امریکی صدر کی دھمکیاں پاکستان کیخلاف کھلا اعلان جنگ ہے: دفاع پاکستان کونسل

امریکی صدر کی دھمکیاں پاکستان کیخلاف کھلا اعلان جنگ ہے: دفاع پاکستان کونسل

اسلام آباد(این این آئی)دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہاکہ امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیاں وطن عزیز پاکستان کی سلامتی و خودمختاری پر حملہ اورکھلا اعلان جنگ ہے۔حکومت پاکستان مصلحت پسندی اختیار کرنے کی بجائے توہین آمیز رویہ کا منہ توڑ جواب دے۔امریکہ کی طرف سے جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان خطہ میں جنگ کی آگ بھڑکانے کی خوفناک سازش ہے۔پوری پاکستانی قوم کسی قسم کی جارحیت کے مقابلہ کیلئے افواج پاکستان کے ساتھ ہے اور ملکی دفاع کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ دفاع پاکستان کونسل جمعہ کو ملک گیر سطح پر یوم احتجاج منائے گی اور چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نماز جمعہ کے بعد زبردست احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے ، ریلیاں نکالی جائیں گی اور امریکی دھمکیوں کیخلاف رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے ملک گیر سطح پر بھرپور مہم چلائی جائے گی۔امریکہ ایٹمی پاکستان کو اپنی کالونی نہ سمجھے۔ٹرمپ کی دھمکیوں کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جائے گا۔چین کی طرف سے پاکستان کی دو ٹوک حمایت کا اعلان خوش آئند ہے۔ حکومت چین، روس اور برادر اسلامی ملکوں کے ساتھ مل کر مضبوط دفاعی پالیسیاں ترتیب دے۔ان خیالات کا اظہار دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع دفاع پاکستان کونسل کے قائدین پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، اعجاز الحق، سید ظفر علی شاہ، مولانا فضل الرحمن خلیل،سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا امیر حمزہ،اجمل بلوچ ،طاہر رشید تنولی اور عامر شہزاد کے علاوہ حافظ طلحہ سعید، مولانا یوسف شاہ، یحییٰ مجاہدودیگر بھی موجود تھے۔قبل ازیں دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں اجلاس بھی ہوا جس میں متفقہ طور پر چودہ نکاتی اعلامیہ منظور کیا گیا جسے پریس کانفرنس کے دوران مولانا سمیع الحق نے پڑھ کر سنایا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے پاکستان کو اربوں ڈالر دینے کی باتیں غیور پاکستانی قوم کی توہین ہیں۔افواج پاکستان اور عوام نے پیسوں کیلئے نہیں ملکی دفاع کیلئے قربانیاں پیش کی ہیں۔ حکمران امریکی امداد لینے سے انکار کریں اور واضح پیغام دیں کہ پاکستان امریکی کالونی نہیں ایک آزاد خودمختار ایٹمی ملک ہے۔ کسی قسم کی امریکی ڈکٹیشن کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ امریکی الزام کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے امریکی جنگ میں 100ارب ڈالر سے زائد کانقصان اٹھایا ہے۔چین کی طرف سے پاکستان کی حمایت پر پوری پاکستانی قوم دوست ملک کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔امریکہ پاکستان اور افغانستان کو باہم لڑا کر دونوں برادر اسلامی ملکوں کے عوام میں پائے جانے والے بھائی چارے کے رشتے ختم کرنا چاہتا ہے۔ مزید فوج بھیج کر بھی امریکہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔افغان عوام اپنی سرزمین پر امریکی قبضہ کسی صورت برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔امریکہ پاکستان نہیں بھارت کا اتحادی ہے۔ افغانستان میں بھارتی فوج اور ایجنسیوں کو اڈے فراہم کر کے ملک میں دہشت گردی اور فتنہ و فساد پھیلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔امریکہ کی بھارت کو خطہ کا تھانیدار بنانے کی کوششوں کی ہر سطح پرمزاحمت کی جائے گی۔بھارت، امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کیخلاف پراکسی وار میں مصروف ہیں۔ افغانستان میں قونصل خانوں کے نام پر بھارتی دہشت گردی کے اڈے بند کروائے جائیں۔ کلبھوشن جیسے دہشت گردوں کو فی الفور پھانسی دی جائے اور وطن عزیز پاکستان سے بیرونی ایجنسیوں کی مداخلت ختم کی جائے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 80ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود پاکستان کیخلاف الزامات حکومت کی سفارتی ناکامی ہے۔ وزارت خارجہ کے ڈیسک اورسفارتی محاذ کو مضبوط بنایا جائے۔ حکومت پاکستان نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ کے اتحاد سے باہر نکلے اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دی جائیں۔سیاسی و مذہبی جماعتوں کو متحد ہو کر حکومت پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہیے کہ وہ امریکی صدر کی دھمکیوں پر خاموشی اختیارکرنے کی بجائے دنیا کے سامنے پاکستان کیخلاف سازشوں کو کھل کر واضح کرے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کی کوششوں کے حوالہ سے28اگست کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس ہو گی جس میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں شرکت کریں گی۔

مزید : صفحہ آخر