خیبر پختونخوا کی پولیس ناکارہ ، پرچہ کاٹنے میں اول۔ تفتیش بالکل صفر ہے: سپریم کورٹ

خیبر پختونخوا کی پولیس ناکارہ ، پرچہ کاٹنے میں اول۔ تفتیش بالکل صفر ہے: ...

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کے پی کے پولیس ناکارہ ہے،کیاپولیس کا کام صرف پرچہ کاٹنا ہے، پرچہ کاٹ لیا جبکہ تفتیش بالکل زیرو ہے، یہ ریمارکس گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اغواء کار ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران دیئے ۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں اغواء کے ملزم خالد کی درخواست ضمانت پر سما عت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ملزم کی ضمانت منظورکرلی ، ملزم خالد پر پشاور سے باسط نامی نوجوان کے اغواکاالزام ہے، دوران سماعت مغوی کے والد نے عدالت کو بتایا میں نے ملزم کو معاف کردیا ہے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا آپ نے معاف کیوں کیا،کیا جھوٹا کیس فائل کیاتھا؟ اس پر مغوی کے والد نے کہا جرگے نے مجھے ضمانت دی ہے،جس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا دیکھ رہے ہیں آجکل جرگوں میں کیامعاملات ہوتے ہیں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہم جرگہ کونہیں مانتے آپ اپنی بات کریں، پراسیکیوشن اپناکام کیوں نہیں کرتی؟ جھو ٹا کیس کرنے پربھی سزاہوسکتی ہے، اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کاحکم دیاہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کے پی پولیس کی کارکردگی سے متعلق ر یما رکس دیتے ہوئے کہا کے پی کے پولیس ناکارہ لگتی ہے،کیاپولیس کا کام صرف پرچہ کاٹنا ہے،پرچہ کاٹ لیا جبکہ تفتیش بالکل زیرو ہے، واضح رہے مغوی باسط اغواء کے 2سال بعد چارسدہ ہسپتال سے بازیاب ہوا تھا۔

مزید : صفحہ آخر