موٹاپا سو بیماریوں کی جڑ ہے

موٹاپا سو بیماریوں کی جڑ ہے

معروف گائناکالوجسٹ و کنسلٹنٹ ڈاکٹر مصباح ملک کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ، گزشتہ بیس سال سے اس شعبہ میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں، اقراء میڈیکل کمپلیکس اور حمید لطیف ہسپتال میں وزٹنگ کنسلٹنٹ ہیں۔ ایک متحرک ، فعال اور اپنے کام سے مخلص ماہر گائناکالوجسٹ ہیں۔ قومی و بین الاقوامی کانفرنسز وسیمینار میں شرکت کرتی رہتی ہیں۔ گزشتہ دنوں ان سے ملاقات ہو ئی تو ہم نے حاملہ خواتین کے مسائل، ماں و بچے کی صحت اور ان کے علاج سے متعلق ان سے مفید مشورے لئے جو نذر قارئین ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

س: پاکستان میں حا ملہ خوا تین

کن مسائل کا شکارہیں؟

ج: روایتی گھر یلو یا خا ندا نی بند شیں جن کی وجہ سے حا ملہ خا تون کو ڈا کٹرکے پا س لے کر جانے یا اس کے مختلف ٹیسٹ / چیک اپ کروانے معیو ب سمجھتے ہیں ایک بڑ ی وجہ ہے، اس کے پس منظر میں بعض اوقات خا ندان کے ما لی حا لت بھی آڑے آجا تے ہیں جس میں سفر ی اور ٹیسٹو ں کے اخرا جات کئی خاندانو ں کے لئے قا بل بر دا شت نہیں ہوتے۔حاملہ خوا تین کا دو سرا بڑامسئلہ نز دیکی مقامات پر ایسے سنٹرز کی عد م مو جو دگی ہے جہا ں پر ان کو میڈیکل کی سہو لتیں میسر ہو ں یو ں دور دراز مقا ما ت کا سفر کر نا ان کے لئے ممکن نہیں ہو تا اور انتہا ئی ضرورت کے علا وہ محض چیک اپ کے لئے جا نا غیر ضرو ری تصور کیا جا تا ہے۔حا ملہ خوا تین کا تیسرا بڑا مسئلہ غذائیت کا ہے۔حا ملہ خا تو ن کو ایک کی بجا ئے دو جا نو ں کا بو جھ اٹھا نا ہو تا ہے اور پیٹ میں پلنے والے بچے کے لئے بھی متو ازن اور صحت مند خوراک کی فرا ہمی کو یقینی بنا نا ہو تا ہے لیکن ہما رے گھرا نو ں میں اس پر کو ئی خا ص تو جہ نہیں دی جا تی جس کی و جہ سے خوا تین خورا ک کی شد ید کمی کا شکا ر ہوجا تی ہیں۔جسم میں خو ن کی کمی انیمیا کی شکل میں ظاہر ہو تی ہے جس کاآنے والے بچے کی صحت پر بہت نقصا ن دہ اثر پڑ تا ہے۔

س:ما ں کے سا تھ سا تھ نوزائید ہ بچے کوکن مسائل کا سا منا کر نا پڑ تا ہے ؟

ج: خورا ک کی کمی ، پیدا ئش کے عمل (زچگی) کے دورا ن حفا ظتی تدا بیر کے اختیا ر نہ کرنے کی و جہ سے انفیکشن ہو جا نا ، مو سمی اثرا ت کے تحت ڈا ئر یا یا نمو نیہ یا اسی طرح کی دو سری سانس کی تکا لیف کا شکا ر ہو جا نا شامل ہیں اور اگر بروقت طبی مدد مہیا نہ کی جائے تو بچے کی مو ت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

س:ماں اور بچے کی شرح اموات زیادہ ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟

ج: بدقسمتی سے معلومات کی کمی ،روایت پر ستی اور وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے اکثر ماں بننے کا عمل ’’نہایت تکلیف دہ ہو تا ہے۔پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ شر ح خواندگی بھی شر م ناک حد تک کم ہے اور دیہاتی علاقوں میں پڑ ھی لکھی خواتین کا تنا سب تو مایو س کن ہے۔یہی و جہ ہے کہ ماں بننے کے 9 ما ہ بعد کے عرصے میں اور بچے کی پیدائش کے بعد بھی ماؤ ں کو کئی مسائل کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہمارے دیہا توں میں اکثر زچگی کا عمل گا ؤ ں کی غیر تر بیت یا فتہ دائیو ں کے ہا تھوں انجا م پا یا جا تا ہے اور دورا ن زچگی ماؤ ں کی موت کی ایک بڑ ی و جہ یہ غیر تر بیت یا فتہ دا ئیا ں بھی ہیں اور پھر گھر کا غیر صحت مند ما حو ل بھی ما ں یا بچے کی مو ت کا سبب بن سکتے ہیں۔مختلف دستیا ب اعداد وشما ر کے مطابق پاکستان میں اوسطا45 لا کھ خوا تین سا لا نہ ما ں بننے کے عمل سے گز رتی ہیں اور دورا ن زچگی یا زچگی کے بعد 30,000 خوا تین میڈ یکل بنیا دو ں پر لقمہ اجل بن جا تی ہیں۔ یہ تعداد دنیا بھر کے تمام مما لک سے (ما سوا ئے افغا نستا ن)زیا دہ ہے۔

س: ایک عورت اپنے حمل کو خطرے سے محفوظ بنانے کے لئے کیا کر سکتی ہے؟

ج: پاکستان میں بیشتر خواتین مسلسل حمل،زچگی اور اپنی ذات سے لاپروائی کے چکر میں پھنسی رہتی ہیں جو اْن کی خراب صحت اور بیماری پر منتج ہوتا ہے۔ آپ کو یہ بات شائد عجیب لگے لیکن یہ حقیقت ہے کی ایسی صورتِ حال میں حمل صحت کے لئے نہ صرف مضر بلکہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ شوہروں اور بیویوں کو اس سلسلے میں گفتگو کرنے کی ضرورت ہے کہ اْن کے کتنے بچے ہونے چاہئیں۔پاکستان میں یہ عام سی بات ہے کہ ایک بچہ عورت کی گود میں ہوتا ہے اور وہ حاملہ بھی ہوتی ہے۔ محتاط منصوبہ سازی اور غوروخوض دو بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفے کا باعث بن سکتا اور عورت کیلئے انتہائی سکون پر منتج ہوسکتا ہے۔ اس طرح اْسے بچے کی پیدائش کے بعد کسی حد تک اپنی صحت کو بہتر بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔

ایک انتہائی ضروری غذائی جْز فولاد ہے۔ دورانِ حمل عورتوں میں فولاد کی ضرورت دو گْنا بڑھ جاتی ہے۔ فولاد کی کمی کی وجہ سے خون کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ یکے بعددیگرے حمل اس حالت کو مزید بدتر بنا سکتے ہیں کیونکہ اس دوران شائد عورت کو اپنے اندر فولاد کی کمی کو پورا کرنے کا موقع نہیں ملتا۔

س:کس عمر کی خواتین کو دورانِ حمل پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

ج:سولہ سال سے کم عمر لڑکیوں میں بیس سال سے اْوپر کی عورتوں کی نسبت حمل کے دوران شرحِ اموات زیادہ ہے۔ اس کی دوسری طرف،پینتیس سال سے اْوپر کی خواتین میں ڈاونز سنڈروم جیسے پیدائشی نقص والے بچوں کی پیدائش کا امکان زیادہ ہے۔ مائیں جو بہت ہی کم عمر یا پھر بچے پیدا کرنے کی عمر کے آخری سالوں میں ہوتی ہیں اْن میں وضع حمل کے دوران دورے پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس مرض کی شناخت حمل کے بیس ہفتے میں بلند فشارِخون، سوجن اور پیشاب میں پروٹین کی زیادتی سے ہوتی ہے اس لئے ایک عورت کو حاملہ ہونے سے پہلے کم ازکم چار ماہ تک مْضر اشیا سے پرہیز کرنے اور اچھی غذا کھانے کی ضرورت ہے۔ مثانے، رحم اور معدے کے امراض حمل کے دوران شدت پکڑ سکتے اور قبل ازوقت پیدائش اور دورے پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کسی بھی قسم کے مرض کا حمل سے پہلے علاج بہت ضروری ہے۔

س:دورانِ حمل کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

ج: باقاعدگی سے ڈاکٹر کے پاس جانا درپیش خطرات کو کم کرتا ہے۔پیدائش سے پہلے احتیاط تربیت یافتہ اشخاص کو خصوصی توجہ کی حامل صورتحال سے آگاہ کر سکتی ہے۔ اِن میں ایک سے زیادہ بچے، بلند فشارِخون، دل اور گردوں کی تکالیف اور ذیابیطس شامل ہو سکتی ہے۔اپنی گائنی کے مشورے سے حاملہ عورت تشنج کیلئے حفاظتی ٹیکے لگوا سکتی ہے جو بچے کو تشنج سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اْسے حمل کے 62 ویں اور 82ویں ہفتے کے دوران گروپ بی سٹرپٹوکوکس کا ٹیسٹ بھی کرانا چاہئے۔اگر یہ بیکٹیریا بڑی انتڑی میں موجود ہیں تو یہ وضع حمل کے دوران بچے کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

س:حاملہ عورت کو کس صورتِ حال میں فوری طبی امداد لینی چاہئے؟

ج:ماں بننے والی خاتون کو پیشہ ور مہارت رکھنے والوں کو تمام ضروری معلومات فراہم کرنی چاہئیں جس میں اْسکی طبّی تفصیلات بھی شامل ہیں اْسے بِلاہچکچاہٹ سوال بھی پوچھنے چاہئیں۔ اگر کسی وجہ سے خون آنا، مْنہ پر سوجن، شدید سردرد یا انگلیوں میں درد اور اچانک سے نظر کم یا دھندلی، پیٹ میں شدید درد، الٹیاں، سردی سے بخار، بچے کی حرکات میں اچانک کمی بیشی یا تبدیلی، عضائے مخصوصہ سے پانی کا اخراج، پیشاب کرتے وقت درد یا پیشاب کم آنے لگتا ہے تو بِلاتاخیر طبّی مدد حاصل کی جانی چاہئے۔ماں کا الکحل یا دوسری منشیات استعمال کرنا (بشمول تمباکو) بچے میں دماغی کمزوری، جسمانی نقائص اور رویے میں تبدیلی کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔

اس کے علاوہ جو ڈاکٹر آپکے حاملہ ہونے اور صحت کے دیگر تمام مسائل سے بخوبی واقف ہے اْسکی ہدایت کے بغیر کوئی دوا استعمال نہ کریں۔ بعض وٹامنز بھی مضر ہو سکتے ہیں۔ مثلاً، وٹامن اے کی زیادتی بچے میں نقائص کا باعث بن سکتی ہے۔

س: ایک حاملہ عورت کا آئیڈیل ویٹ کیا ہونا چاہیے؟

ج: حاملہ عورت کو نہ تو بہت موٹا اور نہ ہی بہت کمزور ہونا چاہئے۔ کیراسیز فوڈ، نیوٹریشن اینڈ ڈائٹ تھراپی کے مطابق نارمل وزن کے بچے کی نسبت کم وزن والے بچے میں موت واقع ہونے کا امکان چالیس فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف، دو جانوں کیلئے کھانا محض موٹاپے کا باعث بنتا ہے۔ وزن میں مناسب اضافہ بالخصوص چھ ماہ کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔اس بات کی علامت ہے کہ حاملہ خاتون اپنی اضافی بھوک کے مطابق کھانے کی صحیح مقدار لے رہی ہے۔

س:کامیاب وضع حمل کے لئے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟

ج:جو عورت دورانِ حمل اپنا خیال رکھتی ہے اْسے وضع حمل کے وقت بہت کم پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ بچے کی پیدائش گھر پر یا ہسپتال میں کرانے کا منصوبہ بھی بنا چکی ہوگی۔وہ بڑی حد تک یہ بھی جانتی ہوگی کہ ماہر دائی یا ڈاکٹر سے کیا توقع کی جا سکتی ہے اور اْس کے ساتھ کیسے تعاون کِیا جا سکتا ہے۔ معالج بھی بچے کی پیدائش کے طریقے، درد کی ادویات کے استعمال یا الٹرا ساؤنڈ کی مدد سے نوزائیدہ بچے کی حرکات کا جائزہ لینے کے سلسلے میں حاملہ عورت کی ترجیحات سے بخوبی واقف ہوگا۔ دیگر معاملات پر بھی باہمی اتفاق ضروری ہے، اگر گھر پر پیدائش پیچیدگی اختیار کر جاتی ہے تو وہ کس ہسپتال یا کلینک میں جائینگے؟ زیادہ خون بہہ جانے کی صورت میں وہ کیا کرینگے؟ چونکہ جریانِ خون بیشتر صورتوں میں ماں کی موت کا سبب بن سکتا ہے، اس لئے انتقالِ خون قبول نہ کرنے والے مریضوں کیلئے خون کے متبادلات کا فوری انتظام ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں، اس بات پر بھی غور کِیا جانا چاہئے کہ اگر آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا کِیا جائیگا۔ ایک عورت اپنے حمل کی بابت جتنی زیادہ معلومات رکھتی ہے اْس کیلئے اْتنا ہی اچھا ہے۔ حمل سے پہلے اور حمل کے دوران اپنا خیال رکھنے سے اور بچے کی پیدائش کے مختلف پہلوؤں پر مناسب سوچ بچار کرنے سے ایک عورت اپنے حمل کو یقینی طور پر خطرے سے محفوظ رکھے گی۔

س:زچہ اور دودھ پلانے والی ماں کی خوراک کیا ہونی چاہئے؟

ج:زچہ کو اچھی خوراک اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال کرنے کیلئے چاہیے،اضافی خوارک اور پانی /مشروبات لینے سے آپ کو طاقت ملے گی اور دودھ زیادہ بنے گا،حمل کے دوران شروع کی گئی اضافی خوراک جاری رکھیں مثلاً:دن میں تین تین دفعہ کھانا کھائیے اور دوکھانوں کے درمیان ہلکی پھلکی چیزیں مثلاً پھل 'کچی سبزیاں 'دودھ وغیرہ استعمال کریں،ہر دفعہ بچے کو اپنا دودھ پلانے سے پہلے ایک گلاس پانی249 دودھ یا جوس (جو کچھ بھی میسر) ہو پی لیں،اگر آپ یہ چیزیں تھوڑی مقدار میں ہر کھانے کے ساتھ کھائیں گی تو گیس یا بد ہضمی نہیں ہوگی،فولاد 249 فولک ایسڈ کی گولیوں کا استعمال تب تک جاری رکھیں جب تک بچہ چھ ماہ کا نہ ہوجائے۔

*سی سیکشن آپریشن کے بڑھتے ہوئے رحجان کی کیا وجوہات ہیں؟

ج:سیزرمیں کم از کم دو زندگیاں شامل ہوتی ہیں یعنی ماں اور بچہ۔دونوں کے حوالے سے الگ الگ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹرز کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ مریض کو آپریشن کی ضرورت پیش نہ آئے اور بچے کی پیدائش نارمل ڈیلوری سے ہوجائے لیکن بعض اوقات کیس پیچیدہ ہونے کی وجہ سے گائنی کالوجسٹ کے پاس آپریشن کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔بچے کی پیدائش کے لئے آپریشن کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں، بچے کا درست سمت میں نہ ہونا، حاملہ کے جسم سے بہت زیادہ خون کا نکل جانا،یا پھر پانی کا ٹوٹ جانا یا پھر کوئی اور پیچیدگی، اکثر جب مریض ہمارے پاس آتے ہیں تو وہ اتنی نازک صورتحال میں ہوتے ہیں کہ ہمیں مجبورا آپریشن کرنا پڑتا ہے۔دوران حمل خواتین کا احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے زچہ بچہ دونوں کی صحت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اوراکثراوقات بچے کی پیدائش وقت سے پہلے آپریشن کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔ میرے پاس ایمرجنسی کیسز بہت آتے ہیں، اکثر ہمارے پاس ایسے مریض لائے جاتے ہیں جن کے لئے ہمارے پاس صرف آپریشن کا راستہ باقی رہتاہے۔ ڈاکٹر کوکسی بھی صورت میں ماں اور بچے دونوں کو بچانا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپریشن کا سہارا لیتے ہیں۔میرے نزدیک اس امر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ، اکثر لوگ بروقت یہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ ان کو ایسے حالات میں کیا کر نا چاہیے۔ بچے کی پیدائش گھر میں ہو، کسی پرائیویٹ کلینک لے جایا جائے یا پھر بڑے ہسپتال کا رخ کریں؟ فیصلے کی تاخیر سے کیس اتنا سنگین ہو جاتا ہے کہ آخر میں آپریشن کی نوبت آجاتی ہے۔

س:زچگی کے بعد خواتین کس طرح صحت کا خیال رکھ سکتی ہیں؟

ج: زچگی کے بعد بعض خواتین خود سے غافل ہوجاتی ہیں جو بہت غلط بات ہے۔اگر ماں صحت مند ہوگی تو آپکا بچہ خود بخود صحت مند ہوگا۔ماں کی اچھی صحت ہی بچے کی اچھی صحت کی ضامن ہوتی ہے۔عموماً خواتین زچگی کے بعد وزن کے بڑھنے،جسم میں مختلف جگہوں پردرد اور بڑھے ہوئے پیٹ سے پریشان نظر آتی ہیں جبکہ ڈلیوری سے پہلے وہ بالکل نارمل ہوتی تھیں زچگی کے دوران ایک حد تک وزن کابڑھنا نارمل بات ہے۔لیکن ضرورت سے زیادہ وزن میں اضافہ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ خواتین کے مختلف امراض جیسے مانہواری کا درد کے ساتھ یا قبل از وقت آنا، اولاد کا نہ ہونا۔لیکوریا، بالوں کا گرنااور عام جسمانی کمزوری کی بڑی وجہ موٹاپا ہے، لہٰذا زچگی کے دوران بھی زیادہ کیلوریز والی غذائیں لینے کے بجائے غذائیت سے بھرپور خوراک، ہلکی پھلکی ورزش اور فعال رہنا چاہئے اورڈلیوری کے بعد چالیس دن بستر پر لیٹنے کے بجائے اپنی باڈی شیپ کو واپس لانے اور فٹ رہنے کے لئے تھوڑی محنت کرنی چاہئے تاکہ آپ اپنے بچے کی بہتر پرورش کرسکیں اور بچے کی پیدائش کے بعد بھی اپنی آگے آنے والی زندگی کو بھرپور انداز سے انجوائے کرسکیں۔بیلٹ کا استعمال کریں اور اگر ڈلیوری آپریشن کے ذریعے ہوئی ہو تو ململ کے کپڑے کا بیلٹ بھی باندھ سکتے ہیں،نیم گرم پانی سے شاور لیں ،اگر آپریشن بھی ہواہوتو آپ آرام سے نہائیں کیونکہ آپریشن میں آنے والے ٹانکوں کی صفائی بے حد ضروری ہے ورنہ انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتاہے،ڈلیوری کے فوراً بعدمرغن اور مرچ مصالحوں والی غذاؤں سے بھی پرہیز کریں اور بچے کو اپنا دودھ پلائیں اس سے نہ صرف آپ بلکہ آپکا بچہ بھی صحت مند رہے گا،ڈلیوری کے بعد میگنیشیم اور ذنک ضروری ہے۔ یہ دونوں اجزاء آپکی صحت اور باڈی شیپ کو ری گین کرنے میں مدد کریں گے۔اسکی آپ الگ الگ ٹیبلیٹ بھی لے سکتی ہیںیا اپنی ڈاکٹر سے لکھواسکتی ہیں۔فرج کا ٹھنڈا پانی پینے اور ٹھنڈے پانی سے نہانے سے گریز کریں۔اضافی خوارک کے ساتھ ساتھ دن میں ایک یا دو گھنٹے کیلئے آرام ضرور کریں۔،باڈی مساج کروائیں۔اپنی ذاتی صفائی کا خاص خیال رکھیں،اگر نارمل ڈلیوری ہوتو تھوڑے دن کے بعد ہلکی پھلکی ورزش شروع کردیں۔اپنے اور بچے کے چھوٹے موٹے کاموں میں دلچسپی لیں،آپریشن سے ڈلیوری ہونے کے بعد بھی آپ ہلکی پھلکی ورزش یا کم از کم آپ والک تو کرہی سکتی ہیں۔یہ آپ کی صحت کے لئے مفید ثابت ہوگا۔

`س:کیا بانجھ پن صرف عورتوں میں پایا جاتا ہے؟

ج: وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جس طرح سائنس ترقی کی منازل طے کررہی ہے بالکل اسی طرح ہر بیماری کا جدید طریقہ علاج اور اس پر بآسانی عمل بھی وضع ہورہا ہے۔ جس پر عملدرآمد سے انسانی معاشرے کی فلاح و بہبود 100فیصد ممکن ہے۔ ہمارے ملک میں بانچھ پن کے باعث کئی گھرانے اجڑ جاتے ہیں مگر بانجھ پن صرف خواتین میں نہیں مردوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ پیشاب کا بار بار اور تیزی سے نکل جانا اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ایسے مریضوں کو فوری طور پر مستند ڈاکٹروں سے رجوع کرنا چاہیے۔ اس بیماری سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی ایسے مریض اپنی بیماری چھپائیں اور مورد الزام اپنی بیویوں کو نہ ٹھہرائیں کیونکہ یہ بیماری مرد و خواتین دونوں کی مشترکہ ہے۔

س: خوشگوار زندگی گزرنے کے لئے آپ کیا ایڈوائز کریں گی؟

ج: وہ تمام جوڑے جو والدین بننا چاہتے ہیں اُن کا یہ طے کرنا کہ ان کو کتنے بچے چاہئیں،یہ طے کرنا کہ ایک حمل کے بعد دوسرا حمل کب اور کتنے وقفے سے ہونا چاہئے۔عورت کی بہتر صحت کیلئے ضروری ہے کہ دو بچوں کے درمیان تین سال کا وقفہ ہو تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال کرسکے۔ایک صحت مند ماں بھرپور طریقے سے اپنے بچوں اور گھر کی دیکھ بھال کرسکتی ہے۔بچوں کوماں کی پوری توجہ ملتی ہے اور ان کی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔بچوں کو تعلیم اور ترقی کے بہتر مواقع ملتے ہیں۔با پ کو بڑھتے ہوئے کنبے کی ضرورت پوری کرنے کیلئے ذیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔بچے ذیادہ صحتمند اور طاقت ور ہوتے ہیں اور زندگی کی دوسری آسائشوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔معاشرے میں غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔خوراک249 تعلیم کی کمی249 طبی سہولتوں کے فقدان 249 پانی کی فراہمی اور ماحول کی آلودگی کے مسئلوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ بشرطیہ ہم اپنی زندگی کو بہتر پلاننگ کے تحت گزاریں۔

***

مزید : ایڈیشن 1