لندن میں الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر سکوت طاری ، کوئی بھی قابل ذکر شخصیت انٹرنیشنل سیکریٹریٹ موجود نہیں

لندن میں الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر سکوت طاری ، کوئی بھی قابل ذکر شخصیت ...
لندن میں الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر سکوت طاری ، کوئی بھی قابل ذکر شخصیت انٹرنیشنل سیکریٹریٹ موجود نہیں

  

لندن (ویب ڈیسک) ایم کیو ایم قائد کی پاکستان مخالف تقریر اور ملکی سلامتی کے اداروں اور افسروں کے خلاف ہر زہ سرائی پر پولیس اور رینجرز کے مشترکہ آپریشن کے بعد شمالی لندن کے علاقہ ایجوئر میں الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر موت کا ساسکوت طاری رہا، صبح سے رات گئے تک یہاں آنے جانے والوں کی کوئی ہلچل نظر نہیں آئی حتٰی کہ ایم کیو ایم انٹرنیشنل سیکرٹریٹ میں بھی روزانہ آنے والوں میں سے بھی چند افراد ہی آتے دکھائی دیئے۔ نائن زیرو سیل کرنے اور کراچی کے تازہ ترین واقعات پر مﺅقف لینے کیلئے انٹرنیشنل سیکرٹریٹ پر بارہا فون کرنے اور پیغام چھوڑنے پر بھی ”متحدہ “ کا کوئی ذمہ دار بات کرنے کیلئے تیا رنہیں اور برطانیہ میں ایم کیوا یم کے بعض خودساختہ جلا وطن لیڈر بھی اپنے موبائل فونز پر دستیاب نہیں۔

روزنامہ خبریں کے مطابق پیر کے روز متحدہ قائد کی مذکورہ تقریر منظر عام پرآنے اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کی طرف سے بعض میڈیا ہاﺅسز پر حملے اور حملے کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد برطانیہ کے ایک پاکستانی نژاد شہری طارق محمود نے الطاف حسین کے خلاف پولیس رپورٹ درج کروائی ہے اور میڈیا سے گفتگومیں کہا کہ پاکستان افواج پاکستان اور اس کے ذیلی ادارے ہمارا فخر ہیں ۔اگر ہمارے وطن اور حتجاج کیلئے ہتک آمیز اور غلیظ زبان استعمال کرے گا تو ہم برطانیہ تو کیا دنیا بھر میں اس شخص یا تنظیم کا محاسبہ کرینگے۔ طارق محمو دنے کہا کہ جب میں الطاف حسین کے خلاف رپورٹ درج کروانے لندن کے نوٹنگ پل پولیس سٹیشن گیا تو ڈیوٹی پر معمور پولیس افسر نے یہ کہہ کر رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا کہ الطاف حسین نے کوئی جرم نہیں کیا اس ملک میں تحریرو تقریر کی مکمل آزادی ہے لیکن جب میں نے اصرار کیا تو دہشت گردی کیلئے بنائی گئی خصوصی فورس SO15 کے دو ایشیائی افسروں کو بلوایا گیا جو اُردو زبا ن میں جانتے تھے ۔ میں نے انہیں جب الطاف حسین کی پوری تقریر دکھائی اور سنوائی تو انہوں نے تصدیق کی کہ بالکل اس تقریر میں ایسا مواد موجود ہے جس میں گھیراﺅ جلاﺅ یادہشت پھیلانے کی تحریک دی جارہی ہے ہم نے چنانچہ دونوں پولیس افسروں کی اس تصدیق کے بعد میری رپورٹ در ج کر لی گئی اور مجھے یقین دلایا گیا کہ اس پر ضابطے کی کارروائی کی جائے گی ۔

ذرائع کے مطابق برطانیہ کی وزیراعظم تھریسا مے اور آئرلینڈ کے وزیراعظم اینڈی کینی کو یو کے اور آئرلینڈ میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ہزار ہا ای میلز ٹوئٹر اور فیس بک کے علاوہ دیگر پوسٹ سے درخواست موصول ہو رہی ہیں جن میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ الطاف حسین کے خلاف دہشت گردی کے جرم میں کارروائی کی جائے یا انہیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔

مزید :

برطانیہ -