امریکہ پاکستان پر دباؤ بڑھا کر اپنے خطرناک عزائم کی تکمیل چاہتا ہے: ماہرین خارجہ امور

امریکہ پاکستان پر دباؤ بڑھا کر اپنے خطرناک عزائم کی تکمیل چاہتا ہے: ماہرین ...

لاہور(جاوید اقبال،عدیل شجاع) مختلف خارجہ امور کے ماہرین نے کہاہے کہ جنوبی ایشیاء کے لیے امریکہ کی نئی پالیسی سے صاف ظاہر ہو گیا ہے کہ یہ امریکہ ،اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے جو پاکستان کے خلاف نئے محاذ کھولنا چاہتے ہیں اور اس پالیسی کی آڑ میں امریکہ پاکستان پر دباؤ بڑھا کر اپنے خطرناک قسم کے عزائم کی تکمیل چاہتا ہے۔دوسری طرف افغانستان میں اپنی ناکام جنگ کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے اور خطے میں بھارت کی تھانیداری کے تانے بانے بن رہا ہے۔اس کے مقا بلے میں پاکستان کی قیادت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی بجائے جرات کا ہتھیار اٹھا ئے اس امر کا اظہار انہوں نے پاکستان موبائل فورم میں کیا۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب نے کہا اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اپنی خود مختاری و ملکی سالمیت اقوام عالم میں ثابت کرنا ہو گی اور امریکہ کی اس پالیسی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جانا چاہیے اور ان پر واضح کرنا چاہیے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی گئی پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے ۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت امریکہ سے دو ٹوک الفاظ میں بات کرے کہ قربانیاں ہم دیں اور امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم لڑیں اور وہ خطے میں بھارتی تھانیداری چاہتا ہے جو ہمیں قبول نہیں ہے۔ہم ایک خود مختار اور ایک زندہ قوم ہیں ہمیں اس سے کسی قسم کی کوئی امداد نہیں چاہیے ہماری مسلح افواج اپنے ملک کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اس وقت ضرورت ااس امر کی ہے کہ امریکہ کو جواب دینے کے لیے حکومت اور ملٹری قیادت کو ایک پیج پر آ جانا چاہیے۔اس حوالے سے مزید گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خارجہ اکرم ذکی نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کی طرف سے سخت جواب جانا چاہیے چونکہ وہ افغانستان میں ہار چکے ہیں اور وہ ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتے ہیں امریکہ کے ان عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے پاکستان کو فوری طور پر اپنے دوست ممالک کی عالمی کانفرنس اسلام آباد میں طلب کرنی چاہیے جس میں تمام دوست ممالک کے سربراہان اور ان کے وزرائے خارجہ کو مدعو کرنا چاہیے اور امریکہ کا دہشت گردی میں اصل چہرہ اقوام عالم کے سامنے لانا چاہیے جس کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذوں کو گرم کرنا چاہیے اور پوری دنیا میں کانفرنسیں منعقد کرانی چاہیں جس میں پاکستانی امور خارجہ کے ماہرین اور ہر ملک میں موجود پاکستان کے سفارت خانے اقوام عالم کو بتائیں کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ پاکستان لڑ رہا ہے مگر خطے میں امریکہ بھارت کی ٹھیکیداری قائم کرانے کے لیے نت نئی پالیسی لا رہا ہے جس سے پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر