اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ (8)

اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ (8)

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اس آیت سے یہی حکم سمجھے تھے چنانچہ علامہ سید محمود آلوسیؒ نے "تفسیر روح المعانی " میں اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ :

ترجمہ : مروی ہے کہ حضرت سعد بن عباد رضی اللہ عنہ نے یہ لفظ ان یہودیوں سے سنا اور فرمایا کہ : اے اللہ کے دشمنو ! تم پر اللہ کی لعنت ہو ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، اگر میں نے تمہارے کسی شخص کو یہ لفظ کہتے سنا کہ وہ حضورؐ کو کہہ رہا ہے تو میں لازماًاس کی گردن اْڑا دوں گا۔

اسی طرح حضرت اما م رازیؒ نے" تفسیر کبیر " میں یہی قول حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے بھی نقل کیا، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ :

ترجمہ : مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ لفظ ان یہودیوں سے سنا اور فرمایا کہ : اے اللہ کے دشمنو ! تم پر اللہ کی لعنت ہو ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، اگر میں نے تمہارے کسی شخص کو یہ لفظ کہتے سنا کہ وہ حضورؐ کو کہہ رہا ہے تو میں لازماًاس کی گردن اْڑا دوں گا‘‘۔

یہاں پر یہ بات یاد رہے کہ یہ الفاظ صرف سعد بن معاذ اور سعد بن عباد رضی اللہ عنہم کے نہیں تھے بلکہ جمہور صحابہ کا یہی مسلک اور نظریہ تھا کہ نبیؐ کی توہین کرنے والا واجب القتل ہے۔چنانچہ فتح القدیر میں علامہ شوکانی امام نعیم کے حوالے سے لکھتے ہیں :

ترجمہ : امام نعیم نے "دلائل النبوۃ " میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مومنوں نے ان آیات کے نزول کے بعد کہا : جسے تم حضورؐ کے لیے یہ الفاظ کہتے ہوئے سنو ، تو اس کی گردن اڑا دو ، تو اس کے بعد یہودی رک گئے۔

شیخ التفسیر حضرت مولانا ادریس کاندہلوی اپنی تفسیر" تفسیر معارف القرآن " میں تحریر فرماتے ہیں: "نبی کی اشارتاً اور کنایتاً تحقیر بھی کفر ہے اس لیے کہ یہود صریحاً آپ کی تحقیر نہیں کرتے تھے۔ راعنا کہہ کر اشارتاً اور کنایتاً آپ کی تحقیر کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو کافر فرمایا"۔ فَاِآوَانآْآ فآ الدّآن�آ وَنْفَصِّلْ اآاآٰتِ لِقَوٓمٍ َّٓعٓلَمْوٓنَٓ11وَاِآ نّآَثْوٓٓا اآمَانآْآ مِّآ بَآدِ عآدآِآ وَطَعَنْوٓا فآ دآنآْآ فَقَاتِلْوٓٓا اآِمَّۃَ اآْآرِآ اِنّآْآ لَآ اآمَانَ لآْآ لَعَلّآْ�آَآتآْوٓنَ 12ٓ

ترجمہ : اب بھی اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکوٰٓ دیتے رہیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ (11) ہم تو جاننے والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں۔اور اگر وہ توڑ دیں اپنی قسمیں عہد کرنے کے بعد اور عیب لگائیں تمہارے دین میں تو لڑو کفر کے سرداروں سے بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں تاکہ وہ باز آئیں (12)۔

امام ابن کثیر ؒ مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

ومن ھاھنا اخذ قتل من سب الرسول صلوٰت اللہ و سلامہ علیہ او من طعن فی دین الاسلام او ذکرہ بتنقص "

اس آیت میں علما ء نے یہ بات اخذ کی ہے کہ جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالیاں دے، دین میں عیب جوئی کرے، اس کا ذکر اہانت کے ساتھ کرے اسے قتل کردیا جائے۔

تفسیر قرطبی میں علامہ قرطبی فرماتے ہیں :

ان آیات سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ دین میں طعن کرنے والے ہر آدمی کو قتل کرنا واجب ہے ، کیونکہ وہ کافرہے۔ اور طعن کا معنی یہ ہے کہ اس کی طرف ایسی شے کی نسبت کرنا جو اس کے لائق اور مناسب نہ ہو یا کسی امر دینی کو حقیر سمجھتے ہوئے اس پر اعترا ض کرنا ، جب کہ اس کے اصول کا صحیح ہونا اور اس کے فروع کا درست ہونا دلیل قطعی سے ثابت ہو۔ ابن منذر نے کہا ہے : عام اہل علم نے اس پر اجماع کیا ہے کہ جس نے حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب و شتم کی اس کی سزا قتل ہے۔

امام تیمیہ ؒ " الصارم المسلول " میں مذکورہ آیت پر بحث کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضورؐ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ عام لوگوں سے تو در گزر فرمایا کرتے تھے لیکن جو بد بخت دین میں طعنہ زنی کرتا تھا یا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ کو ایذاء دیتاتھا تو اس کے خون کو آپ ؐ ہدر فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ اما م موصوف فرماتے ہیں :

اور جو دین میں طعن کرتا ہے تو اس کے ساتھ قتال کرنا متعین ہے ، اور یہی طریقہ نبی کریم ؐ کا تھا ، کیونکہ آپ ؐ ان لوگوں کا خون ہدر فرماتے تھے جو اللہ تعالیٰ اوراس کے رسولؐ کو ایذاء دیتے ، اور دین میں طعنہ زنی کرتے ، اگر چہ ان کے علاوہ اوروں سے آپؐ درگزر فرماتے۔

اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے امام ابوبکر حصاص ؒ نے " احکام القرآن " میں امام لیث ؒ کا قول نقل کیا ہے کہ (العیاذ باللہ ) اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اسے فوراً ہی قتل کیا جائے گا، نہ اْسے مہلت دی جائے گی اور نہ ہی اس سے تو بہ کا مطالبہ کیا جائے گا، چناچہ امام موصوف فرماتے ہیں کہ :

ترجمہ : امام لیثؒ اس مسلمان کے لیے فرماتے ہیں جو نبی ؐ کی توہین کرتا ہے کہ اسے نہ مہلت دی جائے گی اور نہ ہی توبہ کا کہا جائے گا ، بلکہ اسی جگہ قتل کر دیا جائے گا ، اگر یہود و نصاریٰ ایسا کریں تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی اپنی کتاب "قانون توہینِ رسالت ایک سماجی ،سیاسی ،تاریخی تناظر " میں لکھتے ہیں کہ " یہ آیات ان دو جرائم کے بارے میں ہیں ، جن میں ان لوگوں کے خلاف جنگ کرنے کو حق بجانب قرار دیا گیا ہے ، جو ان جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے تو ان کے خلاف جہاں اہل ایمان کے ساتھ کیے گئے عہد ، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔ دوسرے نمبر پر وہ لوگ آتے ہیں جو مسلمانوں کے دین پر حملہ کرتے ہیں۔ مسلم سکالر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جوکوئی پیغمبر اسلام کے خلاف یا آپ کی تعلیمات میں سے کسی ایک کے بارے میں توہین آمیز اور رسوا کن را ئے کا اظہار کرتا ہے و ہ ان عام ہدایات اور فرمان کے تحت سزا کا مستوجب ہے۔"

چہارم : سورۃ الاحزاب 57

اِنَّ الَّذآن�آْؤٓذْوٓنَ اللّآَ وَرَسْوٓلَٓٓ لَعَنَْٓمْ اللّآْ فآ الدّْآَا وَاآاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّ لآْآ عَذَابًا مّآآنًا (57)

ترجمہ :جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسواکن عذاب ہے۔

اس آیت مبارکہ سے درج ذیل امور ثابت ہوتے ہیں۔مفسرین نے استدلال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو شخص بھی کسی بھی طریقے سے حضور ؐ کو ایذاء4 اور تکلیف پہنچائے یا آپؐ کی توہین و تنقیص اور استخفاف کرے خواہ صراحتاً ہو یا کنایتاً ، اشارتاً ہویا تعریضاً ہر صورت میں وہ کافرو ملعون ہو جائے گا۔اس آیت کے ضمن میں امام ابن تیمیہؒ کہتے ہیں:

" اللہ تعالیٰ نے اپنی ایذا کو رسولؐ کی ایذا اور اپنی اطاعت کو رسولؐ کی اطاعت کے ساتھ مقرون و متصل کر کے بیان کیا ہے ، یہ بطریق منصوص بھی آپ سے منقول ہے۔اور جو شخص اللہ کو ایذا دے وہ کافر اورمباح الدم ہے۔ اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اور رسول ؐ کی محبت ، اپنی اور رسولؐ کی رضا مندی ، اپنی اور رسولؐ کی اطاعت کو ایک ہی چیز قرار دیا ہے۔ " مزید فرمایا کہ " اللہ اور اس کے رسول ؐ کا حق باہم لازم و ملزوم ہے ، نیز یہ کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی حرمت کی جہت ایک ہی ہے ، لہذا جس نے رسولؐ کو ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اس لیے کہ امت کے تعلق باللہ کا رشتہ صرف رسولؐ کے واسطہ سے استوار ہو سکتا ہے۔ کسی کے پاس بھی اس کے سوا دوسرا کوئی طریقہ یا سبب نہیں ہے ، اوامر و نواہی اور اخبار و بیان میں اللہ نے رسول ؐ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا ہے ، اس لیے مذکورہ بالا امور میں اللہ اور رسولؐ کے مابین تفریق جائز نہیں۔

مزید : اداریہ