انتخابی اصلاحات کے نام پر قائداعظم کے پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ، ڈاکٹر طاہر القادری

انتخابی اصلاحات کے نام پر قائداعظم کے پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ، ...

لاہور( ایجو کیشن رپورٹر)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے قومی اسمبلی کے پاس کردہ انتخابی اصلاحاتی بل کو ایک دھوکا اور فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چوروں پر پارلیمنٹ کے دروازے کھولنے سے ملک اور جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں ہو گی، دیانتداری کا تقاضا کرنے والی قانونی شقوں کا خاتمہ قانونی اور نظریاتی دہشت گردی ہے، حکومت کی باگ ڈور ابھی تک ایک نااہل شخص کے ہاتھ میں ہے جواپنی نااہلی کا انتقام آئین، قانون اور عوام سے لینا چاہتا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک نے دھاندلی سے پاک انتخابات اورآئین کے آرٹیکل 62اور 63کو اس کی روح کے مطابق نافذ کرنے اور امیدواروں کی اہلیت کو مذکورہ آرٹیکلز پر پرکھنے کے حوالے سے طویل سیاسی جدوجہد کی۔ جنوری 2012 ء میں لاہور سے اسلام آباد تک تاریخی لانگ مارچ کیااس لانگ مارچ کا مقصد بدعنوانوں پر پارلیمنٹ کے دروازے بند کرنا تھا ،انتخابی اصلاحات کے نام پر نااہل ٹولے نے قائداعظم کے پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، دیانتدار اور اہل پارلیمنٹرین دنیا کے ہر ملک کے عوام کا بنیادی تقاضا ہے، اسلام میں اس کی اہمیت کئی گنا زیادہ ہے، انہوں نے کہا کہ سینیٹ اس بل کو پاس نہ کرے ،انتخابات کسی ایک جماعت کا نہیں پاکستان کے کروڑوں ووٹرز اور ہر سیاسی جماعت کا معاملہ ہے، بل متفقہ پاس ہونا چاہیے تھا،مذکورہ ترامیم آئین کی روح کے خلاف ہیں کیونکہ آئین امانت اور صداقت کا تقاضا کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ بل ڈرافٹ کرنے کے ہر مرحلہ کو خفیہ رکھا گیا،میڈیا کو بھنک تک نہ پڑنے دی گئی، ہم سمجھتے ہیں کہ بل ڈرافٹ کرنے والی پارلیمانی کمیٹی میں شامل تمام اراکین قصور وار ہیں جنہوں نے قوم اور میڈیا کو اندھیرے میں رکھا۔

مزید : علاقائی