اندرا گاندھی نے اپنی نااہلی کا عدالتی فیصلہ غیر موثر بنادیاتھا،چیف جسٹس اور جسٹس کھوسہ بنیادی آئینی ڈھانچے کا تصور نہیں مانتے

اندرا گاندھی نے اپنی نااہلی کا عدالتی فیصلہ غیر موثر بنادیاتھا،چیف جسٹس اور ...
اندرا گاندھی نے اپنی نااہلی کا عدالتی فیصلہ غیر موثر بنادیاتھا،چیف جسٹس اور جسٹس کھوسہ بنیادی آئینی ڈھانچے کا تصور نہیں مانتے

  

تجزیہ -:سعید چودھری :

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس میں میاں محمد نوازشریف کو صادق اور امین نہ ہونے کی بنیاد پر آئین کے آرٹیکل 62(1)ایف کے تحت 28جولائی کو نااہل قرار دیا،جس کے فوراً بعد ارکان پارلیمان کی اہلیت اور نااہلیت سے متعلق آئین کے آرٹیکلز 62اور63میں ترمیم کی بحث چل نکلی ،اب وفاقی وزیرقانون زاہد حامد نے ان آرٹیکلز میں ترمیم کے لئے مرکزی کمیٹی میں بحث کا اعلان کردیا ہے ۔تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان آرٹیکلز میںترامیم کو قبول نہیںکرے گی اور سٹرکوں پر آجائے گی ۔ماضی میںپیپلز پارٹی ان آرٹیکلز میں ترمیم پر غورکے لئے مسلم لیگ (ن) کو دعوت دیتی رہی ہے ،جماعت اسلامی نے بھی آرٹیکلز 62اور63میں ترمیم کی مخالفت کا اعلان کررکھا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمن ان آرٹیکلز کو آئین میں سے نکالنے کے مخالف ہیں تاہم وہ ان آرٹیکلز کی وضاحت کے لئے دستور میں ترمیم پر غور کرنے کے لئے تیار ہیں ۔سابق وزیرقانون اور تحریک انصاف کے راہنما بابر اعوان نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل 62اور63میں ترمیم کا اختیار ہی نہیں رکھتی ،کچھ تجزیہ نگار بھی بابر اعوان سے ملتی جلتی رائے کا اظہار کررہے ہیں ۔اس معاملہ پر سیاسی صورتحال جو بھی ہے اس سے قطع نظر اس سوال پر بحث ہوسکتی ہے کہ کیا آئین کے آرٹیکلز 62اور63دستور کے بنیادی ڈھانچہ کا حصہ ہیں ؟ کیا ان آرٹیکلز میں ترمیم کا پارلیمنٹ کو اختیار حاصل نہیں ہے ؟اوریہ کہ اس حوالے سے آئین اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے کون سی پابندیاں عائد کرتے ہیں ؟پاکستان اور بھارت کے دساتیر میں بڑی حد تک مماثلت موجود ہے ،یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عدالتوں میں آئینی معاملات پر بھارتی عدالتوں کے فیصلوں کو نہ صرف عدالتی نظیر کے طورپر پیش کیا جاتا ہے بلکہ پاکستانی عدالتیں کیس کی صورتحال کے پیش نظر انہیں عدالتی نظیر کے طور پر قبول بھی کرلیتی ہیں ۔پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے دساتیر میں بنیادی ڈھانچہ کا پارلیمنٹ کی طرف سے تعین نہیں کیا گیاتاہم اعلیٰ عدالتوں نے دونوں ممالک میں اپنے فیصلوں کے ذریعے بعض معاملات کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیتے ہوئے ان کے بارے میں ترامیم کی بابت پارلیمنٹ پر پابند ی عائد کررکھی ہے ۔بھارت میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کا سوال پہلی مرتبہ 1964ءمیں سپریم کورٹ کے جج جے آر مادھو لکر نے سجن سنگھ بنام سٹیٹ آف راجستھان کیس کے فیصلے میں اپنے اختلافی نوٹ میں اٹھایا تھا ۔بعدازاں 1973ءمیں سپریم کور ٹ نے اس بابت کیسا ونندا بھارتی کیس میں لینڈ مارک ججمنٹ کے ذریعے بھارتی آئین کے بنیادی ڈھانچے کا تعین کردیا ۔اس کیس میں 23معاملات کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیا جس میں آئین کی بالادستی ،قانون کی حکمرانی ، سیکولرازم ، پارلیمانی طرز حکومت ، علیحدگی اختیارات ،بعض آئینی حقوق، صاف شفاف الیکشن کااصول ،عدلیہ کی آزادی ، قومی یکجہتی اور فلاحی ریاست جیسے معاملات شامل تھے ۔اس کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ پارلیمنٹ کواس آئینی ڈھانچے سے متصادم دستور ی ترمیم کا اختیار حاصل نہیںہے ۔1971ءکے عام انتخابات میں رائے بریلی کے حلقہ سے اندرا گاندھی نے راج نارائن کو بھاری اکثریت سے شکست دی جسے راج نارائن نے ا لہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا اور الہ آبا د ہائی کورٹ نے سرکاری وسائل کے استعمال اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت اندرا گاندھی کو نااہل قرار دے کر ان کی جیت کا نوٹیفکیشن کالعدم کردیا۔اندرا گاندھی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرکے عبوری حکم امتناعی حاصل کرلیاجس کے بعد انہوںنے پارلیمنٹ میں کانگرس (آئی )کی بھاری اکثریت کے بل بوتے پر 1975ءمیں 39ویں آئینی ترمیم منظور کروالی جس کے تحت جو شخص بھارت کا صدر ،نائب صدر ،وزیراعظم یا لوک سبھا کا سپیکر رہا ہو ،انتخابات کے وقت اس کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال نہیں ہوگی اور وہ الیکشن لڑنے کا اہل ہوگا۔اس ترمیم کے تحت یہ بھی طے کردیا گیا کہ ان عہدوں پر منتخب ہونے والوں کے الیکشن پربھی (کسی عدالت میں )سوال نہیں اٹھایا جاسکے گا۔بھارتی سپریم کورٹ نے اندرا نہرو گاندھی بنام راج نارائن کیس میں اس آئینی ترمیم کو دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دے کر کالعدم کردیا۔بھارتی سپریم کورٹ نے قراردیا کہ 39ویں آئینی ترمیم کے تحت صدر ،نائب صدر ،وزیراعظم اور سپیکر کے انتخابات کے عدالتی جائزہ کا اختیار ختم کردیا گیا جو بنیادی آئینی ڈھانچہ کے منافی ہے ،علاوہ ازیں اس ترمیم سے صاف شفاف الیکشن سے متعلق بنیادی آئینی ڈھانچہ کی فہرست میں شامل نکتہ نمبر 17بھی غیر موثر بنا دیا گیا ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی جماعت اس 23نکاتی بنیادی آئینی ڈھانچے کے برعکس کوئی ترمیم کرنا چاہتی ہے تو اسے متعلقہ معاملے کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کرنا پڑے گا ،اگر انتخابات میں عوام اسے مینڈیٹ دے دیں تو پھر وہ بنیادی آئینی ڈھانچے میں شامل متعلقہ معاملہ پر بھی ترمیم کرسکتی ہے ۔

پاکستان میں1997ءمیں پہلی مرتبہ محمود خان اچکزئی کیس میں سپریم کورٹ نے بنیادی آئینی ڈھانچے کے تصور کو قبول کیا۔اس سے قبل بنیادی آئینی ڈھانچے کا پاکستان میں کوئی تصور موجود نہیں تھا ۔ظفر علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ نے اسلامی تشخص ،پارلیمانی نظام حکومت اور آزاد عدلیہ کو بنیادی آئینی ڈھانچہ قرار دے رکھا ہے۔فوجی عدالتوں کے کیس سمیت پاکستانی سپریم کورٹ کے ایسے متعدد فیصلے موجود ہیں جو پارلیمان کو آئین کے بنیادی ڈھانچے میں ترمیم کی اجازت نہیں دیتے۔

آئین کے آرٹیکل238کے تحت پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرسکتی ہے جبکہ آرٹیکل 239(6)میں اس بات کی وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ آئین میں ترمیم کے حوالے سے پارلیمنٹ کے اختیار پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے ،دوسرے لفظوں میں پاکستانی پارلیمنٹ کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کی مجاز ہے۔1997ءسے قبل پاکستانی عدالتیں آرٹیکل 238اور 239(6)کے تحت پارلیمنٹ کے آئین میں ترمیم کے کلی اختیار کو تسلیم کرتی چلی آرہی تھیں ۔سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور سینئر ترین جج مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ قرار دے چکے ہیں کہ پارلیمنٹ آئین میں ہر قسم کی ترمیم کرنے کی مجاز ہے ۔5اگست 2015ءکو سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام سمیت 18ویں اور 21ویں آئینی ترامیم کے خلاف درخوستوں پر ایک تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔عدالت عظمیٰ کے17میں سے13ججوں نے اکثریت رائے کے ساتھ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے نظریہ کو قبول کیا جبکہ اس وقت کے چیف جسٹس ناصر الملک ، جسٹس میاں ثاقب نثار ، جسٹس آصف سعید خان کھوسہ اورجسٹس اقبال حمید الرحمن نے آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے تصور کو قبول نہیں کیا تھااور قراردیا تھا کہ پارلیمنٹ آئین میں جو چاہے ترمیم کرسکتی ہے اور عدالت کسی آئینی ترمیم کا جائزہ لینے کی مجاز نہیں ہے ۔

فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستیں 17میں سے 11ججوں نے مسترد کی تھیں تاہم 4کے سوا دیگرتمام 13ججوں نے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے تصور کو تسلیم کیا تھا،جس کا مطلب ہے کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم کوئی آئینی ترمیم نہیں کی جاسکتی اور کسی بھی آئینی ترمیم کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔اس کیس میں مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید کے تحریر کئے گئے فیصلے سے سپریم کورٹ کے 7دیگر ججوں نے اتفاق کیا ،انہوں نے بنیادی آئینی ڈھانچے کو تو مانا تاہم مذکورہ ترامیم کو اس سے متصادم قرار دینے سے انکارکیا۔مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید کے تحریری فیصلے کے اختتامی پیراگراف نمبر180میں پاکستانی آئین کے جو نمایاں خدوخال یا بنیادی ڈھانچہ بیان کیا گیا ہے وہ جمہوریت ،پارلیمانی طرز حکومت اور عدلیہ کی آزادی پرمشتمل ہے۔مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید سمیت 8ججوںنے اپنے تحریری فیصلے کے پیراگراف نمبر60میں محمود خان اچکزئی کیس ،وکلاءمحاذ کیس ، ظفر علی شاہ کیس اور پاکستان لائیرز فورم کیس کے حوالے سے قرار دیا ہے کہ ان کیسوں میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق جمہوریت ، وفاقی نظام ، اسلامی شقوں کے ساتھ پارلیمانی طرز حکومت ، عدلیہ کی آزادی ،بنیادی حقوق ،مساوات،انصاف اور فیئر پلے آئین کے بنیادی خدوخال ہیں۔ان ججوں کے فیصلے کے پیراگراف نمبر65میں قرار داد مقاصد کا بھی ذکر کیا ہے جوآرٹیکل 2(اے)کے تحت اب آئین کا حصہ ہے۔مسٹر جسٹس جواد ایس خواجہ نے فوجی عدالتوں کے کیس میں قرار داد مقاصد کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیا ہے جیسا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی آئین کی تمہید سے بنیادی ڈھانچہ اخذ کیا ہے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے قرار دیا ہے کہ کوئی آئینی ترمیم پاکستان کا اسلامی تشخص ختم نہیں کرسکتی اور نہ ہی کوئی ایسی آئینی ترمیم عمل میں لائی جاسکتی ہے جو اسلام کے منافی ہویا پھر پاکستان کا اسلامی تصور ختم کرتی ہو۔اس کیس میں مسٹر جسٹس اعجاز افضل خان اور مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری نے اپنے تحریری فیصلے میں نہ صرف اسلام کو بنیادی ڈھانچے میں پہلے نمبر پر رکھا بلکہ قائد اعظم محمد علی جناح کی 11اگست 1947ءکی اس تقریر پر بھی سیر حاصل بحث کی ہے جس میں قائد اعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو پورے حقوق حاصل ہوں گے۔ان دونوںفاضل ججوں نے قرار دیا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا اور اسلام ہی اس کے آئینی ڈھانچہ کی بنیاد ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح کے مذکورہ خطاب سے یہ بات قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتی کہ وہ ایک سیکولر سٹیٹ چاہتے تھے۔مسٹر جسٹس دوست محمد خان اور مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی اپنے فیصلوں میں اسلام کو آئین کے بنیادی ڈھانچہ میں شامل کیا ہے۔دوسرے لفظوں میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں آئین کے بنیادی ڈھانچے میں جمہوریت ، وفاقی نظام ، اسلامی شقوں کے ساتھ پارلیمانی طرز حکومت ، عدلیہ کی آزادی ،بنیادی حقوق ،مساوات،انصاف ، فیئر پلے آئین اورقرارد مقاصد شامل ہیں۔اس بحث سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آئین کے آرٹیکلز62اور63کے وہ ذیلی آرٹیکلز جو آئین کے مذکورہ بنیادی ڈھانچے کے تابع ہیں ان میں پارلیمنٹ ترمیم نہیں کرسکتی ۔آئین کے آرٹیکل63میں اسلامی تشخص کے حوالے سے کوئی شق شامل نہیں ہے تاہم آئین کے آرٹیکل62(1)ڈی میں رکن پارلیمنٹ کی اہلیت کے لئے شرط عائد کی گئی ہے کہ وہ ایسے شخص کے طور پر موسوم نا کیا جاتا ہو جواسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرتا ہوجبکہ 62(1)ای میں کہا گیا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتاہو اور اسلام کے مقرر کردہ لازمی فرائض پر عمل کرنے اور کبیرہ گناہوں سے بچنے والا ہو۔عدالت کی طرف سے قرار دیئے گئے آئین کے بنیادی ڈھانچے کا بغور جائزہ لیا جائے تو نظریہ پاکستان کے مخالف کو نااہل قرار دینے سے متعلق آرٹیکل 62(1)جی میں بھی ترمیم نہیں کی جاسکتی ۔جہاں تک آئین کے آرٹیکل 62(1)ایف کے تحت رکن پارلیمنٹ کی نااہلیت کا سوال ہے اس میں ترمیم سپریم کورٹ کی طرف سے قرار دیئے گئے بنیادی آئینی ڈھانچے سے بادی النظر میں متصادم نہیں ہے ۔اگرمزید احتیاط مقصود ہو تو اس آرٹیکل میں صادق اور امین کی شرط کو برقرار رکھتے ہوئے بھی ایسی ترمیم عمل میں لائی جاسکتی ہے جس سے سابق وزیراعظم سمیت مختلف سیاستدانوں کی نااہلی سے متعلق عدالتی فیصلے غیر موثر ہوجائیں گے۔جیسا کہ 2010ءمیں( 18ویں آئینی ترمیم کے تحت )آئین کے آرٹیکل62،63اور63(اے)میں متعدد ترامیم کی گئی تھیں۔ان ترامیم کو کسی عدالت میں چیلنج کیا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالت نے آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دیا ۔علاوہ ازیں یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ جس آئینی آرٹیکل کو سپریم کورٹ یا دیگر اعلیٰ عدالتیں جائز قرار دے چکی ہوں انہیں منسوخ یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔مختلف مقدمات میں سپریم کورٹ نے صدر کے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اختیار سے متعلق آئین کے آرٹیکل 58(2)بی کو "سیفٹی والو "قراردیا تھا اس کے باوجود پارلیمنٹ نے اس آرٹیکل کو منسوخ کردیا تھا۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ کواختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے سابقہ فیصلوں کو نظر انداز کردے اور زیرسماعت مقدمے کا حالات وواقعات کی روشنی میں ایسا فیصلہ جاری کردے جو ماضی کے فیصلوں سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار سمیت سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ فوجی عدالتوں کے کیس میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کے تصور کو قبول کرنے سے انکار کرچکے ہیں اور قرار دے چکے ہیں کہ پارلیمنٹ کو ہر قسم کی آئینی ترمیم کا اختیار حاصل ہے ۔علاوہ ازیں اگر مسلم لیگ (ن) اپنے انتخابی منشور میں آرٹیکلز 62اور63میں ترمیم کی تجویز شامل کرلے اورپھر وہ آئندہ عام انتخابات میں اکثریت بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے تو پھر وہ اپنے منشور کے مطابق آئین میں ترمیم کرنے میں آزاد ہوگی جیسا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سیاسی جماعت سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے صدارتی نظام کے نفاذکو اپنے منشور کا حصہ بنارکھا ہے جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں پارلیمانی طرز حکومت کو بنیادی آئینی ڈھانچے میں شامل کیا گیا ہے ،اس کا مطلب ہے اگر صدارتی نظام کے نعرے پر کوئی سیاسی جماعت عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ اس بابت آئین میں ترمیم کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔

مزید : تجزیہ