ٹرمپ کے بیان پر سول اور ملٹری قیادت کو ایک پیج پر آنا چاہئے : عمران خان

ٹرمپ کے بیان پر سول اور ملٹری قیادت کو ایک پیج پر آنا چاہئے : عمران خان

 اسلام آباد(صباح نیوز)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی جانب سے امریکی الزام پر کسی قسم کا رد عمل نہ دینے پر افسوس ہوا ،ٹرمپ نے پاکستان کودھمکیاں دی ہیں حالانکہ انہیں افغان جنگ کی سمجھ ہی نہیں ہے، ٹرمپ کے بیان پرسول اور ملٹری قیادت کو ایک پیج پر آنا چاہئے، امریکہ یاد رکھے کہ پاکستانی حکومت، فوج اور قوم متحد ہے، قربانیاں پاکستان نے دیں اور تعریف بھارت کی ہو رہی ہے اس معاملے پر پارلیمینٹ میں آواز اٹھا ؤں گا۔ نواز شریف نے امریکہ کو پیغام دیا تھا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن فوج نہیں مانتی، ہماری سیاسی قیادت ڈری ہوئی ہے اس لئے آرمی چیف کو بیان دینا پڑا ،پاکستان میں افغانستان اوربھارت سے دہشت گردی ہورہی ہے جبکہ الٹا ہمیں قصوروار ٹھہرایا جارہا ہے، ڈان لیکس اور میمو گیٹ کا مقصد فوج کو سویلین حکومت سے علیحدہ کرنا تھا ،امریکا نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر نظر لگا رکھی ہے، پاکستانی علاقے میں امریکی آگئے تو اس کے پیشگی اثرات پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور نئے وزیراعظم کو نواز شریف کی فکر کے بجائے امریکا سے متعلق اتفا ق رائے پیدا کرنا چاہیے۔ بنی گالہ میں گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاکہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی جانب سے امریکی الزام پر کسی قسم کا رد عمل نہ دینے پر بہت افسوس ہوا ہے جبکہ چین نے پاکستان کی قربانیوں پر ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے پاکستان کودھمکیاں دی ہیں انہیں افغان جنگ کی سمجھ ہی نہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہم کو امریکا کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں شریک ہونے کی ضرورت نہیں تھی، سب سے پہلے میں نے کہا تھا کہ ہمیں اس جنگ میں نہیں جانا چاہیے، امریکا کے کہنے پر ہم نے اس ملک میں تباہی مچائی اور 70ہزار پاکستانی اس جنگ میں شہید ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا100ارب کا نقصان کاہوا، ہماری فوج کی قربانیوں کو بھی تسلیم نہیں کیاگیا جبکہ امریکا نے ہمارے اوپر دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزام لگا دیا اور بھارت کو افغانستان میں ٹھیکے دار بنا دیا، امریکا درحقیقت بھارت کی زبان بول رہا ہے۔ نائن الیون میں پاکستان کا کوئی شہری ملوث نہیں تھا اس لئے پاکستان کو اس جنگ میں شرکت کی ضرورت ہی نہیں تھی تاہم امریکہ کے کہنے پر ہم نے افغانستان میں فوج بھیجی جبکہ دہشتگردی سے ہمارے علاقے اور معیشت تباہ ہوئی، ہماری فوج کے جوانوں اور افسروں نے جانوں کی قربانیاں دیں۔عمران خان نے کہا کہ بھارت کا اس جنگ میں کوئی کردار ہی نہیں، بھارت کی تعریف اور پاکستان پر الزام تراشی کی جا رہی ہے، پوری قوم کو ٹرمپ کے اس اقدام کی مذمت کرنی چاہئے، نیٹو کے ڈیڑھ لاکھ فوجی افغانستان کو کنٹرول نہیں کر سکے حالانکہ ان کے پاس ہر قسم کا اسلحہ اور سہولیات موجود تھیں۔ چیئرمین تحریک انصاف نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے 7لاکھ فوجی کشمیر پر مسلط کر رکھے ہیں، بھارتی تسلط کے باوجود کشمیری آزادی مانگ رہے ہیں، امریکہ کو افغانستان میں قیامِ امن کیلئے پاکستان کی ضرورت ہے۔عمران خان نے مطالبہ کیا کہ ٹرمپ کے بیان پر پارلیمینٹ کا مشترکہ سیشن بلایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی قیادت ڈری ہوئی ہے اس لئے آرمی چیف کو بیان دینا پڑا جبکہ آرمی چیف کا بیان اس لئے آیا کہ ملک میں بڑا خلا ہے۔عمران خان نے کہا کہ امریکا نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر نظر لگا رکھی ہے، امریکی پاکستان کے علاقے میں آگئے تو اس کے پیشگی اثرات پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور نئے وزیراعظم کو نواز شریف کی فکر کے بجائے امریکا سے متعلق اتفا ق رائے پیدا کرنا چاہیے عمران خان نے کہا کہ ایک ہوکر امریکی صدر کو جواب دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 'وزیراعظم کوچاہیے کہ وہ امریکا کو سخت پیغام دے اور اس حوالے سے پوری قوم ایک ہے اور اکٹھی ہوجائے گی۔

مزید : علاقائی