پولیس حراست میں شہید طالب علم کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے سے انکار

پولیس حراست میں شہید طالب علم کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے سے انکار

سری نگر(کے پی آئی) ریاستی محکمہ داخلہ نے انسانی حقوق کمیشن کی اس ہدایت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت 2010ا کے عوامی احتجاج کے دوران پولیس حراست میں شہید ہوئے 16سالہ طالب علم عمر قیوم کے حق میں3لاکھ روپے معاوضہ ادا کرئے۔محکمہ داخلہ نے کمیشن سے کہاہے کہ عمر قیوم غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا لہذا اسے حکومت کے ایکسگریشیا ریلیف دائرے میں نہیں لایا جاسکتا۔ 25 اگست 2010 کوپولیس ٹارچر کی وجہ سے جاں بحق ہونے والے عمر قیوم ولد عبدالقیوم ساکن ملک صاحب صورہ کے والدین کی طرف سے ہیومن رائٹس کمیشن میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی جس میں اس واقعہ کی اعلی سطحی تحقیقات اورملوثین کو قانونی شکنجے میں لانے کی درخواست کی گئی تھی ۔کئی سماعتوں کے بعد کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر) بلال نازکی نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ اس کیس کے سبھی پہلوؤں کا جائزہ لے کر عمر قیوم کی موت کی اصل وجوہات کا پتہ لگائیں ۔اس بارے میں حقوق کمیشن نے از خود بھی ایک تحقیقاتی رپورٹ مرتب کی۔کئی سماعتوں کے بعد جسٹس بلال احمد نازکی نے اس کیس کی باضابطہ تحقیقات کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ ابتدائی شواہد اور میڈیکل ریکارڑ سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ عمر قیوم کی موت جسمانی تشدد کی وجہ سے ہوئی لہذا معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کی جائے نیز حکومت پر واجب ہے کہ وہ عمر قیوم کے کنبے کو 3لاکھ روپے کا ایکسگریشیا ریلیف مہیا کرائیں ۔اس ہدایت کے جواب میں ریاستی محکمہ داخلہ نے ڈپٹی سیکریٹری مشتاق احمد کے توسط سے 6صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ کمیشن کے سامنے پیش کی جس میں یہ واضح کیا گیا کہ مہلوک عمر قیوم کواس واقعہ سے قبل حراست میں لیا گیا تھا کیوں کہ پولیس نے اسے پارمپورہ میں دکانداروں کو ہڑتال کرانے پر مجبور کرتے ہوئے پکڑ ا تھا۔

تاہم بعد میں عدالت نے ضمانت پر والدین کے سپرد کیا اور اسکے بعد وہ اسپتال میں دم توڑ بیٹھا ۔محکمہ داخلہ نے پولیس کی اس اعلی اختیاری کمیٹی کا حوالہ دیا جو کہ ایکسگریشیا ریلیف کے کیسوں کے بارے میں فیصلے لیتی ہے ۔کمیٹی نے مہلوک عمر قیوم کو سنگ بازی میں ملوث قرار دیا تھا لہذا اسکے افراد خانہ کے حق میں ایکسگریشیا ریلیف کی واگذاری نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔محکمہ داخلہ کی رپورٹ کمیشن کے سامنے زیر غور ہے اور اس حوالے سے کمیشن اگلی سماعت پر اپنا فیصلہ صادر کرے گا ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمر قیوم بٹ ساکن ملک صاحب صورہ کی ساتویں برسی 25اگست کو منائی جارہی ہے ۔

مزید : عالمی منظر