انتظامیہ ’’نذرانہ‘‘ وصول کرنے میں مصروف، لاہور کی مویشی منڈیوں میں سہولیات ناپید

انتظامیہ ’’نذرانہ‘‘ وصول کرنے میں مصروف، لاہور کی مویشی منڈیوں میں ...

لاہور(نمائندہ پاکستان)لاہور کی مویشی منڈیوں میں سہولیات ناپید ہو گئیں ،خریدار اور بیوپاری دونوں انتظامیہ کے ہاتھوں پریشان ہو گئے ہیں،شاہ پور،عثمان غنی روڈ اور سگیاں میں ضلعی انتظامیہ سہولیات دینے میں ناکام ہو گئی،شاہ پور کانجراں اور عثمان غنی روڈ پر لگنے والی بکر منڈیوں میں بیوپاریوں سمیت خریداروں کی لوڈر گاڑیوں سے انتظامیہ’’نذرانہ‘‘ وصول کر نے میں مصروف ہو گئی ہے۔شہر بھر میں لگنے والی مویشی منڈیاں ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی سے بیوپاریوں کے ساتھ ساتھ خریداروں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن گئیں۔داتا گنج بخش ٹاؤن کی حدود میں لگنے والی مویشی منڈی سگیاں جبکہ راوی ٹاؤن کی حدود میں لگنے والی مویشی منڈی عثمان غنی روڈ اور اقبال ٹاؤن کی حدود میں لگنے والی مویشی منڈی شاہ پور کانجراں میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے تعینات عملہ منڈی میں بیوپاریوں کے ساتھ ساتھ آنے والے خریداروں کی لوڈر گاڑیوں کی انٹری کا 200 سے لیکر 1500 روپیہ وصول کرنے لگا ہے۔ منڈی میں آنے والے صوبہ بھر کے دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے بیوپاریوں کا کوئی پرسان حال نہیں نہ تو ابھی تک انتظامیہ کی جانب سے صحیح معنوں میں بیوپاریوں کے لیے قناتوں کا انتظام کیا گیا ہے نہ ہی صاف پینے کے پانی کا کوئی خاطر خواہ انتظامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ان مویشی منڈیوں میں انتظامیہ کی عدم توجہی کے خلاف بیوپاری سراپا احتجاج ہیں۔ ان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ منڈی میں نہ تو پانی کا کوئی مناسب انتظام ہے اور نہ ہی جانوروں کے لیے گرمی اور حبس کے موسم میں ابھی تک کوئی شامیانوں کی چھت ہے جس کی وجہ سے منڈیوں میں صوبہ بھر سے آئے ہزاروں جانور دھوپ میں جلنے پر مجبور ہیں۔ بعض مقامات پر بیوپاریوں کی ٹھیکیداروں سے سہولیات فراہم نہ کرنے پر جھگڑے کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ انہیں انتظامیہ کی جانب سے شامیانے اور دیگر سامان مہیا نہیں کیا جا رہا۔ ان تینوں منڈیوں میں ہزاروں جانوروں کے لیے نلکے بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ۔یاد رہے کہ مویشی منڈیوں کے انتظامات کے ضمن میں میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی جانب سے خطیر رقم مختص کی گئی ہے مگر منڈیوں میں سہولیات کے فقدان سے اس رقم کا مصرف کہیں نظر نہیں آ رہا۔

مزید : صفحہ آخر