کیا غیرملکی زبانوں سے محبت ہمیں بے رحم بناتی ہے؟

کیا غیرملکی زبانوں سے محبت ہمیں بے رحم بناتی ہے؟
 کیا غیرملکی زبانوں سے محبت ہمیں بے رحم بناتی ہے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

شکاگو(مانیٹرنگ ڈیسک)جو لوگ اپنی مادری اور ملکی زبانوں کو چھوڑ کر غیرملکی زبانوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں وہ سخت فیصلے کرنے کے معاملے میں دوسروں کی نسبت زیادہ غیر جذباتی اور بے رحم ہوتے ہیں۔ یہ اس تحقیق کا خلاصہ ہے جو کچھ روز پہلے تحقیقی مجلے ’’سائیکالوجیکل سائنس‘‘ میں شائع ہوئی ہے۔امریکی، ہسپانوی اور جرمن سائنسدانوں کی اس مشترکہ تحقیق میں رضاکاروں کے چھ مختلف گروپوں پر نفسیاتی تجربات کیے گئے جنہیں مقامی (مادری) اور غیر مقامی (غیر ملکی) زبانوں کے استعمال کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا تھا۔تجربات کے دوران ایک فرضی کیفیت ان کے سامنے پیش کی گئی جس میں انہیں اپنے پانچ دوستوں کو بچانے کیلیے قریب کھڑے ہوئے ایک مقامی شخص کو تیز رفتار ٹرین کے سامنے دھکیلنے یا نہ دھکیلنے کا فیصلہ کرنا تھا۔غیرملکی زبانوں کا زیادہ استعمال کرنے والے رضاکاروں کی بڑی تعداد نے کہا کہ ایسی صورت میں وہ اپنے پاس کھڑے ہوئے اجنبی مقامی شخص کو ٹرین کے سامنے دھکیلنے میں کچھ خاص ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ جو اپنی مادری زبان زیادہ استعمال کرتے تھے، انہوں نے شدید پریشانی کا اظہار کیا جبکہ ان میں سے بہت کم رضاکار اس پر آمادہ ہوئے کہ وہ اپنے دوستوں کی جان بچانے کیلیے ایک اجنبی کی جان داؤ پر لگا دیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4