میٹرک کے پوزیشن ہولڈرز کی تقریب پزیرائی

میٹرک کے پوزیشن ہولڈرز کی تقریب پزیرائی

نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔اگر اس نوجوان نسل کی تربیت اچھی کر دی جائے اور ان کو معیاری تعلیم فراہم کر دی جائے تو یہ مستقبل میں قوم کے معمار بن سکتے ہیں اور ملت کی تعمیروترقی میں اہم کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔ اگر کسی قوم کا نوجوان طبقہ تعلیم سے کوسوں دور رہے تو پھر وہ قوم جہالت کا شکار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ملت و اقوام کہ شرح خواندگی پسماندہ ممالک سے زیادہ ہوتی ہے۔ تعلیم کے اسی زریں مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے جماعت الدعوۃ بھی معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے سینکڑوں تعلیمی ادارے چلا رہی ہے جس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ لاہور بورڈ کے میٹرک کے امتحانات کے نتائج میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والا طالبعلم الدعوۃ سکول سسٹم سے منسلک مسلم ماڈل ہائی سکول شیخوپورہ کا ہونہار طالب علم ہے۔جس نے کل (1086/1100) نمبرز حاصل کیے۔ ان تعلیمی اداروں میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں جن کو نہ صرف عصری تعلیم بلکہ اس کے ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر اخلاقیات، دینیات، ترجمہ القرآن اور احادیث بھی پڑھائی جاتی ہیں۔ان طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارتے ہوئے ان کی تربیت کی جارہی ہے تاکہ یہ بھی مستقبل میں قوم کے باوقار اور ہنر مند شہری بن سکیں۔

چند روز قبل جب پنجاب بھر کے میٹرک کے امتحانات کے نتائج کااعلان کیا گیا تو الدعوۃ سکول سسٹم سے منسلک سکولز میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کے لیے تقریب تقسیم انعامات کا اہتمام کیا گیا ۔ الدعوۃ سکول سسٹم سے منسلک سکولز کے بچوں نے نمایاں پوزیشنزحاصل کی تھیں۔اس موقع پر جماعت الدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا تعلیمی سفر صرف نمبروں کی حد تک محدود نہیں بلکہ تعمیر کردار ہمارا مقصد ہے۔ ہمارے طلبا ہمارا فخر ہیں۔ان کی بہتری کیلئے جمات الدعوۃ کی تعلیمی کاوشیں جاری رہیں گی۔ہمارے سکولز سے فارغ ہونے والے طلبا معاشرے میں تعمیری سوچ کے حامل ہیں۔�آج ہماری تعلیم کے میدان میں کی گئی محنت رنگ لا رہی ہے۔ ہمارے سکولز میں دنیاوی تعلیم کیساتھ ساتھ دینی و اخلاقی تربیت کا بھی بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے۔ ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج تعلیم کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں سب کچھ ہے مگر دین کی کمی ہے۔ ہمارے ایجوکیشن سسٹم پر باقاعدہ انوسٹمنٹ کی گئی ہے تاکہ ہماری جڑوں کو کھوکھلا کیا جاسکے۔ ہمیں ڈگریاں تو دے دی گئیں مگرہمیں نظریہ پاکستان نہ سمجھایا گیا۔ جماعت الدعوۃ کے سکولز محدود وسائل کے ساتھ اچھی تعلیم اور دین سکھا رہے ہیں۔جس میں نماز اور روزمرہ کی دعائیں یاد کروائی جاتی ہیں۔ ہم سائنس کے ساتھ ساتھ ترجمہ القآن بھی پڑھا رہے ہیں۔ ہمارے اداروں کی فیس دوسرے اداروں سے بہت کم ہے۔ ہم اداروں کو کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ عبادت سمجھتے ہیں۔ ہم نظریہ پاکستان کیلئے جیتے ہیں اور اس کیلئے جان دینا بھی سعادت سمجھتے ہیں۔

جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کے فرزند حافظ طلحہ سعید نے تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت الدعوۃ کے سکولز کے طلبا کی بہترین کارکردگی ہمارے خلاف تعلیم دشمنی کے الزام کا جواب ہے۔ جبکہ ہمارے خلاف مسلسل یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ ہم تعلیم کے دشمن ہیں مگر ہم نے تعلیم کو عام کیا۔ یہ ہماری تمنا ہے کہ ہم پاکستان میں بڑی تعداد میں تعلیمی ادارے کھول کر تعلیم کو مزید عام کریں۔ آج غیر ملکی عناصر ہمارے تعلیمی اداروں اور تعلیمی نصاب پر کام کر کے اس کو تبدیل کر رہے ہیں اور اس مقصد کیلئے اربوں ڈالرز خرچ ہو رہے ہیں۔ ہم کفر کے مقابلے میں معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ہم نظریہ پاکستان کو ہر سو پھیلاتے جائیں گے اگرچہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے۔

سیکریڑی جنرل دفاع پاکستان کونسل قاری یعقوب شیخ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ان تعلیمی اداروں میں اخلاقیات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ جماعت الدعوۃ کے تحت تیار کردہ نصاب تعلیم نجی سکولوں میں بھی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ چونکہ نصاب ہی تعلیم کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی لیے ہم نے نصاب پر خصوصی توجہ دی ہے۔ جماعت الدعوۃ کے زیر اہتمام سکولز میں پڑھانے والے اساتذہ کرام کی تربیت کیلئے ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے چیئرمین حافظ عبدالرؤف نے تقریب کے شرکاء سے کہا کہ تعلیم کا مقصد انسان کی تعمیر ہے اور اسی مقصد کیلئے جماعت الدعوۃ سرگرم عمل ہے۔ جماعت الدعوۃ تعلیم کے فروغ کیلئے سندھ اور بلوچستان میں بھی سکولز چلا رہی ہے۔ انجینئر حارث ڈار نے کہا کہ ہم امت مسلمہ کیلئے امید کی کرن ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کو میدان عمل میں کردار ادا کرنے کیلئے اپنے اندرخود اعتمادی پیدا کرنا ہو گی۔

DPI سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب رانا ذوالفقار نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلمان ہیں۔ ماضی میں ہمارا بہت بڑا نام ہوتا تھا۔ ہم جہاں بھی جاتے تھے اپنے نقش چھوڑ کر آتے تھے۔ مگر اب ہم سے کیا غلطی ہوئی ہے کہ مسلمان ہی دنیا بھر میں مار کھا رہے ہیں۔ یقیناًوہ غلطی تعلیم کو چھوڑنا ہے۔ انگریز قوم نے برصغیر میں آکر مسلمانوں پر تحقیق کر کے لکھا کہ Muslims are like Lions, don't corner them ۔ انھوں نے ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں شکست دی۔ انھوں نے علماء سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جو ہم سے غلطی ہوئی ہے وہ بتلائے تاکہ اس کا ازالہ لیا جا سکے۔ ہم بادشاہ ہیں، غلام نہیں ہیں۔ ہم نے دنیا کو گائیڈ کرنا ہے۔

DPI ایلیمنڑی ایجوکیشن پنجاب ملک ریاض نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے نبی نے تجارت کی، بکریاں چرائی، مگر تعلیم کے شعبے پر خصوصی فخر کیا۔ جیسا کہ اللہ کے نبی نے کہا کہ مجھے معلم بنا کر بیھہجا گیا ہے۔ سینئیر کالم نگار اور تجزیہ نگار فضل حسین اعوان نے کہا کہ کوئی معاشرہ تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ ہماری شرح خواندگی 60% ہے۔ ان میں ان لوگوں کا بھی شمار ہوتا ہے جو صرف اپنا نام ہی لکھ سکتے ہیں۔ اگر شرح خواندگی کا معیار میٹرک کو تصور کر کیا جائے تو خواندگی کی شرح 10-12% رہ جائے گی۔ جماعت الدعوۃ جو کوششیں کر رہی ہے اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔

سنیئر صحافی شاہد جاویدڈسکوی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس پروگرام میں آکریہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ ایک باقاعدہ سکول سسٹم چل رہا ہے جو نظریہ پاکستان اور دین سے طلبا کو روشناس کروا رہا ہے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ جماعت الدعوۃ نے ایسا سکول سسٹم لانچ کر کے معیاری تعلیم فراہم کرنے کے چیلنج کو قبول کیا ہے۔ سنیئر کالم نگار عرفان اطہر قاضی نے کہا کہ میں حافظ سعید صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے پاکستان کے نظریے کو محفوظ بنانے کیلئے جو کچھ کیا، ان کیلئے الفاظ کم ہیں۔ یہ طلبا مستقبل کی کرن ہیں اور یہ کرن حافظ سعید صاحب نے پیدا کی ہے۔

تقریب کے آخر میں مرکزی رہنما جماعت الدعوۃ سیف اللہ خالد نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم مستقبل میں سی پیک کی اردگرد والی آبادیوں پچیس سکولز کھولنے جارہے ہیں۔ جس کو صحافی برادری اور تعلیمی شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے بہت سراہا۔

***

مزید : ایڈیشن 1