ہم جیالوں کی لڑا لڑ رہے ہیں، زرداری نے پیپلز پارٹی کو سندھ کے چند اضلاع تک محدود کر دیا: ناہید خان، صفدر عباسی

ہم جیالوں کی لڑا لڑ رہے ہیں، زرداری نے پیپلز پارٹی کو سندھ کے چند اضلاع تک ...
ہم جیالوں کی لڑا لڑ رہے ہیں، زرداری نے پیپلز پارٹی کو سندھ کے چند اضلاع تک محدود کر دیا: ناہید خان، صفدر عباسی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(شہزاد ملک ) پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کے سر براہ ڈاکٹر صفدر عباسی اور ناہید خان نے کہا ہے کہ اصل پیپلز پارٹی ہماری پارٹی ہے ہماری اس حوالے سے سپریم کورٹ میں رٹ کی سماعت بھی چل رہی ہے جب تک اس کا کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک پی پی پی جس کا چیئرمین انہوں نے اب بلاول کو بنایا ہے وہ متنازعہ ہے ہماری آصف علی زرداری کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے ہم تو پیپلز پارٹی کے جیالوں کی لڑائی لڑ رہے ہیں آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کو ایک ہزار سے بھی کم ووٹ لینے والی پارٹی بنا دیا ہے ان کی پالیسوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی تباہ ہوئی ہم نے لاہور کے نظریاتی ورکرز اور بالخصوص دوسری جماعتوں کے بھی باشعور و باضمیر کارکنوں اور عام ووٹرز کو جگانے کیلئے ساجدہ میر جیسی نظریاتی سیاسی کارکن کو این اے 120کے ضمنی الیکشن میں بطور امیدوار کھڑا کیا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ساجدہ میر اچھے ووٹ حاصل کریں گی لاہور نہ تو (ن) لیگ کی میراث ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی کی ۔ لاہور کبھی پیپلز پارٹی کا قلعہ ہوا کرتا تھا لیکن آصف علی زرداری کی وجہ سے لاہور تو دور اب سندھ کے بھی چند اضلاع تک پیپلز پارٹی محدود ہو کررہ گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہو ں نے گزشتہ روز ’’پاکستان ‘‘کیساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ناہید خان نے کہا کہ جس وقت آصف علی زرادری ملک کے صدر تھے تو اس وقت انہیں لاہور ہائی کورٹ نے پارٹی سر براہ یا پھر ملک کے سر براہ میں سے کسی ایک عہدے کو اپنے پاس رکھنے کا حکم دیا تھا تو اس وقت انہوں نے پی پی پی کو ایک لمیٹڈکمپنی قرار دیکر چھوڑ دیا تھا جس پر میں نے اس پی پی پی کی رجسٹریشن اپنے نام کروانے کیلئے کیس کردیا جو ابھی تک بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور جب تک اس کا کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا تو تب تک یہ پی پی پی والی پارٹی متنازعہ ہے ۔انہوں نے ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی وجہ سے ملکی مسائل بڑھے ہیں ملک کا ستر فیصد حصہ غریب آبادی پر مشتمل ہے لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بھی ملکی مسائل بڑھ رہے ہیں اور ملک کی اکانومی بھی تباہ ہو رہی ہے حکمران خود تو امیر ہو رہے ہیں لیکن غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے حکمرانوں نے مک مکا کی سیاست شروع کررکھی ہے انکی مفادات کی جنگ میں عوام پس رہے ہیں ۔ڈاکٹر صفدر عباسی نے کہا کہ آصف علی زرداری یہ بتائیں کہ وہ کس منہ کے ساتھ لاہور کے بلاول ہاؤس میں بیٹھ کر روز این اے 120کی میٹنگیں کررہے ہیں اور عوام سے ووٹ لینے کی بھی اپیل کررہے ہیں اس سے پہلے تو کبھی انہیں لاہور میں الیکشن لڑنے کا خیال نہیں آیا تھا لیکن آج چونکہ ہم نے ساجدہ میر کو یہاں سے الیکشن لڑوانے کا فیصلہ کیا ہے تو وہ بھی لاہور آکر بیٹھ گئے ہیں انہوں نے تو لاہور میں پیپلز پارٹی کو ایک ہزار سے بھی کم ووٹ لینے والی جماعت بنا کر رکھ دیا ہے وہ اس بات کو یاد رکھیں کہ ان کی پارٹی پارلیمنٹرین ہے پیپلز پارٹی نہیں کیونکہ جب تک اس کا عدالت سے کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا تو ان کی ٹکٹ اسی نام سے جائے گی میری جماعت کی امیدوار ساجدہ میر کو الیکشن کمیشن نے (وکٹری) کا نشان دیا ہے اور انشااللہ یہی ہماری جیت بنے گا مجھے امید ہے کہ ہم نے جن جیالوں اور ورکرز کی جنگ شروع کی ہے وہ ہمارا ضرور ساتھ دیں گے اور صرف پیپلز پارٹی کے نظریاتی جیالے ہی نہیں بلکہ دوسری جماعتوں کے باشعور عوام بھی ہمارا بھرپور ساتھ دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم بلدیاتی الیکشن کے وقت پنجاب میں حصہ نہیں لے سکے تھے لیکن ہم نے لاڑکانہ میں بلدیاتی الیکشن لڑا تھا اور وہاں پر ہم دوسری پوزیشن پر آئے تھے جبکہ ذوالفقار مرزا کے جو لوگ بدین سے آزاد جیتے تھے بعد میں میری دعوت پر وہ بھی ہماری جماعت میں شامل ہو گئے تھے اب ہم نے یہاں سے بھی ساجدہ میر کی شکل میں ضمنی الیکشن میں حصہ لیا ہے اور ہم اس کی خود انتخابی مہم بھی چلا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ساجدہ میر کے مقابلے میں ایک طرف ایک بڑے آدمی کی بیگم ہے تو دوسری طرف ایک بڑے گھر کی بہو ہے لیکن ساجدہ میر ان دونوں سے سیاسی قد کاٹھ سیاسی جدوجہد میں بڑی ہے کہ جس نے اوائل عمری سے ہی ایم آر ڈی کی موومنٹ سے لیکر ہر مارشل لاء کے دور کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اب یہ اس حلقہ کے باشعور ووٹرز کا بھی امتحان ہے کہ وہ ان بیگمات میں سے کسی کو منتخب کرتے ہیں یا پھر ایک نظریاتی سیاسی ورکرز کو منتخب کرتے ہیں ہم نے اپنی امیدوار میدان میں اتار کر ووٹرز اور عام عوام کو چوائس دیدی ہے۔

مزید : صفحہ آخر