چلی:کان کنی سے پینگوئن کی نسل کے خطرات میں اضافہ

چلی:کان کنی سے پینگوئن کی نسل کے خطرات میں اضافہ

سان تیاگو (اے پی پی) چلی نے خام لوہے کی کان کنی کے ڈھائی ارب ڈالر مالیتی منصوبوں کو روکنے سے انکار کر دیا ہے، جو ان علاقوں میں شروع کیے جا رہے ہیں جہاں ایک مخصوص نسل کے چند ہزار پینگوئن باقی رہ گئے ہیں۔امریکی خبررسٓاں ادارہ کے مطابق ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ کان کنی کے نتیجے میں ماحول کو پہنچنے والے نقصان سے پینگوئن کی نسل ختم ہو سکتی ہے۔چلی کی ایک مقامی کمپنی اینڈیس آئرن شمالی کوکیمبوکے علاقے سے لاکھوں ٹن خام دھات نکالنے کے لیے کان کنی اور اسے دوسرے مقامات پر بھیجنے کے لیے بندرگاہ تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ماہرین کی ایک کمیٹی نے کہاہے کہ اس پراجیکٹ میں ماحولیات کے بارے مناسب ضمانتیں فراہم نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے ماحولیات کے گروپ اپنی تشویش پر مبنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ماحولیات کی ایک سرگرم کارکن مارسیکو مینا نے میڈیا کو بتایا کہ اس سلسلے میں تلافی کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں اور ان سے پینگوئنز کی نسل بچانے سے متعلق خدشات دور نہیں ہوتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اقتصادی ترقی یا کسی ایسے پراجیکٹ کے خلاف نہیں ہیں جو ہمارے ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے، لیکن ان منصوبوں کے نتیجے میں جنم لینے والے اثرات کے حل کے لیے لازماً اطمینان بخش حل بھی تجویز کیے جانے چاہییں۔کوکیمبو کا علاقہ جنولی ساحلی علاقے کے تین جزیروں پر مشتمل ہے جو پینگوئن کا قومی پارک کہلاتا ہے۔ اس علاقے میں بیشمار اقسام کی جنگلی حیات موجود ہے۔اس علاقہ پینگوئن کی ایک مخصوص نسل کا مسکن ہے جس کی آنکھوں کے گرد گلابی رنگ کا دائرہ اور چھا تی پر سیاہ پٹی ہوتی ہے۔یہاں پائے جانے والے پینگوئن کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے لگائے گئے ہیں۔

، تاہم ان کی تعداد چند ہزار تک محدود ہے۔

مزید : عالمی منظر