ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ کی کوئی کل سیدھی نہیں

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ کی کوئی کل سیدھی نہیں

ضلع کی سب سے بڑی اور کلیدی علاج گاہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں علاج معالجہ کی سہولیات کے فقدان اور عملہ کے مریضوں سے ناروا سلوک کا معمہ تو مکمل طور پرحل نہیں ہوسکا البتہ وارڈز کیلئے نئے بیڈز کی فراہمی اس حوالے سے ایک مثبت پیش رفت ضرور کہی جاسکتی ہے جبکہ ہسپتال کے انتظامی امور کو بہترین بیان کرنا یقیناًمبالغہ آرائی ہوگی کیونکہ زمینی حقائق سے چشم پوشی ممکن نہیں اور حالات کا تقاضا بھی ہے کہ ضلع کی اس کلیدی علاج گاہ میں مریضوں کو درپیش مسائل اجاگر کرکے ان کے حل کی راہ ہموار کی جائے تاہم ایسے امور جن میں بہتری دکھائی دے ان کی ستائش بھی ناگزیر ہے تاکہ تصویر کے دونوں رخ عوام کے سامنے آسکیں لہذاٰ یہ امر یقیناًخوش آئند ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے مختلف وارڈز میں حالیہ دنوں نئے بیڈو ں اور گدو ں کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے جس سے یقیناًمریضوں کو ریلیف میسر آئے گا، یہ بیڈز سر جیکل وارڈ ،میڈیکل وارڈ ،زنانہ وارڈ سمیت دیگر مختلف وارڈو ں میں رکھے گئے ہیں جس سے بینڈز ناکافی ہونے کے حوالے سے مریضوں کی شکایات میں کمی واقع ہوگی اور کہا جارہا ہے کہ ان بیڈوں کا حصول ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر شہناز نسیم کی دلچسپی کے باعث ممکن ہوا ہے، نیلے اور سفید رنگ کے یہ بیڈز جہاں مریضوں کے استفادہ کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں وہاں اپنے نیلے اور سفید رنگ کے باعث یہ خاصے جاذب نظر بھی ہیں، ہسپتال ذرائع کے مطابق ان بیڈوں کی خریداری میں اس بات کو بھی ایم ایس ڈاکٹر شہناز نسیم کی جانب سے خاصا مد نظر رکھا گیا کہ بیڈز اتنے معیاری ہوں کہ آئندہ کئی سالوں تک باعث استفادہ ثابت ہوں لہذاٰ کہا گیا ہے کہ یہ بیڈز نہایت مضبوط بیان کئے جارہے ہیں، یہ خبر شاید اتنی بحث حامل نہیں کہ جسے اتنی شد و مد سے بیان کیا جائے اور خصوصی تحریر کا حصہ بنایا جائے کیونکہ یہ ایک ادارتی روٹین ہے ادارے ضرورت پڑنے پر درکار اشیاء کا اہتمام کرتے ہیں ایسے میں ہرگز مقصد نہیں کہ اس خبر کی وضاحت کرکے یہ ثابت کیا جائے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے تمام امور بہتری کی جانب گامزن ہیں در حقیقت ہسپتال کا نظام قطعی تسلی بخش نہیں، لاتعداد مسائل ہیں جو حل ہونے کا نام نہیں لے رہے، فنڈز موجود ہیں مگر انکے استعمال کی حکمت عملی واضح اور موثر نہیں ، عملہ تعینات ہے مگر ڈیوٹیوں کا ریکارڈ ان کی عدم توجہی واضح کرتا ہے ، عملہ کی غیر حاضریاں جواب طلب ہیں تو دوسری طرف دوران ڈیوٹی عملہ کی طرف سے مریضوں سے ناروا سلوک کی شکایات زباں زد عام ہیں، لوگ بولتے ہیں ، ادویات سٹورز میں پری ایکسپائرز ہو جاتی ہیں مگر غریب مریضوں کو نہیں ملتیں اور وہ پرچیاں اٹھانے میڈیکل سٹورز پر مارے مارے پھرتے دکھائی دیتے ہیں، عملہ خود کو قطعی جواب دہ نہیں سمجھتا اور من مانیوں کے باعث اکثر عملہ کی آپسی کشیدگی تناؤ کا باعث رہی ہے بلکہ بار ہا جھگڑے اور لڑائی کے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں، غریب مریض ہسپتال آتے تو مفت علاج کی خواہش میں ہیں مگر ممکن نہیں کہ یہاں زیر علاج مریضوں کی جیب پر ا نکا علاج بھاری نہ پڑے ، سب سے زیادہ برا حال گائنی وارڈ کا ہے جہاں آلات قابل استعمال نہیں رہے اس کے باوجود ان سے خواتین کے زچگی کے آپریشن کیئے جارہے ہیں، ذرائع کے مطابق ان آلات کے استعمال سے اب تک درجنوں خواتین کے آپریشن خراب ہوچکے ہیں اور ان میں سے بعض کے رستے زخموں کا علاج بھی اس ہسپتال میں ممکن نہیں رہا اور انہیں اب بیرون اضلاع کے مختلف ہسپتالوں کے چکر علاج کی غرض سے کاٹنے پڑ رہے ہیں حالانکہ یہ واحد ادارہ ہے جس پر اٹھنے والے اخراجات لامحدود ہیں، یہاں بعض سوال جن کا جواب ایم ایس ڈاکٹر شہناز نسیم کیلئے دینا شاید ممکن نہ ہو وہ یہ ہیں کہ ہمیشہ میڈیا کی نشاندہی پر ہی کیوں ہسپتال میں پائی جانیوالی بے ضابطگیوں پر غور کیا جاتا ہے اور تھوڑی بہت توجہ کے بعد یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ میڈیا مطمئن ہو جائے گا یا میڈیا کے اٹھائے گئے ایشو کے حوالے سے متعلقہ حکام کو سب اچھا کی رپورٹ دینا ممکن ہوسکے گا ، اسی طرح ادویات کی مفت فراہمی کے حوالے سے ڈی ایچ کیو ہسپتال کی انتظامیہ کا موقف کبھی بھی یک سمت نہیں رہا اگر یہ پوچھا جائے کہ مریض کیونکہ ادویات باہر سے خریدکر استعمال کرنے پر مجبور ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ادویات پوری طرح میسر نہیں اور اگر کارکردگی ظاہر کرنی ہوتو بے لاگ دعویٰ کیاجاتا ہے کہ ادوایات کی فراہمی میں کبھی تعطل نہیں آیا اور کروڑوں روپے کی ادویات سال بھر میں مریضوں کو مفت فراہم کی گئیں، اسی طرح عملہ کے حوالے سے اکثر ڈی ایچ کیو ہسپتال کی انتظامیہ موقف ظاہر کرتی آئی ہے کہ عملہ کی کمی دور نہیں کی جارہی اور اگر یہ پوچھا جائے کہ ڈاکٹرز اور عملہ کی ڈیوٹی کی شرح کم کیوں ہے تو کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹرز اور عملہ کوچھٹی ضرورت پڑنے پرہی دی جاتی ہے مگر اجازت کا پیمانہ بیان نہیں کیا جاتا کہ کتنی چھٹی سرکار کی طرف سے دی گئی ہے اور کتنی چھٹیاں ڈاکٹرز اور عملہ کرتا ہے یقیناًکچھ بھی واضح نہیں سبھی امور پر کہیں نہ کہیں سوالات اٹھتے ہیں جن کا تسلی بخش جواب کبھی مل نہیں پایا، حد تو یہ ہے کہ ایسے غریب مریض یا انکے ورثا جو سہولیات کی عدم فراہمی پر سوال اٹھائیں ا ن کی تذلیل کی جاتی ہے یہی نہیں بلکہ مقامی میڈیا پرسنز سے بھی ہسپتال انتظامیہ اب تک بارہا جھگڑ چکی ہے جس کی بنیاد وہ غیر فعال امور ہیں جنہیں میڈیا نے اجاگر کیا یا انکے حوالے سے معلومات مانگیں جبکہ دیکھا جائے تو ایک عرصہ ہوچکا محکمہ صحت میں اصلاحات کا رونا روتے مگر اس کی کوئی ’’کل ‘‘سیدھی نہ پڑی اور نہ انتظامی امور میں بہتری آئی نہ مریضوں کو لاحق دشواریوں کا خاتمہ ہوا، نہ ڈاکٹر و پیرا میڈیکل سٹاف نے خود پر اٹھنے والے اعتراضات کا ازالہ کیا نہ مریض فراہم کردہ حکومتی مراعات سے استفادہ کرپائے، عوامی حلقے عملہ صفائی سے لیکر انتظامی حکام تک سبھی کا قبلہ درست ہونا ناگزیر خیال کرتے رہے مگر روش سابق برقرار رہی،مریض انتظامی بے قائدگیوں پر نوحہ کناں رہے مگر نوبت داد رسی تک نہ پہنچی، نہ تو مریضوں اور لواحقین کا آئے روز کا احتجاج اصلاح و احوال کیلئے کارگر ہوا ور نہ ہی عوامی شکایات باآور ہوئیں الغرض مسائل کی بہتاط مقدر رہی ، البتہ حالات تو نہیں افراد ضرور تبدیل ہوئے جبکہ ہر منتظم کی کارکردگی میں ایک قدر مشترک یہ رہی کہ مریضوں کو ریلیف کم اور تکلیف زیادہ میسر رہی، حالانکہ صحت وہ واحد شعبہ ہے کہ جسے فعال کرنے اور سود مند رکھنے کیلئے دیگرشعبوں کی نسبت سب سے زیادہ فنڈز فراہم کئے جاتے رہے ہیں جبکہ اس سے وابستہ افراد کو حاصل مراعات بھی دیگر شعبوں کی نسبت کہیں بڑھ کر ہیں اور انہیں حاصل سب سے بڑی نعمت وہ عہدہ مسیحائی ہے جو انہیں رب کائنات کی طرف سے بخشا گیا ہے ایسے میں جو تکریم اور دعائیں کسی حقیقی مسیحا کا نصیب بنتی ہیں اس کا کوئی نعم البدل نہیں ، فی زمانہ نہایت بدنصیبی ہے کہ اس سے وابستہ چند ناعاقبت اندیشوں نے اپنے کردار و عمل سے آج اس پیغمبری شعبہ کی اقدار کا جنازہ نکال رکھا ہے ، ان پر غالب طمع نفسانی شعبہ صحت کے منہ پر کلنک کا ٹیکہ بن چکی ہے ،باعث فہم امر ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے انتظامی امور میں بہتری کیلئے ہسپتا ل انتظامیہ ہی نہیں بلکہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے بعض مقامی افسران بھی ہسپتال کی کارکردگی بیان کرتے نہیں تھکتے اور گاہے بگاہے مقامی میڈیا کو بھی انکے اس موقف کو کوریج دینا پڑتی ہے مگر اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ سب اچھا کی رٹ لگا لی جائے درحقیقت ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ کے انتظامی امور میں بہتری کیلئے ایسے لائحہ عمل کی ضرورت ہے جس میں جواب دہی کا عنصر واضح ہو، عام شہری بھی بے ضابطگی کی نشاندہی کرسکے جسے دور کرنا انتظامی افسران کی اولین ترجیح ہو اور فقط وہ ایشوز ہی حل نہ کئے جائیں جنہیں مقامی میڈیا ہائی لائٹ کرے بلکہ خود سے انتظامی افسران توجہ دیں اور روزا نہ کی بنیاد پر دیکھیں کہ انتظامی امور میں بہتری کیلئے مزید کن اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ حقیقی معنوں میں ہسپتال کے انتظام و انصرام میں بہتری ممکن ہوسکے جبکہ میڈیا کو ڈیل کرنے کیلئے ہسپتال انتظامیہ میں سے کسی ایک ذمہ دار آفیسر کو فوکل پرسن مقرر کیا جانا بھی ناگزیر ہے حالانکہ اس حوالے سے گزشتہ برسوں صحافیوں کے مطالبہ پر پیش رفت ہوئی تھی مگر فوکل پرسن کی طرف سے عدم تعاون کے باعث میڈیا پرسنز کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد فوکل پرسن نام نہاد حد تک باعث استفادہ رہا یہ ذمہ داری ایسے آفیسر کو سونپی جانی چاہئے جو کم از کم اس سوچ کا مالک ہو کہ صحافیوں کے استفسار کا خندہ پیشانی سے جواب دے سکے، اسی طرح ہسپتال کی کنٹین کی بے ضابطگیوں اور نرخوں میں از خود ہوشربا اضافہ کا معاملہ بھی بہت بڑی سر درد ہے اوپر سے کنٹین عملہ کی بدتمیزیوں کو بھی لگام ڈالی نہیں جارہی جبکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا معاملہ بھی ایک ایسا معمہ ہے جو حل ہونے کا نام نہیں لے رہا اور آئے روز واٹر پلانٹ کی بندش کی خبریں سامنے آتی ہیں، وجوہات کچھ بھی ہوں دریں حالات اگر ہسپتال کے انتظام و انصرام کو حقیقی معنوں میں فعال بنانا مقصود ہے تو اس کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہوں گے ۔

مزید : ایڈیشن 1