نئی پالیسی کے آفٹر شارکس ، امریکہ کی پاکستان کو نان نیٹو اتحاد سے خارج ، مراعات بند کرنے کی بھی دھمکی

نئی پالیسی کے آفٹر شارکس ، امریکہ کی پاکستان کو نان نیٹو اتحاد سے خارج ، ...

 واشنگٹن،بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) امریکہ نے صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے اجراء کے دوسرے روز بھی پاکستان کو آڑ ے ہاتھوں لیا ، نان نیٹو اتحاد سے خارج اور امریکی مراعات ختم کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب میں امر یکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے پاکستان کو نیٹو اتحاد سے باہر پاکستان کو خصوصی اتحادی کا درجہ حاصل ہونے اور اربوں ڈالر کی فوجی امداد حا صل کرنے کے بارے میں بتایا کہ ان معاملات کو میز پر بات چیت کیلئے لایا جا سکتا ہے اگر حقیقت میں پاکستان اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا یا ان متعدد دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کی حکمت عملی کو تبدیل نہیں کرتا جنہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں، پاکستان کے مفاد میں ہے کہ یہ اقدامات کرے۔ ریکس ٹیلرسن نے پاکستان پر افغان طالبان کی مبینہ حمایت پر مزید دبا بڑھاتے ہوئے کہا اگر حکومت اپنے رویے میں تبدیلی لانے میں ناکام رہتی ہے تو امریکی مراعات کھو سکتی ہے۔ افغانستان میں امریکہ اور نہ ہی طالبان جنگ جیت سکتے ہیں اور کسی پوائنٹ پر امن بات چیت ہو سکتی ہے، امن بات چیت میں پاکستان طالبان کومذاکراتی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے تاہم اسے افغانستان میں حملے کرنیوالے عسکریت پسند گروپوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینا بند کرنا ہو نگی ۔ مستحکم پاکستان امریکہ اور دیگر ممالک کے مفاد میں ہے کیونکہ وہ جوہری طاقت ہے اور ہمیں اس کے ہتھیاروں کی سکیورٹی پر تحفظات ہیں۔ادھر امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ پا کستان سے متعلق حکمت عملی پچھلی امریکی انتظامیہ کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہے، اس پر جلد عمل کرینگے۔دورہ بغداد کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں انکا مزید کہنا تھا افغانستان میں مزید بھیجے جانیوالے امریکی فوجیوں کی تعداد کا فیصلہ امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کی مجوزہ تعداد سامنے آنے کے بعد کریں گے۔ادھر امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان مائیکل اینٹن نے بھی پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے اب تک پاکستان کیساتھ معاملات جس طرح جاری تھے وہ ختم ہوگئے ہیں اور امریکہ حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں او ر ان کا ساتھ دینے والے پاکستانی حکام پر پابندیاں عائد کرسکتا ہے،پاکستان حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ انہیں صدر اور انتظامیہ نے نوٹس دید یا ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ طویل عرصے سے امریکہ پاکستان کیساتھ نہایت صبر سے پیش آتا رہا ہے، تاہم ہمیں اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہورہا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان دہشت گرد گروہوں کی فعال اور براہ راست حمایت کا ذمہ دار ہے جبکہ انہوں نے بھا ر ت اور ا فغانستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر اسلام آباد کی تشویش کو بہانہ قرار دے کر خارج کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارت جو کچھ افغا نستا ن میں کررہا ہے وہ پاکستان کیلئے خطرہ نہیں، بھارت فوجی بیس قائم کررہاہے نہ اپنے فوجی تعینات کر رہا ہے کہ جس پر پاکستان شکایت کرے۔ پاکستان فیصلہ کرے وہ دہشت گردوں کا اتحادی یا امریکہ کیساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے ۔

مزید : صفحہ اول