حساس معاشرتی موضوع پر بنائی جانے والی ٹیلی فلم ’’لاج‘‘

حساس معاشرتی موضوع پر بنائی جانے والی ٹیلی فلم ’’لاج‘‘

حساس معاشرتی موضوع پر بنائی جانے والی ٹیلی فلم ’’لاج‘‘مکمل ہوچکی ہے اور کل نجی چینل سے آن ائیر ہوگی۔اس میگا پراجیکٹ کی خاص بات کرداروں کی مناسبت سے فنکاروں کا انتخاب ہے ۔’’لاج‘‘کے نمایاں فنکاروں میں عرفان کھوسٹ، نیلم منیر،عمران اشرف، روحی خان ناجیہ بیگ،سمیر خان ،ضیاء خان،رضیہ ملک،مہرین،مہک علی ،اسدا ور دیگر شامل ہیں۔اس پراجیکٹ کے پروڈیوسرعرفان گھانچی اور ڈائریکٹر ظہیرالدین ہیں۔اس میگا پراجیکٹ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر انور عزیز،ڈائریکٹر آف فوٹو گرافی شہزاد،لائن پروڈیوسر زاہد،رائٹر کرن شاہ اور پراجیکٹ ہیڈ ذیشان لیاقت ہیں۔ظہیرالدین نے ’’پاکستان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے ٹیلی فلم ’’لاج‘‘ کے ایک ایک سین پر خصوصی محنت کی ہے ۔تمام فنکاروں نے دوران ریکارڈنگ میرے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے جس کے لئے ان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔عمران اشرف نے کہا کہ ’’لاج‘‘میں میرا رول منفرد اور روائتی ڈگر سے ہٹ کر ہے ۔ اس کی کہانی کیا کیا موڑ لیتی ہے یہ تو ’’لاج‘‘دیکھنے کے بعد ہی معلوم ہوگا۔اس ٹیلی فلم میں میرے رول کے مختلف شیڈز ہیں۔یہ رول پاور فل ہونے کے ساتھ ساتھ پرفارمنس سے بھرپور ہے۔میں ہمیشہ سے ان پراجیکٹس میں اداکاری کو ترجیح دیتی ہوں جن میں میرا کردار پاور فل ہو۔میں نے اپنے کیرئیر کے دوران بہت کم ایسے رول ادا کئے ہیں۔نیلم منیرنے کہا کہ اس پراجیکٹ میں کئی اور نامور فنکار اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔تمام فنکاروں کی فنکارانہ صلاحیتوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے دوران ریکارڈنگ فنکاروں نے کئی جذباتی سین اس خوبصورتی سے کئے کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔عرفان کھوسٹ نے کہا کہ اپنے ابتدائی دور سے لیکر اب تک میں نے ہمیشہ جنون کے ساتھ اداکاری کی ہے اور جب میں اداکاری کر رہا ہوتا ہوں تو مجھے اپنے ارد گرد کے ماحول کابالکل احساس نہیں ہوتا مگر آج نئے اداکاراس طرح کام نہیں کرتے جس طرح میں نے اور میرے ساتھی فنکاروں نے کیا ہے۔ ’’لاج‘‘میرے کیرئیر کا یادگار پراجیکٹ ہوگا۔عمران اشرف نے کہا کہ نے کہا کہ کامیابی کے لئے محنت اور لگن بہت ضروری ہے اس کے بغیر ترقی اور کامیابی ممکن نہیں ہے ۔ضیاء خان نے کہا ہے کہ میں صرف منتخب ڈراموں میں اداکاری کر رہا ہوں ۔جب تک میرے پرستار مجھے سکرین پر دیکھنا چاہیں گے میں اداکاری کرتا رہوں گا‘ کام کے ساتھ میری محبت جنون کی حد تک ہے‘ اپنے ابتدائی دور سے لیکر اب تک میں نے ہمیشہ جنون کے ساتھ اداکاری کی ہے اور جب میں اداکاری کر رہا ہوتا ہوں تو مجھے اپنے ارد گرد کے ماحول کابالکل احساس نہیں ہوتا مگر آج نئے اداکارہ اس طرح کام نہیں کرتے جس طرح میں نے اور میرے ساتھی فنکاروں نے کیا ہے۔عمران اشرف نے کہا کہ ’’لاج‘‘میرے کیرئیر کا یادگار ڈرامہ ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میرے چاہنے والے میرے کیرئیر کے آغازسے لے کر آج تک میری پرفارمنس کو پسند کرتے چلے آ رہے ہیں اور میری کوشش بھی یہی رہی ہے کہ میں بہتر سے بہتر کام کر سکوں ۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ذاتی طور پر سنجیدہ کردار پسند ہیں ۔ ناجیہ بیگ نے کہا کہ ہمیں آج کی نوجوان نسل میں والدین اور بزرگوں کی اہمیت اجاگر کرنے والے ڈرامے پیش کرنے چاہئیں ۔میں سمجھتی ہوں کہ ایسے موضوعات پر مزید کام ہونا چاہئے۔ نوجوان نسل کا بہترین کام کرنا ہم سب کے لئے قابل فخر ہے۔رضیہ ملک نے کہا کہ ہمارے ٹی وی ڈرامے کل بھی غیر ملکی ڈراموں سے اچھے تھے اور آج اور بھی بہتر ہیں۔بہت دکھ ہوتا ہے جب ہمارے اپنے بہت سے لوگ فخریہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ٹی وی ڈرامے نہیں دیکھتے۔ ہمیں اپنے کانام اجاگر کرنے کیلئے اپنے ملک اور ملک کی چیزوں کو اپنانا چاہیے۔اس جیسے پراجیکٹ روز روز نہیں بنتے۔ڈائریکٹرظہیرالدین سمیت تمام ٹیم نے اس پراجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لئے دن رات محنت کی ہے۔

مزید : ایڈیشن 2