قائداعظم: تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد!

قائداعظم: تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد!
 قائداعظم: تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد!

  

تازہ ترین مردم شماری کے مطابق انڈیا کی کل آبادی ایک ارب 30کروڑ ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد 20کروڑ 20لاکھ ہے۔ برصغیر کی تقسیم کو اس ماہِ اگست میں 70برس پورے ہو چکے ہیں اور آج مسلمانانِ ہند نے سوچنا شروع کیا ہے کہ قائداعظم سمیت جن مسلم رہنماؤں نے 1930ء اور 1940ء کے عشروں میں انڈین کانگریس پارٹی کے رہنماؤں (گاندھی اور نہرو وغیرہ) کی مسلم دشمنی ،مکاری اور فریب کاری کی تفصیلات مسلم لیگ کے جلسوں میں بیان کی تھیں، وہ آج ہو بہو سچ ثابت ہو رہی ہیں!۔۔۔ اس دور کے چند مسلمان جو آج بھارت میں زندہ ہیں وہ آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ علامہ اقبال، قائداعظم اور مسلم لیگ کے جن قائدین نے اکھنڈ بھارت کی مخالفت کی تھی اور دو قومی نظریئے کا جو علم بلند کیا تھا اسی کے طفیل 14اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیاتھا جس میں آج ہم اور ہماری نسلیں آزادی کا سانس لے رہی ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان میں آج ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو پاک بھارت بین الاقوامی سرحد کو محض ایک لکیر مانتا ہے۔ رہتا پاکستان میں ہے، کھاتا پیتا پاکستان کا ہے، اس کا مرنا جینا بھی پاکستان میں ہے لیکن پھر بھی نجانے کیوں اس کے سینوں میں پاکستان کی مخالفت سمائی رہتی ہے، انڈیا کی خوشحالی اور جمہوری روایات کی پاسداری کا نقشِ باطل اس کے اذہان پر ثبت رہتا ہے اور وہ کوئی موقع ایسا جانے نہیں دیتا جس میں پاکستان دشمنی کا مظاہرہ نہ کرے۔ بی جے پی (BJP) کی مسلم دشمنی اور اپنے ہی مسلمان اہلِ وطن کے خلاف انڈیا کے باسیوں کے دلوں میں جو ازلی کدورت بیٹھ چکی ہے، اس کا اظہار مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاوہ پورے انڈیا کے طول و عرض میں دیکھا جا سکتا ہے۔

1930ء اور 1940ء میں جو تعصب انڈیا کے ہندو سیاسی رہنماؤں میں مسلمانوں کے خلاف پایا جاتا تھا اور جس سے پاکستان کی تین نسلیں بخوبی واقف ہیں، وہ بھارت میں نہ صرف آج بھی جوں کا توں موجود ہے بلکہ اس میں کئی گنا زیادہ شدت آ چکی ہے۔ آج وہاں کے مسلم دانشور، صحافی اور آبادی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ، متعصب ہندوؤں نے جو سلوک روا رکھا ہوا ہے وہ نریندر مودی کے موجودہ دور میں اور بھی کھل کر سامنے آ چکا ہے۔

انڈیا کے طول و عرض میں رہنے والے مسلمانوں پر آج جس طرح عرصہ ء حیات تنگ کر دیا گیا ہے، اس کی خبریں میڈیا پر آئے روز فلیش ہوتی رہتی ہیں۔۔۔ پاکستان دشمنی اگر ان کی بلواسطہ اپروچ ہے تو مسلم دشمنی اپنے انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف براہ راست اپروچ ہے۔

تاریخ کا ورق اُلٹیں تو ہم دیکھیں گے کہ 1936-37ء میں دوسری عالمی جنگ کے بادل برطانوی اشرافیہ کے سروں پر منڈلا رہے تھے۔ پہلی عالمی جنگ میں برٹش انڈین آرمی کی کارکردگی انگریز کے سامنے تھی ۔وہ چاہتا تھا کہ ہندوستان کو کسی نہ کسی طرح کی محدود آزادی / خود مختاری دے دی جائے، اس لئے برٹش گورنمنٹ نے انڈیا کی گیارہ ریاستوں میں الیکشن کروانے کا ڈول ڈالا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان ریاستوں کے مسلمان، قیامِ پاکستان کے حق میں ہیں یا انڈیا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ان ریاستوں میں کانگریس اور لیگ دونوں نے اپنے اپنے منشور کی زبردست لابنگ کی لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کو صرف 5فیصد ووٹ مل سکے۔ یہی وقت تھا جب مسلم لیگ کے درد مند رہنماؤں نے ایک الگ مسلم ریاست کی تشکیل کی بات کی تھی۔1930ء کے الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس میں حضرت اقبال نے صدارتی خطبہ ارشاد فرمایا اور ایک الگ مسلم ریاست کے قیام کی تجویز پیش کی۔ تاہم اس تجویز پر 1936ء کے ان محدود ریاستی الیکشنوں کے نتائج نے ایک نہائت ناگوار اور منفی اثر ڈالا۔ قائداعظم8 ان دنوں برطانیہ میں مقیم تھے۔ اقبال اور جناح کی اس سلسلے میں خط و کتابت تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ حضرت اقبال نے ان کو پہلا خط مئی 1936ء میں لکھا اور آخری خط نومبر 1937ء میں لکھ کر ان سے درخواست کی کہ وہ واپس انڈیا آئیں اور مسلم لیگ کی باگ ڈور سنبھالیں۔ اس خط و کتابت کے مندرجات پر اتنا بحث و مباحثہ ہو چکا ہے کہ مجھے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ جب یہ دیکھتا ہوں کہ اقبال 21اپریل 1938ء کو انتقال کر گئے تھے اور اپنی وفات سے صرف چار پانچ ماہ پہلے تک ان کے سینے میں قیامِ پاکستان کی ضرورت کس شد و مد سے موجود تھی تو اقبال کی بصیرت کی داد دیتا ہوں!۔۔۔ قائداعظم کی انگلینڈ سے واپسی اور اگست 1947ء تک کی تگ و دو تحریک پاکستان کا ایک اہم ترین باب ہے۔ دوسری جنگ عظیم ستمبر 1939ء میں شروع ہوئی (علامہ اقبال کی وفات کے صرف ڈیڑھ برس بعد) اور قیامِ پاکستان سے صرف دو برس پہلے (اگست 1945ء میں) ختم ہو گئی۔۔۔ اس جنگ نے برصغیر کی جلد از جلد تقسیم پر کیا اثرات مرتب کئے، ان برسوں میں کانگریس اور مسلم لیگ کے قائدین نے کس شدت سے اپنی اپنی سیاسی مہم چلائی، قائداعظم نے اپنی بیماری اور کمزور صحت کے باوجود کس جانفشانی اور تندہی سے تشکیلِ پاکستان میں عملی حصہ لیا، کانگریس نے مسلم دشمنی کے کیا کیا مظاہرے کئے، وہ نہ صرف اس دور کے ’’پاکستان کے بہی خواہ مسلمانوں‘‘ کو بلکہ ہندوستانی مسلمانوں اور ان کی آئندہ نسلوں کو بھی یاد رہیں گے۔

1937ء ہی میں کانگریس نے ’’بندے ماترم‘‘ کو ہندوستان کا قومی ترانہ ڈکلیئر کیا۔ یہ ترانہ ایک بنگالی ہندو شاعر اور ناول نگار نے 1870ء میں لکھا تھا۔ ’’بندے ماترم‘‘ کا اردو ترجمہ ہے: ’’اے ماں! میں تیرا گیت گاتا ہوں!‘‘ ۔۔۔ یہ گیت اس بنگالی شاعر (اس ہندو کا نام بنکم چندر چیٹرجی چٹوپادھیائے تھا)نے ہندوؤں کی ایک مشہور دیوی (درگا) کو مخاطب کرکے لکھا تھا۔۔۔ مسلم لیگ نے اس بندے ماترم کی بھرپور مخالفت کی اور کہا کہ اسلام تو بت پرستی کا ازلی دشمن ہے جبکہ یہ ترانہ تو ایک بُت (درگا دیوی) کی مدح میں لکھا گیا ہے، مسلمان اس کو کیسے اپنا ’’قومی ترانہ‘‘ مان لیں؟

تقسیمِ برصغیر میں مسلمانانِ ہند کی مخالفت کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو ڈر تھا کہ اگر ان کو ایک الگ ریاست نہ ملی تو ہندو اکثریت نہ صرف ان کی تہذیب و ثقافت پر حاوی ہو جائے گی بلکہ ان کے مذہبی تشخص کو بھی داغدار اور مجروح کر دے گی۔

انہی ایام میں بہار اور یوپی میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے اور ان کے اثرات دلی تک میں دیکھے اور محسوس کئے گئے۔ ان دونوں ریاستوں میں کانگریس کی حکومتیں تھیں۔ اس وقت بھی ہندو یوگیوں اور پنڈتوں نے مسلمانوں کی طرف سے گاؤکشی کی مخالفت کی تھی۔ ہندو قوم پرستوں نے دہائی دی تھی کہ مسلمان ہماری ’’گؤماتا‘‘ کو نہ صرف ذبح کرتا ہے بلکہ ذبح کرکے کھا بھی جاتا ہے! پھر وسط اگست 1947ء میں برصغیر تقسیم ہو گیا۔ تاریخ کا سب سے بڑا انتقالِ آبادی عمل میں آیا اور کم از کم 10لاکھ انسان موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ لیکن ان میں غالب تعداد ان بدنصیبوں کی تھی جو منقسم پنجاب کے دو حصوں (مشرقی پنجاب اور مغربی پنجاب یا بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب) میں ایک سے دوسرے حصے میں شفٹ ہونے کے عمل سے گزرے۔۔۔ پھر کئی برس کا وقفہ ہوا اور اس انتقالِ آبادی کا دوسرا ریلا شروع ہوا جس میں یوپی ،سی پی وغیرہ کے لاکھوں لوگ بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آئے۔

ان کی ایک بڑی تعداد کراچی، حیدرآباد، سکھر، نواب شاہ وغیرہ میں آکر آباد ہو گئی۔ اس آبادی کی تیسری نسل آج جوان ہو کر پاکستان کے مختلف شعبوں میں اپنااپنا کردار ادا کر رہی ہے۔۔۔ لیکن ان دو ’’ہجرتوں‘‘ کے علاوہ بھی بھارت میں کروڑوں مسلمان ایسے تھے جو باوجوہ پاکستان نہ آئے اورجہاں تھے وہیں رہ گئے۔۔۔۔ اور یہی وہ مسلمان ہیں جن کو آج 70سال بعد احساس ہو رہا ہے کہ ان کے بزرگوں نے بھارت میں رہ کر شدید غلطی کی تھی۔وہ اگر اس وقت پاکستان آ جاتے تو آج ان کو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔

آج ان پر عرصہ ء حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ وہی باتیں جو قیامِ پاکستان سے ایک دو عشرے پہلے، مسلم لیگی قائدین، مسلمانانِ برصغیر کو باور کرانے کی کوششیں کرتے تھے اور وہ ان کی باتوں پر یقین نہیں لاتے تھے، وہ آج ہوبہو اور بہ تمام و کمال سچ ثابت ہو رہی ہیں۔ مثلاً آج کے بھارت میں مسلمانوں کو اعلیٰ سول سروسز اور عسکری اداروں میں وہ نمائندگی نہیں دی گئی جو ان کو آبادی کے لحاظ سے ملنی چاہیے تھی۔۔۔ مودی کی جنتا پارٹی کی حکومت میں گائے ذبح کرنے کی سزا پانچ سال سے لے کر عمر قید تک مقرر کر دی گئی ہے۔۔۔ مسلمان لڑکوں کو ہندو لڑکیوں کے ساتھ گھومنے پھرنے اور شادی کی اجازت نہیں۔ اگر کسی مسلمان کو کسی ہندو لڑکی سے محبت ہو جائے تو اس کو اپنا مذہب چھوڑ کر ہندو مت اختیار کرنا ہوگا۔۔۔ ہندو یوگی، پنڈت اور انتہا پسند کہتے ہیں کہ بھارت کے سارے مسلمان دراصل ہندو تھے جن کو مسلم حکمرانوں نے اپنے دورِ حکمرانی میں زبردستی مسلمان بنا لیا تھا اور اب ہم ان کو زبردستی اپنے پہلے مذہب (ہندوازم) کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔۔۔ سب مسلمانوں کو بھارت کا قومی ترانہ ’’بندے ماترم‘‘ گانا پڑے گا اور ’’بھارت ماتا‘‘ سے پیمانِ وفا نبھانا پڑے گا۔۔۔ اور ان مسلمانوں کے بچوں بچیوں کو سکولوں اور کالجوں میں یوگا کا درس لے کر ہندو تہذیب و ثقافت سے ناطہ استوار کرنا پڑے گا۔۔۔ان کا الزام یہ بھی ہے کہ چونکہ کئی مسلم حکمرانوں نے اپنے اپنے ادوار میں مندروں کو مسجدوں میں تبدیل کر دیا تھا اس لئے مسلمانوں کو رضا کارانہ ان تمام مساجد کو ہندوؤں کے حوالے کرنا ہوگا تاکہ وہاں مندر تعمیر کئے جا سکیں۔۔۔ جس گھر میں گائے بھینس کا گوشت پایا جائے گا اس کے مکینوں کو کھینچ کر سر بازار لایا اور قتل کر دیا جائے گا۔

اس طرح کے کئی ہولناک واقعات بھارت کے طول و عرض میں رونما ہو چکے ہیں۔ مجھے یہاں آپ کے سامنے ان کودہرانے کی ضرورت نہیں۔ پچھلے دنوں ایک مسلمان تن ساز کو جس بے دردی سے سرعام ڈنڈے مار مار کر ہلاک کیا گیا اور اس کی فلم سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی اس کو دیکھنے کی تاب لانا بھی بڑے دل گردے کا کام تھا! ہم پاکستانیوں کو آج معلوم ہی نہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد نے کتنی قربانیوں کے بعد یہ وطن حاصل کیا تھا اور اس میں اپنے مذہب اور ثقافت کی پیروی کرتے ہوئے ہم کس عطائے ایزدی کاانعام پا رہے ہیں۔۔۔ آج بھارت کے مسلمانوں کی اکثریت اس وقت کو پچھتا رہی ہے جب 1946-47ء میں مسلم لیگ اور پاکستان کی تحریک زوروں پر تھی اور انہوں نے قائداعظم اور ان کے رفقائے کار کی باتوں پر کان نہیں دھرا تھا اور بھارتی جمہوری اور سیکولر ملک کو اپنا ملجا و مادیٰ بنانے کا جرم کیا تھا اور آج اس کی سزا ان کو اور ان کی نسلوں کو مل رہی ہے!۔۔۔ بھارتی مسلمانوں کی نژادِ نو کو اپنے بزرگوں سے پوچھنا چاہیے کہ کیا انہیں اندلس کے ان مسلمانوں کا حشر یاد نہیں تھا جو 800 برس تک وہاں حکمران رہے تھے؟ ۔۔۔ وہی حشر بھارت کے ان مسلمانوں کا بھی ہونے والا ہے جو 800برس تک بھارت کے طول و عرض پر حکمرانی کرتے رہے۔۔۔ تقدیر کے قاضی کا ازلی اور ابدی فتویٰ جو قوم بھی فراموش کرے گی اس کو جرمِ ضعیفی کی سزا مل کے رہے گی!

مزید : کالم