں ماہرین اظہر علی کی محدود اوور کے کھیل میں کپتانی اور پھر بحیثیت بیٹسمین سلیکشن کے سلسلے میں کافی مختلف رائے رکھتے ہیں۔ اظہر علی کی بحیثیت کپتان تعیناتی کے فیصلے سے ان لوگوں سے متفق ہوں جو اس کے خلاف ہیں۔ مگر میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اظہر علی کی بحیثیت بیٹسمین ون ڈے ٹیم میں جگہ بنتی ہے۔

سب جانتے ہیں کہ ہماری ٹیم عمومی طور پرپچاس اوور تک وکٹ پر کھڑے رہنے کی اہلیت اور سکت نہیں رکھتی۔ اظہر علی مصباح الحق اور یونس خان کی طرح اننگز کھیلتے ہیں اور آخری گیندوں پر چوکے چھکے لگا کر معقول اوسط قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی بیٹنگ کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ کوالٹی آل راؤنڈرز بھی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔ حفیظ کی باؤلنگ پر پابندی لگ چکی ہے اور بحیثیت بیٹسمین ان کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔ ان کے رویے پربھی سوالیہ نشان ہے۔ آج موسمی صورتحال کے مطابق ٹاس اہم ہوگا۔ پاکستان کو اٹیکنگ کرکٹ کھیلنا ہوگی اور پہلے بیٹنگ کی صورت میں تین سو سے زیادہ رنز بنانے کی جستجو اور حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

مزید :

کالم -