6شوگر ملوں سے 2ارب روپے کی ریکوری ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیب کو ٹاسک دیدیا

6شوگر ملوں سے 2ارب روپے کی ریکوری ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیب کو ٹاسک دیدیا

 اسلام آباد (آن لائن) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس میں وزارت تجارت کے ذیلی ادارہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان ( ٹی سی پی ) میں 2ارب کی چینی کی خریداری کے سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے ۔ حکمران طبقہ سے تعلق رکھنے والی 6شوگر ملوں نے دو ارب روپے وصول کرنے کے باوجود حکومت کو چینی فراہم ہی نہیں کی اور نہ رقم واپس کی ہے شوگر مل مافیا سے دو ارب روپے کی وصولی کا ٹاسک پی اے سی نے اب نیب کے حوالے کردیا ہے چھ شوگر ملوں میں عبداللہ شوگر مل دیپالپور ، حسیب وقاص شوگر مل ، ٹی ایم کے شوگر مل ، سیری شوگر مل اور تاندلیانوالہ شوگر مل شامل ہیں آٹھ سال قبل ان چھ شوگر ملکوں کو قومی خزانہ سے چینی کی خریداری کیلئے دو ارب روپے دیئے گئے تھے آٹھ سال گزرنے کے بعد بھی نہ چینی دی گئی ہے اور نہ رقم واپس کی گئی ہے پی اے سی کا اجلاس بدھ کے روز خورشید شاہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا اجلاس میں وزارت کامرس مالی سال 2013-14ء کا آڈت اعتراضات کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں سیکرٹری کامرس یونس ڈھاگا نے کہا کہ چھ شوگر ملوں سے دو ارب قومی دولت واپس لینے کیلئے نیب کو خط لکھا ہے سابقہ حکومت کے دور میں وزیراعظم کی صدارت میں 2008ء میں ای سی سی نے فیصلہ کیا تھا کہ چینی کا سٹاک برقرار رکھنے کیلئے چینی خریدی جائے ان چھ شوگر ملکوں کو ایڈوانس کے طور پر دو ارب روپے فراہم کئے گئے پی اے سی اراکین نے استفسار پر سیکرٹری تجارت نے کہا کہ دو ارب روپے کے عوض صرف دس فیصد کی گارنٹی حاصل کی تھی سیکرٹری تجارت نے کہا کہ دو ارب روپے کے عوض صرف دس فیصد کی گارنٹی حاصل کی تھی سیکرٹری تجارت یونس ڈھاگہ نے بتایا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران شوگر مل مالکان نے سات ملین میٹرک ٹن شوگر برآمد کی ہے اور نواز شریف حکومت نے اربوں روپے کی سبسڈی بھی دی ہے عاشق گوپانگ نے کہا کہ اربوں روپے کی سبسڈی لینے کے باوجود کاشتکاروں کے بقایا جات ادا نہیں کئے گئے اچکزئی نے کہا کہ چند شوگر ملکوں کی چینی برآمد کرنے میں اجارہ داری قائم کررکھی ہے سیکرٹری تجارت نے کہا کہ حکومت نے اب چینی کی برآمد پر سبسڈی ختم کردی ہے تاہم حکومت نے تین لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے پی اے سی نے ہدایت کی کہ مزید چینی کی خریداری پر ایڈوانس رقوم دینے کا سلسلہ فوری بند کردیا جائے وزارت کامرس کے حکام نے بتایا کہ آٹھ جون دو ہزار سترہ کو نیب کو شوگر ملوں سے دو ارب روپے واپسی بارے خط لکھا ہے تاہم اجلاس میں نیب کے نمائندہ نے خط سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے ٹی سی پی حکام نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے گزشتہ اکتوبر میں مقدمہ کی سماعت ہورہی تھی تجارت کے سیکرٹری نواز شریف حکومت نے چینی برآمد کرنے کا اب کوٹہ دینے کا اختیار سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس ہے سٹیٹ بینک ہی ملوں کو برپمدی کوٹہ الاٹ کرتا ہے اور ہر مل اس کے لئے درخواست دے سکتی ہے پی اے سی نے وزارت تجارت کو حکم دیا کہ وہ گزشتہ چار سالوں کے دوران حکومت سے سبسڈی لینے والی شوگر ملکوں اور چینی برآمد کرنے والی شوگر ملوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ حکومت ہر شوگر مل کو چینی برآمد کرنے کی اجازت نہیں دیتی پی اے سی اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ ہمایوں اختر خان کی ملکیتی تاندلیانوالہ شوگرمل کے ذمہ ایک ارب سولہ کروڑ سے زائد ہے ٹی ایم کے شوگر مل کے ذمہ 63 کروڑ عبداللہ شوگر مل دونوں یونٹوں کے ذمہ ساٹھ کروڑ روپے ہے شریف خاندان کی ملکیتی شوگر مل حسیب وقاص کے ذمہ بارہ کروڑ روپے ہے سیری شوگر مل کے ذمہ ڈیڑھ کروڑ روپے ہے آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ ٹی سی پی پانچ ارب روپے مختلف سرکاری اداروں سے وصول کرتے ہیں ناکام ہوا ہے جبکہ ایکسپو سنٹر لاہور میں سترہ کروڑ مالیت کے چیلر سیکنڈل کے بارے میں تمام متعلقہ ریکارڈ بھی پی اے سی نے طلب کرلیا ہے۔

شوگر ملز

مزید : علاقائی