اگر بچے کی پیدائش سے پہلے ماں یا باپ موٹے ہوں تو بچے کو شروع سے ہی صحت کایہ مسئلہ ہوتا ہے، ڈاکٹر نے موٹے افراد کو خوفناک خبر دے دی

اگر بچے کی پیدائش سے پہلے ماں یا باپ موٹے ہوں تو بچے کو شروع سے ہی صحت کایہ ...
اگر بچے کی پیدائش سے پہلے ماں یا باپ موٹے ہوں تو بچے کو شروع سے ہی صحت کایہ مسئلہ ہوتا ہے، ڈاکٹر نے موٹے افراد کو خوفناک خبر دے دی

  

لندن(نیوز ڈیسک)موٹے افراد کی اپنی صحت کے لئے تو مسائل ہوتے ہی ہیں لیکن سائنسدانوں نے یہ انکشاف کر کے انہیں مزید پریشان کر دیا ہے کہ ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی صحت کے سنگین مسائل کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ شادی سے قبل موٹاپے کا شکار ہونے والے ہزاروں افراد پر کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق ان کے بچوں کو ابتداءسے ہی سست میٹابولزم کے مسئلے کا سامنا رہتا ہے، جس کی وجہ سے بعد کی زندگی میں انہیں دیگر بیماریوں کے علاوہ موٹاپہ لاحق ہونے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

نومولود بچے کو کتنے عرصے تک ماں کا دودھ پلایا جانا چاہیے اور اس سے ماں کس سنگین ترین بیماری سے محفوظ رہتی ہے؟ جدید تحقیق میں ایسا جواب مل گیا کہ سائنسدان بھی دنگ رہ گئے

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف برسٹل کے سائنسدانوں کی اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حمل کے دوران ماں کی خوراک سے زیادہ یہ بات اہم ہے کہ حمل سے پہلے والدین موٹاپے کا شکار تھے یا نہیں۔ سائنسدان ڈاکٹر ڈیبی لالر کی سربراہی میں تحقیق کرنے والی ٹیم نے یورپ سے حاصل کئے گئے تین ڈیٹا سیٹس میں 5337ماں، باپ اور بچے کے گروپوں کا تجزیہ کیا۔ اس تجزئیے میں حمل سے قبل والدین کے وزن کو مدنظر رکھا گیا تھا، جبکہ بچوں کے میٹابولزم کے بارے میں معلومات ان کے کولیسٹرول لیول، لپڈز، گلوکوز، انسولین اور بلڈ پریشر کے مطالعے سے حاصل کی گئیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ حمل کے دوران خواتین کی خوراک کا بچے کی صحت پر بہت زیادہ اثر نہیں پڑتا تاہم جو والدین حمل سے قبل موٹاپے کا شکار تھے ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کا میٹا بولزم واضح طور پر سست پایا گیا۔ چونکہ میٹابولزم خلیات میں ہونے والے تعاملات کا مجموعہ ہے، لہٰذا اس کا سست ہونا صحت کے متعدد مسائل کو جنم دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتیجے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک نسل کے موٹاپے کا منفی اثر اگلی نسل کی صحت پر بھی پڑتا ہے۔

مزید : تعلیم و صحت