اگیتی مولی کی کاشت وسط ستمبر تک مکمل کرلیں ،محکمہ زراعت

اگیتی مولی کی کاشت وسط ستمبر تک مکمل کرلیں ،محکمہ زراعت

لاہور (کامرس رپورٹر) کاشتکار زیادہ منافع کے حصول کے لیے اگیتی مولی کی کاشت اگست سے ستمبر کے وسط تک مکمل کریں ۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ 40دن والی اگیتی مولی کی قسم گرمی برداشت کرنے کے علاوہ 45سے55دن کے دوران جلد برداشت کے قابل ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ مولی کی اچھی کوالٹی کی پیداوار کے حصول کے لیے دریاکے قریبی علاقوں یا نہروں اور راجباہوں سے سیراب ہونے والی زرخیز میرا زمین کا انتخاب کریں۔

مولی کی کاشت کے لیے کھیت کا ہموار ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ نیچی جگہ پر زیادہ اور اونچی جگہ پر کم پانی پہنچنے کی وجہ سے بیج کا اگاؤ اور فصل کی بڑھوتری متاثر ہوتی ہے ۔زمین کی تیاری کے وقت ایک دفعہ گہرا ہل اور 3عام ہل بمعہ سہاگہ چلائے جائیں اورزمین کو نرم بھربھرا تیار کرنے کے لیے ایک دفعہ روٹا ویٹر بھی استعمال کیا جائے ۔زمین کی تیاری کے بعد اور کھیلیاں نکالتے وقت ایک بوری ڈی اے پی اور ایک بوری سلفیٹ آف پوٹاش فی ایکڑ استعمال کی جائیں کیونکہ پوٹا ش کھاد جڑ والی فصلوں کے لیے نہایت ضروری ہے ۔مولی کے بیج کو 60سینٹی میٹر کی پٹڑیوں کے دونوں کناروں پر بذریعہ چوکا یا کیرا کیا جائے اور اس مقصد کے لیے 3 سے 4کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کیا جائے۔فصل کی بڑھوتری کے دوران 20سے 25دن بعدجب فصل کی جڑیں بننا شروع ہوتی ہیں تونائٹروجنی کھاد وں کی دوسری قسط استعمال کی جائے ۔ اگیتی کاشتہ مولی کو پہلا پانی بوائی کے فوراً بعد نہایت احتیاط سے لگایا جائے تاکہ پانی کھیلیوں کی چوٹی سے نیچے رہے اور صرف وتر والی نمی بیج تک پہنچے۔

مزید : کامرس