قومی اتفاق رائے:اب نہیں تو کب؟

قومی اتفاق رائے:اب نہیں تو کب؟
 قومی اتفاق رائے:اب نہیں تو کب؟

  

’’یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے‘‘۔۔۔ انسان سوچتاکچھ اور اللہ کو منظور کچھ اور ہوتا ہے۔ ہر مسلمان کے دل میں یہ تمنا ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے مقدس گھر میں عبادت گزار ہو اور اس کے پیارے رسولؐ کے روضہ مبارک پر حاضری کی سعادت بھی حاصل کرے، ہمارے اپنے من میں بھی یہ خواہش پلتی رہی، کئی بار کوشش کی، دو تین بار مواقع ملنے کی توقع ہوئی، لیکن باریابی کی اجازت نہ مل سکی، اس بار بیٹھے بٹھائے اجازت ملی اور رکاوٹیں بھی دور ہوتی چلی گئیں، لاہور پریس کلب کو ہمارے ساتھی چودھری محمد اسلم کی وساطت سے چار ارکان کے لئے حج کی دعوت ملی تو انتظامیہ نے چودھری محمد اسلم کے ساتھ شہزاد بٹ، ضیاء اللہ خان نیازی اور ہمیں بھی نامزد کیا اور یہ خوشخبری سنادی، اللہ کا شکر ادا کیا، پھر متعلقہ حضرات سے ملاقات ہوئی، کچھ بات چیت ہوگئی، اگلے روز معلوم ہوا کہ چار کی جگہ دو جائیں گے، اب یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ فیصلہ کون کرے؟

۔۔۔ پریس کلب نے معاملہ متعلقہ سپانسر پر چھوڑ دیا، پھر ہمیں بتایا گیا کہ تین دوست جائیں گے جن میں ہمارا نام شامل نہیں۔ ہم نے اسے اللہ کی رضا جانا، دوستوں کو مبارک باد دی، پھر پریس کلب میں جمع ہوئے، ہم نے دل کھول کر سب کو خوش آمدید کیا، فیصلے کی تحسین کی، اتنے میں برخوردار شہزاد بٹ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ’’میں ایک بات کہنے والا ہوں اور یہ پہلی اور آخری ہوگی، اس پر مزید کوئی گفتگو نہیں کریں گے، دوسرے امور پر بات ہوتی رہے‘‘۔ انہوں نے سانس لیا اور یکایک بولے: ’’چودھری خادم حسین ہمارے بزرگ ہیں، ان کا ہم سب پر حق ہے، میں ان کے لئے دستبردار ہوتا ہوں اور اب میری جگہ یہ سینئر بزرگ جائیں گے‘‘۔ ہم نے بہت کوشش کی، لیکن شہزاد بٹ نے مزید کوئی بات نہ سنی اور فیصلہ ہوگیا‘‘۔ ایسے محسوس ہوا کہ حق تعالیٰ کی طرف سے بالآخر منظوری آگئی، حالانکہ ہم 1985ء سے آس لگائے بیٹھے اور کوشش بھی کی،مگر کامیاب نہ ہوئے ۔

اس کے بعد انتظامات کا سلسلہ شرع ہوا، صاحبزادے عاصم چودھری نے تو کرنے ہی تھے، محترم مجیب الرحمان شامی اور عمر مجیب شامی کی محبت کے ساتھ ڈائریکٹر فنانس الحاج ارشد محمود نے بھی بھرپور تعاون کیا اور مالی مسائل بھی حل ہوگئے، یوں بتدریج کام ہوتے چلے گئے، وقت کم تھا، روانگی کے لئے 21۔اگست کی پروازوں میں سیٹیں کنفرم نہ ہوسکیں، رکنا پڑا، اس اثناء میں ہم بہن بھائیوں اور دوستوں سے مل بھی چکے تھے، بہر حال زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا اور 24۔ اگست کی صبح کے لئے کنفرم نشستیں مل گئیں، واپسی 2۔ اکتوبر تحریر ہے، تاہم بتایا گیا کہ واپسی کے لئے حرمین شریفین میں ارکان پورے ہو جانے کے بعد تبدیلی کرالی جائے گی۔ اب روانگی کی تیاری ہے۔ عزیز و اقارب، دوستوں سے دعا کی اپیل کہ اللہ صحت مندی کے ساتھ تمام ارکان ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، انشاء اللہ سب کو دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔

بزرگوں کے قول اور ہدائت کے مطابق میں جاتے وقت دل سے پُرنم، دکھ اور شکایت دور کرکے جارہا ہوں، ہر ایک کو جو بھی گلہ ہے معاف کیا اور خود کے لئے عرض گزار ہوں کہ دانستہ یانادانستہ میری ہرگستاخی اور ہر غلطی کو معاف کردیا جائے اور کسی بھی نوعیت کی دل شکنی سرزد ہوئی ہو تو اسے بھی درگزر کیا جائے، ان شااللہ اللہ نے برکت، ہمت اور وقت دیا تو واپس آکر زندگی کو سیدھی راہ پر چلانے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ یہ کالم روانگی سے پہلے تحریر کیا ہے، اب سفر در پیش ہوگا، عبادت کی طرف توجہ کے باعث شاید وہاں نہ لکھا جاسکے، انشاء اللہ واپسی پر روئیداد ضرور تحریر کروں گا، فی الحال تو دل وطن کے لئے دھڑک رہا ہے، اللہ کے گھر اور روضہ رسولؐ پر ملک، وطن اور عوام کے لئے دعا بھی کریں گے، فی الحال تو دو باتیں عرض کرنا ہیں، اول یہ کہ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کا اعلان کرکے ہمارے ملک کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ نئی بات نہیں، ہم اپنے متعدد کالموں میں یہ نشان دہی کرچکے ہیں اور یہ اپیل بھی کی کہ پاکستانی حضرات کو اس طرف توجہ دینا ہوگی کہ یہود و ہنود مل کر عیسائی کمیونٹی کو ساتھ ملا کر کچھ کرنے والے ہیں اور امریکی ’’ٹرمپ‘‘ کے ارادے نیک نہیں۔ اس لئے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

دوسری گزارش یہ کی کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی نہ کریں، قومی اسمبلی میں زیر التوا احتساب بل اتفاق رائے پیدا کرکے منظور کریں تاکہ سب کا احتساب برابرہی کی بنیاد پر ہو، یہ بل سابق حکومت(پیپلز پارٹی) کے دور میں متعارف ہوا اور مجلس قائمہ کے پاس تھا، چند شقوں پر اتفاق رائے نہیں ہو رہا تھا، اس سلسلے میں بھی یہ سطور گواہ ہیں کہ ہم بار بار عرض کرتے رہے اور شنوائی نہ ہوئی۔اب حالات نے خود فیصلہ کیا، ٹرمپ نے نئی پالیسی متعارف کراکے وہ دھمکی دے دی جس کا ذکر ہم نے حال ہی میں کیا تھا اور دوسری طرف احتساب کے مسئلے پر قوم کو الجھن میں ڈال دیا گیا اور اب ہمارے حکمرانوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کریں؟ احتساب بل کے لئے جلدی کی جارہی ہے اور امریکی صدر کی پالیسی پر یکسوئی نہیں ہے۔ اب اس قدر جلدی اور ٹامک ٹوئیاں مارنے کی کیا ضرورت ہے، یہ تاثر کیوں پیدا کیا جارہا ہے کہ یہ سب ایک شخصیت کے لئے ہوگا، حالانکہ قومی مفاد اسی میں ہے، لیکن اس کے لئے ضروری قومی اتفاق رائے ہے جوناممکن نہیں، حکمرانوں کو باقی تمام امور کو پس پشت ڈال کر قومی امور کے لئے قومی اتفاق رائے کے لئے بھرپور کوشش اور سعی کرنا ہوگی، اگر اکثریت کے بل پر بل ڈوز کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ زیادہ خطرناک ہوگا، اگر اب بھی نہ سنبھلے تو کب سنبھلیں گے، قدرت بار بار موقع نہیں دیتی، اب تو امریکی، بھارتی اور افغان گٹھ جوڑ نے موقع مہیا کردیا کہ قوم ایک ہو، جمہوریت پر یقین ہے تو جمہوری عمل بھی ہو، احتساب پر یقین ہے تو احتساب ہونے بھی دو، بیرونی خطرات کا احساس اورادراک ضروری ہے، اللہ کے واسطے سنبھل جاؤ۔

مزید : کالم