فلموں میں ہمیشہ پاکستان کا وقار مد نظر رکھا

فلموں میں ہمیشہ پاکستان کا وقار مد نظر رکھا

ہاتھ بڑھانا ایک بات ہے لیکن بڑھا ہوا ہاتھ تھام لینا ایک الگ ہی بات ہے بہت سے لوگ اپنا ہاتھ بڑھاتے ہیں تا کہ کوئی تھام کر انہیں آگے بڑھائے لیکن وہ ہاتھ اٹھے ہی رہ جاتے ہیں اور وہ لوگ بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ جرار رضوی شوبز کی دنیا کا ایک ایسا ہی نام ہے جس نے کئی بڑھے ہوئے ہاتھ آگے بڑھ کر تھام لئے اور انہیں ان کی منزل تک پہنچا دیا اور پھر انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھابطور ڈائریکٹر خود بھی فلمیں بنائیں اور نیو ٹیلنٹ کو پرموٹ کیا ان کا ماننا ہے کہ زندگی صرف ایک ہی بار ملتی ہے لیکن اس زندگی کو جینے کا موقع ہر روز ہر پل ملتا ہے جب آپ دوسروں کی امیدیں پوری کرتے ہیں تو زندگی جینے کا سہی مزہ آجاتا ہے اور وہ ہمیشہ اپنی زندگی یونہی جیتے رہیں گے بڑھے ہوئے ہاتھ تھامتے رہیں گے کیونکہ جینا اسی کا نام ہے۔

فلم انڈسٹری کی تاریخ میں کچھ ایسی شخصیات ضرور آئی ہیں جنہوں نے اپنی محنت، خلوص اور جدوجہد کے ذریعے اپنی ایسی شناخت بنائی کہ انہیں کئی سالوں تک یاد رکھا جا سکتا ہے۔ جرار رضوی بھی ایسی ہی شخصیت ہیں جنہیں لوگ سٹار میکر کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کے والد باقر رضوی تھے باقر رضوی نے پاکستان کے لئے کئی خوبصورت فلمیں تخلیق کیں مگر ان کی پاکستان کی پہلی و آخری کاؤ بوائے فلم بارہ بجے تھی۔ جو پھر کوئی کاؤ بوائے فلم دوبارہ نہیں بنا سکا اور اب جرار رضوی کمرشل فلموں کی ڈائریکشن کے ساتھ ساتھ سلور سکرین کے لیے بھی کئی شاہکار بنانے میں مصروف عمل ہے چند سال پہلے ان کی اردو فلم ’’سن آف پاکستان‘‘ ریلیز ہوئی تھی اور اب اس سال عیدالاضحی کے دن سے اردو فلم ’’جب تک ہیں ہم‘‘ ریلیز ہونے جا رہی ہے۔۔۔ اگست کے مہینے میں نئی فلمیں ’’رب جانتا ہے‘‘ اور ’’تم نے چاہا ہی نہیں‘‘ کی شوٹنگ کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔

س: سن آف پاکستان کے حوالے سے آپ کے تجربات کیسے رہے؟

ج: دیکھئے میں ایک محب وطن پاکستانی ہوں اور مجھے جب بھی فلم بنانے کا موقع ملا میں نے پاکستان کے وقار کی بات کی ہے۔ بطور ہدایتکار میری پہلی فلم’’ جیتے ہیں شان سے‘‘ کا موضوع بھی حب الوطنی تھا اور’’ سن آف پاکستان‘‘کا پیغام بھی یہی تھا کہ پاکستان دہشت گرد ملک نہیں ہے۔اب میری عیدالاضحی کو جب تک ہیں ہم ملک بھر میں ریلیز ہورہی ہے۔ یہ بھی حب الوطنی پر مبنی ہے مگر ساتھ ہی اس فلم کے گانے بہت رومانٹک ہیں۔ میں نے اس بات کا اس فلم میں خیال رکھا کہ ایکشن بہت جاندار آئے۔ گانوں کی عکسبندی رومانٹک اور میوزیکل فلم جیسی ہو۔ جب تک ہیں ہم کے علاوہ میں ایک فلم لاہور میں ’’تم نے چاہا ہی نہیں‘‘ اور اسلام آباد میں ’’رب جانتا ہے‘‘ کے نام سے شروع کر رہا ہوں۔جلدشوٹنگ کا آغاز ہو جائے گا۔

جہاں تک نئی فلم شروع کرنے کا سوال ہے تو ایک یا دو فلمیں فلم انڈسٹری کے زوال کو ختم نہیں کر سکتیں۔ ہمیں تواتر کے ساتھ کچھ فلمیں بنانی ہوں گی اور سینما گھروں کی ضروریات پوری کرنا ہوں گی تا کہ وہ بھارتی فلموں پر انحصار نہ کر سکیں۔ مجھے یقین ہے کہ نہ صرف ’’جب تک ہیں ہم‘‘ عوام میں بے حد پسند کی جائے گی بلکہ دوسری فلمیں بھی بے حد مقبول ہونگی۔

س: فلم انڈسٹری کے موجودہ حالات کو بہتر کرنے کیلئے آپ کیا تجاویز دیں گے؟

ج: سب سے پہلی بات تو یہ کہ ہم فلم میکرز کو آپس میں متحد ہونے کی ضرورت ہے لیکن افسوس ہم آج بھی بیک وقت دو دو فلمیں ایک ہی تاریخ پر ریلیز کر کے خود اپنے آپ سے دشمنی کر رہے ہیں۔ جس سے ہمیں معاشی نقصان ہو رہا ہے۔ اس وقت ایک ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر آنے والی عید الفطر اور عیدالاضحی پر ہمیں بہت سوچ سمجھ کر صرف 2 فلمیں ایک اردو اور ایک پنجابی فلم ریلیز کرنا ہوں گی۔ اس کیلئے فلم ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن فیصلہ کرے کہ وہ کونسی فلمیں ہوں گی۔ اگر ہم نے منصوبہ بندی کے بغیر فلموں کو ریلیز کر دیا تو شاید آنے والے وقت میں یہ انڈسٹری مزید برے حالات میں چلی جائے۔ لہٰذا میں پھرکہوں گا کہ عید الفطر اور عیدالاضحی پر صرف 2 فلموں سے زیادہ کی نمائش نہ کی جائے۔

س: فلم ’’بول‘‘ کیا انڈسٹری کی بہتری میں کردار ادا کر سکتی تھی؟

ج: مجھے تو اس فلم کے موضوع سے ہی اختلاف ہے۔ شعیب منصور جیسے ذہین ہدایتکار نہ جانے کس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس فلم میں ہم جنس پرستی کو دکھا کر اہل سنت کے مولوی حضرات کو تضحیک کا نشانہ بنایا ہے جو سراسر قابل مذمت ہے۔ یقیناً یہ کسی اسلام دشمن این جی او کی کارستانی ہے۔ شعیب منصور کو سوچنا چاہئے کہ وہ ملک اور اسلام کیلئے کیا مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ پاکستان پر تو پہلے ہی دشہت گردی کے باعث سو طرح کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں ’’بول‘‘ میں جو مناظر دکھائے گئے ہیں وہ قابل مذمت ہیں۔ یہ فلم کسی بھی طرح فیملی فلم نہیں تھی۔

س: وار، میں ہوں شاہد آفریدی، مشن 021 اور نامعلوم افراد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔۔۔

ج: میں سمجھتا ہوں وار ، میں ہوں شاہد آفریدی اور نامعلوم افراد کمرشل فلمیں تھیں مگر زیبا بختیار سے مجھے بہت امید تھی کہ وہ بھی اچھی فلم بنائیں گی مگر وہ فلم ایسی نہ بنا سکیں جیسی لوگ ان سے امید کرر ہے تھے مگر پھر بھی انہوں نے فلم تو بنائی۔ یہاں تو بہت سے فلم انڈسٹری میں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے یہاں سے شہرت اور بے انتہا دولت کمائی ہے مگر وہ آج فلم نہیں بنا رہے ہیں۔پھر پچھلے سال ہمایوں سعید کی جوانی پھر نہیں آئے گی اور یاسر نواز کی کامیڈی فلم رانگ نمبر نے دھوم مچا دی تھی۔ کراچی سے فلموں کے لئے تین ہدایتکار ابھر کر آئے۔ نبیل قریشی، یاسر نواز اور ندیم بیگ ۔ اور ان تینوں نے عمدہ ہدایتکاری دی اور تینوں نے اچھی فلمیں بنائیں ان تینوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔

وہ لوگ صرف آئے دن بیانات دیتے رہتے ہیں۔ جیسے وہ پاکستان فلم انڈسٹری کیلئے بڑے کام کر رہے ہیں۔ حالانکہ آج پاکستان فلم انڈسٹری کو ان لوگوں کی بہت ضرورت ہے کہ یہ لوگ آئیں اور فلمیں شروع کریں جیسے ہمایوں سعید اور زیبا بختیار نے فلمیں بنائیں۔ ہمایوں سعید کی اب تیسری فلم ’’میں پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘ بھی عیدالاضحی کو ریلیز ہو رہی ہے۔ ہمایوں سعید سے کم از کم ہمارے وہ آرٹسٹ ضرور سبق سیکھیں جنہوں نے پاکستان فلم انڈسٹری سے شہرت اور دولت کمائی جیسے شان، سعود، معمر رانا، فیصل قریشی، جان ریمبو، شاہد ، مصطفےٰ قریشی، ندیم بیگ، بابر علی، زیبا بیگم، غلام محی الدین، بابرہ شریف، عمر شریف، صائمہ، ثنا، میرا، لیلیٰ، نشو بیگم، بہار بیگم، ثمینہ پیرزادہ، عثمان پیرزادہ، سعید رضوی، شوکت زمان، صفدر خان، شان مصطفےٰ، سلیم چوہدری، طارق بٹ، میاں خالد فیروز، جونی ملک، صفدر ملک، افضل خان، شہنشاہ رضوی، سجاد گل، راحیل باری ، جمشید ظفر۔ ان تمام لوگوں کو ایک ایک فلم شروع کر دینی چاہئے۔جیسے سید نور، جاوید شیخ، سہیل خان، سنگیتا آپا اور شفقت چیمہ نے فلمیں شروع کی ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان انڈسٹری کو بچانے کیلئے بڑے بڑے گروپ اور چینل کے مالکان بھی فلم پروڈکشن میں آجائیں ۔ مثلاً میاں منشاء، میاں عامر محمود، ملک ریاض، جہانگیر ترین، شیخ حسنین، رفیع گروپ، رائل پام والے فلموں میں سرمایہ لگائیں تو انڈسٹری کامیابی کی طرف گامزن ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ کسی ایک بینک کے ذریعے پاکستان فلم انڈسٹری کے اچھے ، پڑھے لکھے پروڈیوسر اور ہدایتکار کو اپنی شرائط پر سرمایہ فلم میں لگانے کیلئے فراہم کرے۔

گورنمنٹ ایک کیش صدارتی ایوارڈ دوبارہ شروع کرے اور کیش ایوارڈ بھی دئیے جائیں، اچھی فلم بنانے والے پہلے پروڈیوسر کو پچاس لاکھ، دوسرے نمبر پر آنے والی فلم کو 30 لاکھ اور تیسرے نمبر پر آنے والی فلم کو 20 لاکھ روپیہ انعام کے طور پر دئیے جائیں۔ اسلام آباد میں ایک بڑا میڈیا سٹی سٹوڈیو شہزاد چک میں بنا دے اور گورنمنٹ ان تمام سنیمامالکان کو ایک نوٹس دے کہ جنہوں نیسنیما ختم کرائے، سینما کی جگہ پلازہ یا شاپنگ مال بنایا ہے وہ اس کے اندر ایک 200 سیٹ والا سینما بھی ضرور بنائے جس سے ہمارے ملک میں اچھے اور زیادہ سینما ہو جائیں گے تو انڈیا کے ساتھ ہماری فلموں کو سینما بھی آسانی ملیں گے۔ مگر ہم سب کو مل کر فلمیں بھی زیادہ سے زیادہ بنانی چاہئیں۔

جیسے کراچی میں ہمایوں سعید، شمعون عباسی، جاوید شیخ، خالد خان، یاسر نواز نے نئی فلمیں شروع کی ہیں۔ لاہور میں حسن عسکری، کامران چوہدری، شاہد ظہور شروع کر رہے ہیں۔ میں نے 2017ء سے لے کر 2020 تک کیلئے فلمیں بنانے کی پلاننگ کی ہے میں چاہتا ہوں اگر ایک فلم میری سیٹ پر ہو تو دوسری فلم کی ایڈیٹنگ ہو رہی ہو اور تیسری ریلیز ہو رہی ہو۔۔۔ جیسے کہ عیدالاضحی کو میری فلم جب تک ہیں ہم کی ریلیز ہے۔ اس سے پہلے میری دو فلمیں ہیں جو میں سیٹ لے کر انشاء اللہ جا رہا ہوں۔ ان فلموں میں نئے اور پرانے آرٹسٹ کام کریں گے۔ میں نے بارہ فلموں کے اسکرپٹ لکھوائے ہیں اور ابھی تک 30 کے قریب گانے ریکارڈ کرائے ہیں تمام فلموں کے نام جو ہیں وہ یہ ہیں۔ ’’پریٹی گرل، ڈیل عشق نے ہم کو لوٹا، گینگ، مانگا ہے تجھے رب سے، آنکھیں میری دشمن، پوجا، دل دیا تمہیں، سیاں، سپنوں کا سوداگر، لائف‘‘ اور میں بہت جلد مانگا ہے تجھے رب سے، لندن شوٹنگ کرنے ان شا اللہ جاؤں گا اور یہ فلم میگا کاسٹ پر مبنی ہو گی جس میں کراچی لاہور کے علاوہ انڈیا سے بھی ایک دو آرٹسٹ کام کریں گے۔ میری کوشش ہے کہ میں ہر سال تین فلمیں سینما کو دوں اور ایسی ہی توقع میں کراچی، لاہور کے تمام آرٹسٹوں، فلمسازوں، ہدایتکاروں، چینلز اور بڑی فرم کے لوگوں سے بھی رکھتا ہوں میری درخواست ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور پاکستان فلم انڈسٹری کی بقاء کیلئے اپنا حصہ فلمیں بنا کر ڈالیں اور پاکستان فلم انڈسٹری کو کامیاب کرانے کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

س: آپ نے بہت سے لوگوں کو متعارف کرایا اور ان میں سے کئی ٹی وی اور فلم پروڈکشن کر رہے ہیں۔۔۔ آپ ان لوگوں کے ساتھ کچھ نہیں کر رہے؟

جواب: بات ظرف کی ہے خاندان کی ہے جو خاندانی اور اعلیٰ ظرف والے ہوتے ہیں وہ اپنے محسنوں کو یاد رکھتے ہیں۔۔۔ جو شخص ان کو انگلی پکڑ کر چلایا ہو اور جب انہیں چلنا آگیا کام کرنا آگیا دولت شہرت آگئی تو وہ لوگ اسے یاد بھی نہیں رکھتے پروڈکشن کرتے ہیں تو بھی اسے یاد نہیں رکھتے نئے نئے لوگوں سے اپنا کام کرا رہے ہیں مگر میرے تجربے سے فائدہ اٹھانا انہیں پسند نہیں ایسے لوگوں کے لیے میں ایک شعر اکثر کہتا ہوں

میرے ہاتھوں کی لیکروں میں یہ عیب ہے محسن

میں جس شخص کو چھو لوں وہ میرا نہیں رہتا

سوال: انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں کی فلموں میں لوگ متعارف کرائے جاتے ہیں مگر آپ واحد انسان جسے سٹار میکر کا لقب میڈیا اور شوبز کے لوگوں نے دیا اگر آپ انڈیا میں ہوتے اور جتنے آپ نے پاکستان میں سٹار متعارف کرائے ہیں اگر انڈیا میں کراتے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کی وہاں کیا پوزیشن ہوتی؟

جواب: وہاں میں ہوتا تو کروڑ پتی ہوتا اور ان آرٹسٹوں کے گھروں میں میری مورتیاں لگی ہوتیں یہاں کے سٹار کے گھروں میں تو لوگوں نے میری تصویریں لگانا ہی پسند نہیں کی بلکہ وہاں کے بی کلاس آرٹسٹوں اور ہدایتکاروں کی تصویریں لگائی ہیں نا یہ میرے ہیں نہ یہ پاکستان فلم انڈسٹری کے وفادار ہیں انہیں صرف اپنے بینک بیلنس کی فکر ہے۔۔۔ یہ صرف اپنے لیے کاریں کوٹھیاں خرید سکتے ہیں مگر پاکستان فلم انڈسٹری کے لیے کچھ نہیں کر سکتے مگر یہ لوگ ایک فلم ضرور فلم انڈسٹری کو بچانے کیلئے شروع کریں ان سب سے میری گزارش ہے

س: پنجاب گورنمنٹ نے غریب ٹیکنیشنوں اور غریب آرٹسٹوں کی مدد کے لئے کارڈ بنائے ہیں۔۔۔ کیا ان سب کو پنجاب گورنمنٹ پیسے دے گی؟

جواب: پنجاب گورنمنٹ پیسے دینا ضرور چاہتی ہے مگر جن کے ذریعہ وہ پیسے دے رہے ہیں یا دینا چاہتے ہیں وہ فیور ازم کے تحت پیسے ایسے لوگوں کو دے رہے ہیں جن کے حالات پہلے ہی بہت اچھے ہیں ان کے گھر بار ہیں اور ان کی اولادیں کام کر کے پیسے کما رہے ہیں مگر جن کو پیسوں کی اور گھر بار کی ضرورت ہے ان کی مدد ابھی تک نہیں کی گئی۔ پنجاب گورنمنٹ کے علم میں ہونا چاہیے جن کے پیٹ بھرے ہوں ان کی دعائیں نہیں لگتی ہیں۔۔۔ ہمیشہ دعا غریب انسان کی لگتی ہے۔۔۔ اس لیے مدد ان لوگوں کی کی جائے جو مدد کے حق دار ہیں یہ میرا پنجاب گورنمنٹ کے ہیلپ فنڈ کے لوگوں سے التماس ہے کہ ایمان دار لوگوں کے ذریعہ Payment کرائی جائے جو حق دار لوگوں تک پیسے پہنچ جائے۔۔۔ تھینک یو۔۔۔

سوال: آپ کی نظر میں پاکستان فلم انڈسٹری کے زوال کے کیا اسباب ہیں؟

جواب: ایک نہیں کئی اسباب ہیں پہلی غلطی کہ کراچی کی انڈسٹری کے لوگ لاہور آگئے ہیں اس سے کیا ہوا کہ کراچی اور لاہور فلموں کے میکرکا فلم بنانے کا مقابلہ ہوتا تھا جیسے انڈیا میں بمبئی اور مدراس کے لوگوں کا مقابلہ ہوتا ہے۔ جب کراچی کے لوگ لاہور آگئے اور دوسری طرف انڈیا کی فلمیں بھی پاکستان میں جال ایجی ٹیشن کے بعد بند ہو گئیں اور ہم نے انڈیا کی فلمیں کاپی کرنا شروع کر دیں کیونکہ ہماری انڈسٹری میں Writer زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے اس لئے انڈیا ہالی ووڈ کی انگلش فلم کو اردو میں ٹرانسلیٹ کرتا تھا اور ہم انڈیا کی اردو فلم کو Same کاپی کرتے تھے جس کی وجہ سے ہماری مڈل ایسٹ کی مارکیٹ گئی پھر ہماری اردو فلم کا بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کے ساتھ کو پروڈکشن کا سلسلہ شروع ہوا تو ہماری لاہور کی انڈسٹری کے لوگوں نے صرف پنجاب کے سرکٹ کو دیکھتے ہوئے پنجابی فلمیں زیادہ سے زیادہ بنانا شروع کر دیں کیونکہ پنجاب کے لوگ سلطان راہی، انجمن اور صائمہ جیسی صحت مند ہیروئنوں کو پسند کرتے تھے پنجابی فلموں کے زیادہ بننے سے اردو فلمیں آہستہ آہستہ بند ہو گئیں تو ہمارا کو پروڈکشن کا کام جو بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کے ساتھ ہو رہا تھا وہ بند ہو گیا اور اردو فلمیں جو پاکستان کے چاروں صوبوں میں لگتی تھیں وہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ پنجابی فلم پنجاب کیلئے اور پشتو فلمیں صوبہ سرحد کیلئے بننے لگیں اور پھر سینما کو ختم ہونے سے بچانے کیلئے انڈسٹری کے چند لوگوں نے ایک ایگریمنٹ کے تحت گیارہ فلمیں انڈیا کی منگوائیں۔ حالانکہ اپنی انڈسٹری کو بچانے کیلئے تمام انڈسٹری کے لوگ سرجوڑ کر بیٹھتے اور کوئی لائحہ عمل بناتے اور تمام فلم انڈسٹری کے لوگ سینما اونر اسٹوڈیو اونر سب مل کر 25 یا 30 فلمیں اردو شروع کرتے اور 5 یا 10 پنجابی فلمیں شروع کرتے مگر وہ فلمیں ہوتیں جو فیملی آکر سینما میں دیکھ سکتی۔ برادری ازم کی فلموں سے بہت زیادہ نقصان ہوا۔

پھر اللہ کے نام پر کئی فلمیں بنائی گئیں جیسے اللہ رکھا، اللہ خیر، اللہ دتہ، اللہ وارث، اللہ رکھی، اللہ بخش، اللہ داد، اللہ بادشاہ وغیرہ۔ ہم لوگ سمجھتے نہیں ہیں اور جو چاہتا وہ نام رکھ کر فلم بنا دیتا ہے۔ اب اللہ کے ناموں کے پوسٹر اور سٹیکر اور اخبارات میں بھی نام آیا وہ زمینوں پر گرے لوگوں کے پاؤں لگے کیا یہ بے ادبی نہیں ہوئی اللہ کی یہ وہ چیزیں ہیں جو ہم سمجھ نہیں رہے اور ہم سے انجانے میں یہ غلطیاں ہوتی رہیں اور آج تمام فلم انڈسٹری کے لوگوں کو سزا ل رہی ہے۔ اگر ہماری فلم انڈسٹری تباہی کی طرف چلی تھی تو ہم سب کو سوچنا چاہیے تھا کہ ہم سے کیا غلطی ہو رہی ہے جو ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ کسی نے سوچا ہی نہیں سب لوگ اپنے اپنے مفاد کی جنگ لڑتے تھے اور اپنے مفاد کے چکر میں ہم لوگ منافق ہو گئے اور ہمارا جو حال ہوا وہ آپ کو بھی پتہ ہے۔ میں تو صرف دعا کر سکتا ہوں کہ اللہ ہم سب کو عقل دے اور ہم اپنا منافقت والا رویہ بدل دیں۔ ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلیں ایک دوسرے کیلئے اچھا سوچیں اور ہر ادارے کے الیکشن کے ذریعہ ایسوسی ایشن بنائی جائے۔

فلموں کی کہانی پاس کرنے کیلئے اور نام رکھنے کیلئے ایک جیوری بنائی جائے جن سے ہم اچھے نام کی اور اچھی کہانیوں کی سلیکشن کر سکیں۔

سوال: آپ پاکستان کے فلم سینسر بورڈ کے بارے میں کیا کہیں گے؟

جواب: ایک تو سینسر بورڈ کا جو چیئرمین ہو وہ فلم انڈسٹری کا آدمی ہو اور ہو بھی وہ جو ایماندار۔ فلم کو سمجھتا ہو اور انصاف کرنا جانتا ہو۔

دوسرے یہ کہ جو کراچی، لاہور، اسلام آباد میں فلمیں الگ الگ سینسر کرانے کا جو سسٹم بنایا گیا ہے وہ غلط ہے اس سے آپ اپنے ملک کے لوگوں میں نفرت پیدا کر رہے ہیں اور خود ہی صوبے الگ یا صوبے نئے بنوانے کیلئے راہیں ہموار کر رہے ہیں اس لیے وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ پہلی فرصت میں سینسر بورڈ اسلام آباد کا فائنل کر دیں اور ہر فلم اسلام آباد میں ہی سینسر ہوا کرے اس سے پاکستان فلم کا پروڈیوسر بھی خوش ہو گا اور جو گورنمنٹ کے بارے میں غلط تاثر بن رہا ہے وہ ختم ہو جائے گا۔

سوال: پاکستان فلم انڈسٹری کو زوال سے نکالنے کیلئے کیا کچھ کرنا ہو گا؟

جواب: سب سے پہلے ہم سب کو ایک دوسرے کی عزت کرنا ہو گی۔ کراچی اور لاہور والے ایک دوسرے کو اپنا سمجھیں اور ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں۔

دوسرے گورنمنٹ اچھے پروڈیوسر کو لون دینے کا سلسلہ شروع کرے

تیسرے تمام اسٹوڈیو اونر، سینما اونر اور پاکستان کے بڑے بڑے گروپ اور فلم انڈسٹری کے وہ لوگ جنہوں نے پاکستانی فلموں سے پیسہ کمایا ہے وہ سب فلمیں شروع کریں جس سے فلم بننے کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو جائے۔

جدید کیمرے ساؤنڈ سسٹم کا سامان DCP بنانے کی مشین یہ سب پاکستان میں گورنمنٹ منگوائے اور گورنمنٹ کا کوئی ادارہ اسے چلائے یا اسے میڈیا سٹی کا نام دے دیا جائے اور بھٹو صاحب کے دور کے جتنے سینما گھر توڑ کر پلازہ یا شاپنگ مال بنوائے گئے انہیں عدالت کے ذریعہ نوٹس بھیجا جائے اور وہ 150 یا 200 سیٹوں والا سینما ہر حال میں بنائے اور دوسرے ملکوں کی فلمیں اور ٹی وی ڈرامے منگوانے کا سلسلہ بند کیا جائے کیونکہ ان کے ڈراموں اور فلموں سے آپ کا اپنا کلچر ختم ہو رہا ہے اور نئی نسل ان کی چیزوں کو اپنا رہی ہے اور آپ کے ڈراموں اور فلموں کو نقصان پہنچ رہا ہے اگر گورنمنٹ اچھی پلاننگ کرے اور پاکستان میں سینما اسٹوڈیو جدید تیار ہو جائیں اور فلمیں زیادہ تعداد میں بننا شروع ہو جائیں تو سب سے زیادہ ٹیکس دینے والی انڈسٹری فلم انڈسٹری کی ہو گی کیونکہ ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلمیں دنیا بھر سے پیسہ کما کر اپنے ملک میں لا رہی ہیں اس لئے ہماری فلمیں باہر سے بھی پیسہ کما کر لائے گی اور اپنے ملک میں بھی بزنس کرے گی اور گورنمنٹ کو اربوں روپے کے حساب سے فلم انڈسٹری ٹیکس دے گی اور وہ انڈسٹری جسے 68 سال سے فلم انڈسٹری کو کسی بھی حکومت نے انڈسٹری نہیں مانا صرف وعدے کیے گئے پیپر پر کہیں نہیں لکھا گیا کہ پاکستان فلم انڈسٹری ایک صنعت ہے صنعت کا درجہ دیا جا رہا ہے۔

س:جرار رضوی صاحب یہ تو آپ بتائیں پاکستان کے نمبرون ہیرو شان جو فلم بنارے ہیں انہوں نے فلم کا نام ارتھ2کیوں رکھا ہے۔

ج: دیکھیں میں شان AS A SATARاورAS A DIREETOR بہت پسند کرتا ہے مگر انہوں نے انڈیا میں بنی ہوئی فلم کا نام ارتھ2کیوں رکھا اور انڈیا کے نام کی فلم کیوں بنارہے ہیں سمجھ سے باہر ہے۔شان کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے والد ریاض شاہد صاحب کی فلموں میں سے کوئی بھی فلم بناسکتے تھے جیسے یہ امن 2، غرناطہ 2یا زرقا2بنالیتے ان فلموں میں سے کوئی ایک فلم بھی بناتے تو ریاض شاہد صاحب کی روح کو بھی تسکین ملتی۔محب الوطنی اور حب اسلام کے نام پر جو سلسلہ انکے والد نے شروع کیا تھا شان کو اس سلسلے کو ہی آگے بڑھانا چاہیے تھا ناکہ پڑوسی ملکوں کی فلموں کا سلسلہ آگے بڑھانے کا سلسلہ شروع کردیا۔

س: پاکستان میں فلم ریلیز کرنا کا جو طریقہ کار ہے اس کے بارہ میں آپ کیا کہیں گے۔

ج: مثال کے طور پرآپ نے فلم بنائی ایک لاکھ کی اب جب ریلیز کرنے آپ فلم جاتے ہیں تو سینما آپ سے 50فیصد مانگتا ہے ڈسٹیبیوٹر 15فیصد لیتا ہے اور چینل جو کہ میڈیا پارٹنر ہوتا ہے وہ کم ازکم25فیصد مانگتا ہے آپ کی فلم سپر ہٹ ہوگئی ہم یہ سمجھ لیتے ہیں جیسے2یا 3سال سے کراچی کی فلمیں سپر ہٹ جارہی ہیں آپ کی فلم کی لاگت آئی ہے ایک کروڑ اور فلم نے بزنس کیا پانچ کروڑ کا ٹھیک ہے۔ اب آپ خود حساب لگالیں سینما کا50فیصد ڈسٹیبیوٹر15فیصد اور میڈیا پارٹنر25 فیصد یہ تینوں کا بن گیا90لاکھ پرڈیوسر نے اپنی پبلسٹی کیلئے5یا10لاکھ تو لگائیں ہوں گے تو آپ اب خود بچائیں پروڈیوسر کو کیا فائدہ ہوا اگر یہ ہی حالات رہے تو کراچی کا پروڈیوسر بھی لاہور کے پروڈیوسر کی طرح بھاگ جائے گا۔ اس لیے لاہور اور کراچی کے پروڈیوسر سب مل کر پاکستان کے تمام شہروں کے سینما مالکان سے ملیں چینل اور ڈسٹیبیوٹر حضرات سے ملیں اور کوئی ایسا طریقہ کار بنایا جائے جس سے پاکستانی فلم کا پروڈیوسر زندہ رہ سکے۔ میں ایک سب کو تجویز دے رہا ہوں اگر ان سب کی سمجھ میں آجائے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ سینما اونر25فیصد لیا کرے میڈیا پارٹنر15 اور تقسیم کار10فیصد ہے تو فلم پروڈیوسر کو50فیصد بچ سکتے ہیں اور پرڈیوسر بھی زندہ رہے گا اور وہ بھاگے گا نہیں اور پاکستانی فلم اور سینما ترقی کرنا شروع کردے گا اور گورنمنٹ ایک کام یہ کرے کہ پاکستانی فلم پر پانچ سال ٹیکس معاف رکھے اور باہر سے دوسرے تمام ملکوں سے آئی ہوئی فلموں پر ٹیکس لگائیں باہر کی فلم کا ٹکٹ500 ہے تو پاکستان فلم کا ٹکٹ 250تک کا ہونا چاہیے۔

س: پنجاب گورنمنٹ نے عید سے3یا4دن پہلے الحمرا میں فلم انڈسٹری کے لوگوں میں چیک دیئے اس کے بارہ میں آپ کے کیا خیالات ہیں آپ کے ہاتھ بھی کچھ آیا۔

ج: سوری میں ان لوگوں میں شامل نہیں ہونا چاہتا جو لوگ آرٹ کلچر فنڈ کے جمع ایک کروڑ روپوں میں سے پنجاب گورنمنٹ سے لے رہے ہیں اور ان لوگوں نے چیک ایسے لئے جیسے ایوارڈ دے رہے ہوں۔ حق دار وہ لوگ ہیں جن کے گھر نہیں ہے اولاد نہیں ہے کام کاج نہیں ہے ایسے لوگوں کو گھر دیا جائے ماہانہ خرچ دیا جائے جن کے گھر ہیں اولاد کمارہی ہے دو دو بیویاں ہیں خود فلم بنارہے ہیں ان کے پاس کاریں ہیں اور اپنے دور میں بے انتہا پیسہ کمایا کہاں گیا وہ پیسہ کیوں عیاشیاں کیں کیوں انہوں نے اپنے لیے نہیں بچایا اس طرح کے لوگ اصل میں غریب فنکار اور تکنیک کارکا حق ماررہے ہیں اور یہ غریب لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے اور اس طرح سے آپ لاہور کی انڈسٹری جسے لالی ووڈ کہا جاتا ہے اس لالی ووڈ کی یہ لوگ تو ہین کررہے ہیں یہ لوگ اپنے آپ کو صحیح نہیں کررہے ہیں اس طرح کی امداد سے چند دن تو اچھے گزر جائیں گے اس کے بعد کیا ہوگا۔ ان کا ضمیرانہیں کچھ نہیں کہے گا ہمت کریں اور کام سے اتنا پیدا کریں کہ کسی گورنمنٹ سے لالی ووڈ کے لوگوں کو بھیک کے لیے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں۔ سب مل کر کوئی سسٹم بنائیں گورنمنٹ سے فلم پروجیکٹ کیلئے امداد لی جائے اپنے لیے نہیں اگر آپ اپنی فلم انڈسٹری لولی وڈ کو بچالیتے ہیں تو آپ سمجھ لیں اپنی عزت اور ضمیر سب کچھ بچالیا انڈسٹری کا میاب ہوگی تو سب کو خود بخود روز گار مل جائے گا اور کسی کو بھی ہاتھ نہیں پھیلانے پڑیں گے۔

س: جرار رضوی صاحب آپ کو اکثر لاہور کے دو تین چینل پر دیکھا ہے بابر علی اور روبی انعم اور دو چار ہوسٹ کے ساتھ پروگرام میں بیٹھے ہوئے مگر آپ کے متعارف کرائے ہوئے کئی ہیرو اور ہیروئن کراچی کے بڑے بڑے چینل پر پروگرام کرتے ہیں تو ان لوگوں نے آپ کو کبھی بھی اپنے پروگرام میں مدعو نہیں کیا اس کی کیا وجہ ہے آپ بتانا پسند کریں گے۔

ج: اصولی طور پر تو یہ سوال آپ کو ان لوگوں سے کرنا چایہے بہر حال اصل وجہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ اگر خاندانی ہوتے تو اپنے محسن کو ضرور یاد رکھتے جن دوسرے اسٹارز کو میں نے متعارف کرایا ہے یہ لوگ ان کو خوشی خوشی بلاتے ہیں۔ میڈیا مجھے اسٹار میکر کہتا ہے پھر میں خود اس باپ کا بیٹا ہوں جو خود انڈیا سے کام کرتے ہوئے پاکستان آئے ہیں چالیس سال سے کمرشل فلمیں بنارہا ہوں۔ پانچ ہزار سے زیادہ کمرشل بناچکا ہوں فلموں کی ہدایت دیتا ہوں میرا بیٹا عمار رضوی پاکستان کا بہترین اینی میٹرہے اور کمرشل فلموں کی ہدایت بھی دے رہا ہے ہماری تیسری نسل شوبز میں داخل ہوچکی ہے اور ہم کام کررہے ہیں مگر یہ ناقدرے لوگ ہم لوگوں کی قدر نہیں کرنا جانتے یہ مفاد پرست لوگ ہیں یہ صرف لوگوں سے فائدہ اٹھانا جانتے ہیں فائدہ دینا انہیں نہیں آتا اور ویسے بھی ظرف کی بات ہے کم ظرف لوگوں سے ہے ہم فائدہ کی امید کیوں رکھتے ہیں ایسے لوگوں کیلئے ایک شعر عرض ہے میرے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھر کے صنم آج بت خانے میں بھگوان بنے بیٹھے ہیں اور یہ وہ بھگوان ہیں جو کسی کو کچھ بھی دے نہیں سکتے بھگوان ان کا بھلا کرے مگر کرے گا نہیں۔

س: آپ پاکستان فلم انڈسٹری کے لئیکوئی پیغام دینا پسند کریں گے۔

ج: نیت بر مراد خدا ان کی مدد کرتا ہے جو لوگ خود اپنی مدد آپ کیمحاورے پر عمل کرتے ہیں اس لئے میری پاکستان فلم انڈسٹری کیلئے یہ ہی پیغام ہے کہ انڈسٹری کے لوگ حکومت کی طرف نہ دیکھیں اور اپنی مدد آپ کے تحت عمل کریں اور ہمیں خود ہی ہمت کر کے کام کرنا ہوگا اگر حکومت انڈسٹری کیلئے کچھ کردے تو بہت بڑی بات ہے کیونکہ حکومت فلم انڈسٹری کو صفت کا درجہ دینے کی بات کررہی ہے اگر عمل ہوجائے اور دل سے حکومت پاکستان فلم انڈسٹری کو صنعت کا درجہ دے دیا جائے اور فلم انڈسٹری ایک صنعت کی طرح قائم ہوجائے تو اس کا انڈسٹری کو بھی فائدہ پہنچے گا اور حکومت کو بھی کروڑوں کے حساب سے انکم ٹیکس ملا کر لے گا اس طرح فلم انڈسٹری اور سینما انڈسٹری دونوں کامیابی کی طرف گامزن ہوجائیں گے۔

مزید : ایڈیشن 2