جعفر از بنگال و صادق از دکن

جعفر از بنگال و صادق از دکن
 جعفر از بنگال و صادق از دکن

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حکومتی جماعت مسلم لیگ(ن)کے سیاسی حلیف محمودخان اچکزئی کوجب بھی موقع ملتاہے وہ کفن پھاڑ کربولتے ہیں۔ ان کی نا موزوں اورغیر معقول باتوں کواگر جمع کیاجائے تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان کاریکارڈ سیاہ ترین شمار ہوگا۔ اس حوالے سے ایم کیوایم کے سابق قائدالطاف حسین سے محمود خان اچکزئی کا مقابلہ رہاہے مگرالطاف حسین چونکہ ایم کیوایم کی سیاست سے خارج ہوچکے ہیں اس لیے میدان میں اکیلے محمودخان اچکزئی رہ گئے جوپاکستان کے قومی مفادات سے متصادم بیانات دینے میں اب اپناکوئی ثانی نہیں رکھتے۔ الطاف حسین کی تقاریر کونشرکرنے پرپاکستان میں پابندی ہے۔ اس لیے محمودخان اچکزئی نے شایدالطاف حسین کی ذمہ داریاں بھی رضاکا رانہ طور پر اپنے سر لے رکھی ہیں اوروہ اپنایہ فرض سمجھتے ہیں کہ ہروہ بات کہی جائے جو پاکستان کی طے شدہ قومی پالیسی کے خلاف ہو۔ محمودخان اچکزئی نے کہاہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیرکی آزادی کا مطالبہ تسلیم کرے نہ کرے پاکستان کو پہل کرنی چاہیے اور کشمیر کوآزاد کردیناچاہیے۔ ایسامضحکہ خیز مطالبہ محمود خان اچکزئی ہی کر سکتے تھے اور کسی پاکستانی سیاستدان سے ایسی نامعقولیت کی اُمید کی ہی نہیں جاسکتی۔ کشمیرکاوہ علاقہ جسے آزادکشمیرکہاجاتاہے وہ آئینی طورپراس وقت بھی پاکستان کاحصہ نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کی اپنی اسمبلی، ۱پنی سپریم کورٹ،اپنا وزیراعظم اور اپنا صدرہے۔ پھرآزادکشمیر میں توایسی کوئی تحریک موجود نہیں جوآزاد کشمیر کی پاکستان سے آزادی کامطالبہ کررہی ہو۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی ٗکشمیر کی تحریک کی کامیابی کے لیے ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ہرشہیدہونے والے کشمیری مجاہد کااپنے لہو کاآخری قطرہ بہادینے تک ایک ہی نعرہ ہے کہ وہ بھارت سے آزادی اور پاکستان سے الحاق چاہتاہے۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کا بچہ بچہ بھارت سے آزادی اورپاکستان سے الحاق کاآرزو مندہے۔کشمیری قوم کی پاکستا ن سے محبت کا یہ عالم ہے کہ انڈین فوجوں کی سنگینوں کے سائے تلے وہ پاکستان زندہ باد کے نعرے بلندکرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنااپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ یہاں میں یہ عرض کردوں کہ ایک ممبرقومی اسمبلی جب تک صدق دل کے ساتھ یہ حلف نہیں اٹھالیتاکہ وہ پاکستان کا حامی و وفادار رہے گااوریہ کہ وہ اپنے فرائض وکارہائے منصبی پاکستان کی خودمختاری، سالمیت، استحکام، یکجہتی، اور خوشحالی کی خاطر انجام دیتارہے گا، اس وقت تک اسے آئینی طورپر قومی اسمبلی کارکن تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔

کیاپاکستان کی سلامتیِ، خودمختاری، استحکام اور یکجہتی کا حلف اٹھانے والے ممبر قومی اسمبلی جناب محمود خان اچکزئی سے ہم یہ پوچھنے کی جسارت کرسکتے ہیں کہ کیامقبوضہ کشمیرکی آزادی کی تحریک کے صریحاًخلاف ان کا تازہ بیان قائداعظم کے اس تاریخی بیان سے یکسر متصادم نہیں جس میں بانی پاکستان نے کشمیرکو پاکستان کی شہ رگ قراردیاتھا۔ قائداعظم کا کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دئیے جانے سے مرادیہ ہے کہ کشمیر کی آزادی اہل پاکستان کے لیے زندگی اورموت کامسئلہ ہے۔ جب تک ہماری شہ رگ پردشمن کاقبضہ ہے اس وقت تک پاکستان کے لئے سلامتی اورخودمختاری کے لئے خطرات موجود رہیں گے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں جدوجہدِ آزادی جاری و ساری ہے اورجس کی خاطر کشمیریوں نے لازوال اوربے مثال قربانیاں دی ہیں۔ محمود خان اچکزئی کا حالیہ بیان جہادِکشمیر کے لیے کشمیریوں کے زندہ اورتوانا جذبوں کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔ اگر ہم مقبوضہ کشمیر کے لیے کشمیری مجاہدین کی عسکری مدد نہیں کرسکتے تو ہمیں کشمیریوں کو اپنی سیاسی اوراخلاقی حمایت سے تو محروم نہیں کرناچاہیے۔ پاکستان نے آزاد کشمیر پر قبضہ نہیں کر رکھالیکن جب ممبرقومی اسمبلی محمود خان اچکزئی یہ کہتے ہیں کہ پاکستان آزاد کشمیرکو’’ آزاد‘‘ کردے تواس کے معنی یہ ہوئے کہ محمود خان اچکزئی یہ کہہ رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر پرجیسے بھارت کا قبضہ ہے اسی طرح آزاد کشمیرپر پاکستان کا قبضہ ہے۔ گویا پاکستان کاایک ’’ حامی اور وفادار‘‘ ممبر قومی اسمبلی پاکستان کو غاصب اورظالم قراردے رہا ہے۔

اگر پاکستان ایک غاصب اور ظالم ملک ہوتاتو مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کی خاطر شہید ہونے والے مجاہدین کو کشمیری قوم کبھی پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کردفن نہ کرتی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یومِ آزادی کو جب کشمیری قوم یوم سیاہ کے طورپرمنارہی ہوتی ہے اورپاکستان کییوم آزادی کو مقبوضہ کشمیر کے مسلمان ہم پاکستانیوں سے بھی زیادہ جوش و خروش سے مناتے ہیں تو اس سے پاکستان کے ساتھ کشمیری قوم کی بے پناہ محبت کااظہار ہوتاہے۔

اگر مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں کا اجتماعی طور پریہ خیال ہوکہ پاکستان کاآزاد کشمیر پر ظالمانہ قبضہ ہے تو وہ کبھی پاکستان کے یوم آزادی کی خوشیوں میں ہمارے ساتھ شریک نہ ہوں۔اہل پاکستان میں بھی ایسا ہی جذبہ موجود ہوناچاہیے کہ جس دن مقبوضہ کشمیر آزاد ہو گاوہ دن ہمارے لیے عید جیسی خوشیوں کی نوید لے کر آئے گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کی قوم کی اکثریت کی یہی سوچ ہے اور محمود خان اچکزئی جیسی منفی سوچ رکھنے والے بمشکل چند ہی لوگ ہوں گے جو مقبوضہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کو نقصان پہنچانے کی خاطر ایسا متنازعہ بیان جاری کر سکتیہیں جس طرح کا شرمناک بیان محمود خان اچکزئی نے دیاہے۔

محمود خان اچکزئی ایک ایسا نقطۂ نظر کیسے پیش کرنے کا حق رکھتے ہیں جو نہ صرف پاکستان کے قومی اورملکی مفادات کے منافی ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ تسلط کے خلاف جہاد کرنے والوں کے لیے بھی قابل قبول نہیں۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی اور ان کا پورا خاندان اس وقت اقتدار کے مزے بھی لُوٹ رہا ہے لیکن جب بھی موقع ملتا ہے اچکزئی صاحب نے کوئی بیان دیتے وقت کبھی پاکستان کے قومی مفاد کو ملحوظ نہیں رکھا۔ فرض کریں جوبیان محمودخان اچکزئی نے کشمیر کے حوالے سے دیا ہے اگرایسا غیر ذمہ دارانہ اوراحمقانہ بیان پیپلزپارٹی کا کوئی مرکزی لیڈردیتا توپاکستانی اور خود کشمیری قوم اسے کبھی معاف نہ کرتی لیکن مرکزمیں حکمران جماعت کا اگر کوئی سیاسی حلیف اورممبر قومی اسمبلی ایسابیان دیتاہے توحکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کی قیادت اورخود حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ گمراہ کن بیان دینے پر محمود خان اچکزئی کی سخت الفاظ میں مذمت کرے اور کشمیر کے حوالے سے اپنی قومی پالیسی کی وضاحت کرے۔ پاکستان سے الحاق پوری کشمیری قوم کی آوازہے۔ اس آواز کوبھارت کی ساری فوج نہیں دباسکی۔ محمود خان اچکزئی کی نامعقول تجویزدراصل ان ایک لاکھ سے بھی زیادہ شہدائے تحریکِ آزادی کشمیر کے مقدس جذبوں اور قربانیوں کی توہین ہے جو پاکستان کے ساتھ الحاق کی خاطراپنا سب کچھ داؤ پرلگاچکے ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ پاکستان نے آزاد کشمیر پر کوئی تسلط نہیں جمارکھا۔ لیکن آزادکشمیر کے دفاع کے لیے پاکستان کی غیور اوربہادر فوج اپنے آخری سپاہی کی شہادت اورخون کے آخری قطرہ کی قربانی تک دینے کے لیے تیار ہے۔ محمود خان اچکزئی کی انتہائی احمقانہ تجویز پر عمل کرتے ہو ئے اگر ہم آزاد کشمیر کے دفاع سے دستبردار ہوجائیں توبھارت آزاد کشمیر کے خلاف بھی خوفناک کارروائی کرگزرے گا۔ محمود خان اچکزئی کی تجویز دراصل بھارت کے خونخوار بھیڑیوں کو آزاد کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرلینے کی دعوت دینے کے مترادف ہے، ایسی تجویز کوئی ملک و قوم کا غدار ہی دے سکتا ہے کہ آزاد کشمیر کو پلیٹ میں رکھ کر انڈیا کو دے دیاجائے اورمقبوضہ کشمیر میں بھی کشمیریوں کی آزادی کے مِشن کوتباہ کردیاجائے۔

میں محموداچکزئی کی خدمت میں عرض کرنا چاہتاہوں کہ وہ ملک میں جمہوری اداروں کے استحکام اور آئین کی بالادستی کی باتیں بڑی بلند آہنگ اورتواتر کے ساتھ کرتے رہتے ہیں۔ اس پر ان کی تحسین بھی کی جانی چاہیے لیکن پاکستان کی سلامتی اوراستحکام ہی سے ملک میں جمہوریت کااستحکام اورآئین کی بالادستی مشروط ہے۔ اگرآپ ایسی تجویز دیں گے جس سے تحریک آزادی کشمیر اور ہمارے ملک کی سلامتی اور استحکام سوالیہ نشان بن جائے تو جمہوری اداروں کو آپ کس ملک میں مستحکم کریں گے؟ کیا کشمیریوں کو حقِ خودارادیت کے ذریعے اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کی اجازت دینا جمہوریت نہیں ہے اورکیایہ بھی حقیقت نہیں کہ کشمیر کے عوام کی عظیم اکثریت اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں اپنا فیصلہ نہیں دے چکی ہے۔ اگرانڈیا کوکوئی شبہ ہے تو وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کے ذریعے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے عوام کے فیصلے کومنظور کرنے کااعلان کردے۔ کشمیری قوم اپنے حق خودارادیت کے ذریعے جو بھی فیصلہ کرے گی، پاکستان اسے خوشی سے قبول کرے گا۔ کشمیریوں کے لیے رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کے فیصلے کی راہ میں اگر کوئی دیوار ہے تو وہ بھارت کا ظلم اور ہٹ دھرمی ہے۔ بھارت کی کشمیر دشمنی اور مسلمان دشمنی کی توسمجھ آتی ہے لیکن قومی اسمبلی کے ایک رکن کی طرف سے کشمیرکاز کودفن کرنے والی تجویز سمجھ نہیں آئی۔ علامہ اقبال کاایک فارسی شعر ضرب المثل کی حیثیت سے محترم قارئین کو بھی ضرور یاد ہوگا:

جعفر از بنگال و صادق از دکن

ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن

ہماری صرف اتنی خواہش ہے کہ محمود اچکزئی اس شعرکے مصرع اول میں اپنے نام کا اضافہ نہ ہونے دیں۔

مزید : کالم