خاندانِ شریفیہ

خاندانِ شریفیہ
 خاندانِ شریفیہ

  

یوں نظر آتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست حلقہ120 کے حوالے سے کچھ زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آتی اور نہ ہی اس حلقے کے ضمنی الیکشن کو کوئی بڑا ’’معرکہ‘‘ یا ’’دنگل‘‘ بنانا چاہتی ہے۔۔۔ مسلم لیگ(ن) نے پہلے یہاں سے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کوامیدوار بنانے کا ارادہ ظاہر کیا،مگر پھر انہیں پنجاب کے محاذ پر ہی رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا بھی اعلان کیا گیا،مگر پھر یہ فیصلہ کیا گیا کہ شاہد خاقان عباسی مدت پوری کریں گے۔ اِس فیصلے کے حوالے سے کہا گیا کہ نواز شریف شہباز شریف کو آگے نہیں آنے دیں گے اور خاندان میں اب ’’اتفاق‘‘ نہیں رہا۔۔۔ درحقیقت جنرل پرویز مشرف کے دور سے یہ ایک سازش یا خواہش موجود ہے کہ نواز شریف کی سیاست کو توڑنے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں بھائیوں کو ’’توڑا‘‘ جائے،جنرل پرویز مشرف نے بھی کوشش کی کہ شہباز شریف کو کسی نہ کسی طرح ’’قابو‘‘ کر لیا جائے۔ انہوں نے شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا بھی ’’دانہ‘‘ ڈالا۔۔۔ مگر شہباز شریف نے ان کے دام میں آنے سے انکار کر دیا اور اپنے بھائی کے ساتھ جلا وطنی کو قبول کر لیا اب ایک بار پھر شہباز شریف کو ’’توڑنے‘‘ کی کوشش کی جا رہی ہے اور نواز شریف کے سیاسی مخالفین ان پر سیاسی سے زیادہ ’’ذاتی‘‘ حملے کر رہے ہیں۔۔۔ وہ خاندان کے درمیان ’’دراڑ‘‘ کی باتیں کرتے ہیں۔ شہباز شریف کو ’’ہلہ شیری‘‘ دیتے ہیں کہ وہ موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے خاندان کی سیاست کو عروج پر پہنچائیں،یعنی وزیراعظم کے منصب تک پہنچنے کی کوشش کریں،مگر مجھے لگتا ہے کہ دونوں بھائیوں کے درمیان ’’تلوار بازی‘‘ کا کوئی امکان نہیں ہے، شہباز شریف جذباتی ضرور ہیں، مگر اتنے بھی نہیں کہ اپنے بھائی کے سینے میں ’’خنجر گھونپ‘‘ دیں۔

اس خاندان کے حوالے سے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ایک خالص مشرقی گھرانہ ہے، جہاں اب بھی بہت سے معاملات روایتی انداز میں طے کئے جاتے ہیں،یہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بعض معاملات میں اختلاف رکھتے ہوں گے، مگر ان اختلاف پر اتنا اونچا نہیں بولتے کہ ان کی آواز دیواروں سے باہر نکل جائے ، اِس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف کی خواہش ہو گی کہ ان کی بیٹی مریم نواز وزیراعظم بنیں،مگر وہ بیٹی کو وزیراعظم بنانے کے لئے، شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز شریف کو بالکل ہی نظر انداز نہیں کر سکتے، ان کے ذہن میں حمزہ شہباز شریف کے لئے بھی کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا اور شہباز شریف کی طویل سیاسی جدوجہد اور تجربہ بھی ان کے سامنے ہے وہ شہباز شریف کے لئے ’’صدر‘‘ کی نشست بھی ذہن میں رکھ سکتے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ نواز شریف اب ذاتی طور پر ایک ’’باس‘‘ کے کردار میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں وہ تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں، اب مزید وزیراعظم بن بھی جائیں پھر بھی وہ سابق وزیراعظم ہی کہلائیں گے،مگر اِس خاندان کے سیاسی مخالف خاندان توڑنے کی مہم چلائے ہوئے ہیں اور شاید اِس خاندان کے توڑنے میں ہی اپنی سیاسی ’’بقا‘‘ دیکھتے ہیں، مگر اِس خاندان کے توڑنے میں ابھی بہت سی رکاوٹیں ہیں، سب سے بڑی رکاوٹ اُن کی والدہ محترمہ ہیں جو ابھی زندہ ہیں اور گھر کے سربراہ کے طور پر ’’حکم‘‘ کا درجہ رکھتی ہیں اور خاندان کے چھوٹے بڑوں کے لئے ان کے ’’حکم‘‘ کے آگے ’’پر‘‘ مارنا مشکل ہے۔

پھر ایک مزید رکاوٹ رائیونڈ میں اُن کے والد کی قبر ہے،جو گھر کے آنگن میں موجود ہے۔یہ لوگ ہر روز اپنے والد کی قبر پر حاضری دیتے ہیں ذکرو اذکار کرتے ہیں اور جمعرات کا ختم دلانے کے علاوہ اپنے والد کی قبر پر میاں محمد بخش، سلطان باہو، بلھے شاہ اور دیگر صوفی شعرا کے کلام پڑھنے والے بھی بلاتے ہیں،جو پورے دن صوفیا کا کلام پڑھتے رہتے ہیں میاں شریف ایک کاروباری شخص تھے، مگر دین کے حوالے سے بھی بہت محبت رکھتے تھے۔ صوفیا کا کلام بہت سے شوق سے سنتے تھے، میرے ایک دوست(نام دانستہ نہیں لکھ رہا) جمعرات کو اپنے گاؤں سے لاہور آتے تھے اور سارا سارا دن میاں محمد شریف کو صوفیا کا کلام سناتے تھے۔ میرے دوست بتایا کرتے تھے کہ میاں محمد شریف نعت شریف اور صوفیا کے کلام پر بہت روتے تھے اور اِس دوران اُن کی کیفیت دیکھنے والی ہوتی تھی۔ مَیں اپنے دوست کا بیان کِیا واقعہ سُنا کر میاں محمد شریف کو ’’ولی اللہ‘‘ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کر رہا، بلکہ ایک عینی شاہد کے بیان کو آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ سو اِس ’’قبر‘‘ کی موجودگی بھی دونوں بھائیوں کو ’’ٹوٹنے‘‘ سے بچانے کے لئے ایک روحانی دوا کے طور پر موجود ہے اور دونوں بھائی کبھی اپنے والد کی قبر کو نظر انداز نہیں کر سکتے، مگر یہ بات طے ہے کہ حلقہ 120کے حوالے سے نوازشریف اور شہباز شریف زیادہ سنجیدہ نہیں اور کلثوم نوازشریف کی نامزدگی اور پھر اچانک لندن روانگی اور اب حمزہ شہباز شریف کی لندن روانگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائدین اپنی سیاسی طاقت کو ایک ایسی نشست کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہتے،جس کی میعاد محض چند مہینے ہے اور اس نشست کے ہارنے یا جیتنے کا بظاہر کوئی فائدہ بھی نظر نہیں آتا۔

اگر اس نشست کو ’’اَنا‘‘ کا مسئلہ بنایا جاتا تو اِس حلقے میں اُن کی سیاسی سرگرمیاں کچھ اور طرح کی ہوتیں ابھی تک حلقے کے سیاسی حالات اور جوڑ توڑ اور طرح کا ہوتا۔ میرے خیال میں اگر مسلم لیگ (ن) نے اس نشست کو ’’اَنا‘‘ کا مسئلہ نہیں بنایا تو یہ فیصلہ بہت اچھا ہے اور یقینی طور پر ان کے مخالفین کے لئے ان کی ’’عدم دلچسپی‘‘ کسی صدمے سے کم نہیں، کیونکہ وہ لوگ دراصل اس نشست کے ذریعے خود کو ’’قومی سطح‘‘ پر نمایاں کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اب اُنہیں خاموش طریقے سے الیکشن لڑنا پڑ رہا ہے، کیونکہ ان کی طاقت بڑھانے کے لئے مسلم لیگ (ن) کا جوابی ردعمل بہت کم ہے اور مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر وفاقی وزیر پرویز ملک محترم کلثوم نواز کے لئے انتخابی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ خود مَیں نے جو دیکھا ہے کہ مجھے کلثوم نواز کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ جیسے کہ عام لوگ نوازشریف کی نا اہلی کو ایک غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے کلثوم نواز کو کامیاب کرانے کے لئے پُر عزم ہیں۔۔۔ ’’اور تادم تحریر کلثوم نواز ونر‘‘ کے طور پر محترمہ یاسمین راشد سے آگے نظر آتی ہیں دیگر جماعتوں کے امیدوار ’’خانہ پری‘‘ کی حد تک موجود ضرور ہیں، مگر مقابلہ ان دونوں کے درمیان ہے اور حلقے میں ایک مشترکہ امیدوار کے طور پر ڈاکٹر یاسمین راشد کے لئے کوشش کی جا رہی ہے،مگر عملاً اس سے صرف چند سو ووٹوں کا ہی فائدہ ہو سکتا ہے۔

مزید : کالم